ابوظہبی ٹیسٹ فتح کا سنہری موقع ہاتھ سے نکل گیا

تہلکہ خیز بولرز کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی

تہلکہ خیز بولرز کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی۔ فوٹو : فائل

پاکستان کرکٹ ٹیم نے گزشتہ سال کے آغاز میں دورۂ جنوبی افریقہ کے دوران شکستوں کو گلے لگایا، پھر پورا سال کارکردگی میں تسلسل کا فقدان نظر آتا رہا اور تو اور زمبابوے جیسی کمزور ٹیم بھی جان کو آگئی۔

عبوری انتظامات کے تحت چلائے جانے والے کرکٹ بورڈ میں مسائل کے انبار بھی نظر آئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلسل زوال آمادہ ٹیم نے یو اے ای میں سازگار کنڈیشنز میں بھی بدترین شکستوں کے بعد دورۂ جنوبی افریقہ میں ہی بہتری کے سفر کا آغاز کیا۔ ٹیم کے مزاج میں تبدیلی کی لہر نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کی بدولت آئی جس کے بعد مسلسل پریشانیوں کا شکار رہنے والے سینئرز بھی اپنے خول سے باہر نکل آئے۔ تازہ ترین مثال محمد حفیظ کی ہے جن کو ڈبل اسٹین فوبیا نے اتنا زچ کیا کہ ان کا کیریئر ہی داؤ پر لگ چکا تھا، سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز میں انہوں نے تین سنچریوں سمیت 149.33 کی قابل رشک اوسط سے ظہیر عباس کا ریکارڈ برابر کیا اور مین آف دی سیریز ایوارڈ حاصل کرکے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا پروانہ بھی حاصل کیا۔

احمد شہزاد سال کے دوران متعدد بار اچھی اننگز کھیل کر پاکستان ٹیم میں اوپننگ کا خلاء پُر کرتے نظر آئے۔ جنوبی افریقہ میں تیز اور باؤنسی وکٹوں پر ان کی کارکردگی میں مزید نکھار نظر آیا، اعتماد میں اضافے کا یہ سفر آئی لینڈرز کے خلاف سیریز میں بھی جاری رہا۔ انہوں نے ایک سنچری سمیت 55.40 کی اوسط سے رنز بناتے ہوئے دوسرے کامیاب بیٹس مین کے طور پر اپنا نام درج کروایا۔ صہیب مقصود نے ابتداء میں غیر محتاط انداز میں وکٹیں گنوانے کے بعد سبق سیکھا اور 73 کی اننگز کھیل کر ثابت کیا کہ مزید محنت اور ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کریں تو آنے والے وقتوں میں پاکستان کرکٹ کا اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسی ہی صلاحیتوں کے مالک شرجیل خان بھی ہیں، ان کی بیٹنگ سے اعتماد جھلکتا ہے لیکن چند تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، وہ اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے، تاہم ابھی کیریئر کا آغاز ہے۔

کوچنگ سٹاف اور سینئر کھلاڑیوں کی مدد سے اپنے چند مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تو طویل عرصہ تک پاکستان کی خدمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عمر اکمل کو ون ڈے سیریز میں زیادہ بیٹنگ کا موقع نہیں مل سکا۔ ٹاپ آرڈر کی بہتر کارکردگی نے زیادہ تر شاہد آفریدی کو پہلے بھیجنے کی حوصلہ افزائی کی، خوش آئند بات یہ ہے کہ انہوں نے مایوس نہیں کیا۔ جارح مزاح بیٹسمین کی فارم میں واپسی پاکستان کی ورلڈ کپ مہم میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مڈل آرڈر کے بعد کم گیندوں میں زیادہ رنز بنانے سے ہی حریف کو بڑا ہدف دینے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے، اس کردار کے لیے عمر اکمل اور آفریدی کو تیا ر کرنا بہتر ہوگا۔ مصباح الحق نے سیریز کے دوران زیادہ بیٹنگ نہیں کی، تاہم حسب روایت بحرانی صورتحال میں کھیلنے کے لیے آئے تو اپنے ٹیلنٹ سے انصاف کیا، آئی لینڈرز کے خلاف سیریز میں بیٹسمینوں کا سکور کرنا پاکستان کے لیے نیک شگون ہے، تاہم یہ کارکردگی مختلف ٹرف اور کنڈیشنز میں برقرار رکھنے کے لیے ابھی سے تیاری کرنا چاہیے۔

