اعصام الحق نے نئے سال میں گرینڈ سلم ٹائٹل ہدف بنا لیا
ٹینس اسٹار شاندار کارکردگی سے 78 عالمی ٹائٹلز کی تعداد میں اضافے کے لیے پرعزم
ٹینس اسٹار شاندار کارکردگی سے 78 عالمی ٹائٹلز کی تعداد میں اضافے کے لیے پرعزم۔ فوٹو : فائل
کہتے ہیں کہ انسان مال و دولت کے انبار لگانے سے نہیں بلکہ اپنے کارناموں سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔
اب تک نہ جانے کتنے لوگ آئے اور مٹی میں مٹی ہو گئے لیکن ان اربوں انسانوں کی اس بھیڑ میں ان لوگوں کے نام اب بھی زندہ و تابندہ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیئے۔ ملک و قوم کے لیے کارنامے سرانجام دینے والوں میں ایک نام ٹینس اسٹار عصام الحق کا بھی ہے جو گزشتہ دو عشروں سے اپنے کھیل کے ذریعے دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم سربلند کرنے میں کوشاں ہیں۔ اعصام انٹرنیشنل سرکٹ میں اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں۔ انہوں نے کامیابیوں کا سفر طویل کرتے ہوئے عالمی رینکنگ میں چھٹی پوزیشن پر قبضہ جما رکھا ہے۔ سٹار پلیئر کی بڑی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے کئی نوجوان ان کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگے ہیں اوران میں بھی ٹینس میں اپنا نام بنانے کیلئے ایک نیا جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے۔
اعصام الحق نے آنکھ کھولی تو گھر کے ہر فرد کو ٹینس کا دیوانہ پایا۔ ان کے نانا خواجہ افتخار تقسیم برصغیر پاک و ہند سے قبل ٹینس کے ممتازکھلاڑی تھے، وہ 10 برس تک ملکی چیمپئن بھی رہے۔ ان کے بعد اعصام الحق کی والدہ مسز نوشین احتشام کو بھی اس کھیل سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ وہ بھی 10 برس تک پاکستان نمبر ون پلیئر رہیں۔ بہن شیزا بھی پاکستان کی سرفہرست کھلاڑی رہ چکی ہیں۔ گھر میں ٹینس کا ماحول ہونے کے باوجود ابتدا میں اعصام الحق کو اس کھیل سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، وہ پڑھائی کے بعد اپنا زیادہ تر وقت فٹبال اور کرکٹ کھیلنے میں گزارتے تھے، تاہم بعدازاں انہوں نے والدہ کی خواہش پر ٹینس کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میدان میں چھا گئے۔ انہوں نے پاکستان ٹینس فیڈریشن کی سرپرستی کے بغیر اپنا سفر جاری رکھا اور اپنی مدد آپ کے تحت ملکی و غیر ملکی سطح پر ہونے والے جونیئر مقابلوں میں شرکت کرتے ہوئے اپنی قابلیت کی دھاک بٹھائی۔ان کو عالمگیر شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 2007ء میں پہلی بار ومبلڈن ٹورنامنٹ کے لئے کوالیفائی کیا۔
ایسا کرنا یقینی طور پر تیسری دنیا کے ایک کھلاڑی کے لئے ممکن نہ تھا لیکن انہوں نے اپنی مسلسل محنت سے وہ کر دکھایا جس کا نوجوان صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی تھے۔ آخری بار ومبلڈن کے دوسرے راؤنڈ کے لئے کوالیفائی کرنے والے پاکستانی کھلاڑی ہارون رحیم تھے، اس سے قبل اعصام الحق کے نانا خواجہ افتخار نے جو خود غیر منقسم ہندوستان کے قومی چیمپئن تھے، ومبلڈن کے دوسرے مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی۔ ومبلڈن اوپن میں اعصام کو دوسرے راؤنڈ میں سابق عالمی نمبر ایک روس کے مراٹ سافن سے سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں ان کی پری کوارٹر فائنل میں عالمی چیمپئن راجر فیڈرر کے خلاف کھیلنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی، تاہم اعصام نے اس ہار سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے مزید محنت