پاکستان نے سری لنکا کے خلاف رنز کے ڈھیر تو لگائے تاہم کئی مواقع پر بولرز بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے حریف بیٹنگ لائن کے آگے پل باندھنے میں ناکام رہے، اضافی کمک کے طور پر عمرگل کو روانہ کیا گیا، انہوں نے پہلے دو میچز میں تو آئی لینڈرز کو پریشان کیا، تاہم سیریز کے پانچویں اور آخری میچ میں میدان میں فٹ نظر نہ آئے۔ اس کے بعد انہوں نے میچ کے فیصلہ کن لمحات میں پھینکے گئے اوور میں جس طرح مار کھائی، اس نے کھیل کا نقشہ ہی بدل دیا۔ مشکوک فٹنس کے باوجود ان کو ٹیسٹ سکواڈ میں شامل کرنے کا حیران کن فیصلہ کیا گیا۔ پھر بلاول بھٹی کو طویل فارمیٹ میں ڈیبیو کا موقع دے کر ان کو گھر کا راستہ بھی دکھا گیا گیا۔ ان فٹ شعیب ملک اور عبدالرزاق کو دورہ جنوبی افریقہ کے لیے گرین سگنل دینے والے ڈاکٹر کی نوکری گئی۔ اس فیصلے کے ذمہ داروں کو سزا کون دے گا؟ بورڈ حکام ہی اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کے پاس تجربات کا زیادہ وقت باقی نہیں۔ ایشیا کپ کے بعد ٹیم کی مصروفیات بھی اتنی نہیں کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچی جائے۔ بہتر ہوگا کہ مختصر ٹورز طے کرکے میچ پریکٹس اور پلاننگ دونوں مرحلے ساتھ ساتھ مکمل کر لیے جائیں۔

کوچ ڈیو واٹمور کی رخصتی کا وقت قریب آگیا، ان کا خلاء پُر کرنے کے لیے دیسی کوچ لانے کے لیے راہ بھی ہموار ہو چکی۔ ماضی کی طرح اس باربھی امیدواروں کی لائن موجود ہوگی۔ سفارشوں کی بھرمار بھی نظر آئے گی۔ دوسری طرف پی سی بی کی عبوری کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی بڑے فیصلوں کا اختیار نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔ ایک بار پھر انہوں نے امید ظاہر بھی کر دی ہے کہ عدالت رواں ماہ ہاتھ کھول دے گی جس کے بعد کوچ کی تقرری کم از کم دو سال کے لیے کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس فیصلے کے لیے انہیں اپنی ہی بنائی عبوری کمیٹی کے ارکان کی حمایت بھی حاصل ہوگی۔دوسری طرف پی سی بی کا انتخابی عمل مکمل نظر نہیں آتا۔ نجانے کتنی دیر تک معاملات یونہی ہوا میں معلق رہیں گے۔




ڈیو واٹمور کے دور میں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان ٹیم کسی ایک سیریز میں بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ زمبابوے کے خلاف بھی یہ منزل نہ پائی جا سکی۔ کوچ کی آخری سیریز میں پہلی کامیابی کے لیے کوشاں مصباح الحق الیون ابوظہبی ٹیسٹ میں برتری حاصل کرنے کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔ پہلی اننگز میں برتری کے باوجود بولرز آئی لینڈرز پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ پیس بیٹری بے جان نظر آئی تو سعید اجمل کا جادو بھی نہ چل سکا۔ عام طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں میچ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے، پچ کی شکست و ریخت بیٹس مینوں کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ میچ کے تیسرے روز اختتامی لمحات میں پاکستانی بولرز نے اہم مہرے کھسکا کر فتح کی امید جگا دی تھی لیکن پہلی اننگز میں تباہی پھیلانے والے پیسرز جنید خان اور بلاول بھٹی انجیلو میتھیوز کی دیوار گرانے میں ناکام رہے۔

کپتان نے نہ صرف چوتھے روز سنچری اننگز سے میزبان ٹیم کے تمام حربے ناکام بنائے بلکہ آخری روز تیز رفتاری سے رنز سکور کرتے ہوئے پاکستان کو فتح کی منزل سے کوسوں دور کر دیا۔ ون ڈے سیریز کی طرح پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستان کو کسی مہلک ہتھیار کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ صرف دو وکٹوں کا جلد حصول، نتیجہ مصباح الحق الیون کے حق میں کر سکتا تھا لیکن طویل جدوجہد کے باوجود کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ راحت علی کو ٹیسٹ ٹیم کا لازمی حصہ تصور کر لیا گیا ہے لیکن ان کی بولنگ میں وہ کاٹ نظر نہیں آتی جو حریف بیٹنگ لائن کی صفوں میں دراڑ ڈال سکے۔ بلاول بھٹی میں جوش زیادہ ہوش کم نظر آتا ہے۔ انہیں ٹرف کا مزاج اور ٹیم کی پلاننگ کے مطابق بولنگ کا ہنر سیکھنے کے لیے خاصی محنت کرنا ہوگی۔

محمد عرفان اور عمر گل کی فٹنس قابل اعتبار نہیں، ان کے ماضی کو دیکھا جائے تو ٹیسٹ کرکٹ میں دونوں کو آزمانا کیریئر محدود کر دینے کے مترادف ہوگا۔ شاید یہی سوچ کر پی سی بی نے عمر گل کو وطن واپس بلا لیا ہے کہ ان کو غیر محتاط انداز میں آزمایا گیا تو شاید پاکستان کی ورلڈ ٹوئنٹی 20 چیمپئن شپ میں مہم مزید کمزور ہو جائے گی۔ موجودہ صورتحال میں فیصلہ غلط نہیں لیکن تینوں فارمیٹ خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے نیا ٹیلنٹ تلاش اور گروم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ محمد طلحہ کئی سال سے ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور اس وقت سکواڈ کے ساتھ بھی موجود ہیں۔ ان کوراحت علی کی جگہ آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ محمد حفیظ اور احمد شہزاد نے ابوظہبی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پراعتماد بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں قدم جمانے شروع کردیئے ہیں۔ نوجوان اوپنرکی مزاج میں تبدیلی ایک پختہ کاربیٹسمین کی کمی پوری ہونے کی نوید سنارہی ہے۔ مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ان کو ذہنی اور تکنیکی مضبوط بنانے کے لیے مزید محنت کرنا ہوگی۔ مصباح الحق اور یونس خان کا تجربہ اکیلے پوری ٹیم کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ سب کو ذمہ داری لینا ہوگی۔

ایشیا کپ کے ڈھاکہ میں ہی انعقاد کا فیصلہ پاکستان کو امتحان میں ڈال گیا ہے۔ اے سی سی حکام تو بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے حکام کی بریفنگ سے مطمئن ہوگئے ہیں۔پی سی بی نے بھی ایشین باڈی کے فیصلے پر کاربند ہونے کا اشارہ دے دیا تھا لیکن ساتھ ہی ایک بات یہ بھی کہہ دی تھی کہ اپنی حکومت سے اجازت بھی لیں گے۔ پاکستان مخالف مظاہروں کے بعد قومی ٹیم کی شمولیت دیگر ملکوں کی نسبت سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے، بنگلہ دیش میں سکیورٹی وجوہات کو بنیاد بنا کر دورہ کرنے سے انکار کیا اس پر کوئی محاذآرائی نہ کی جائے تو بھی نازک صورتحال میں سوچ سمجھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

abbas.raza@express.com.pk
Load Next Story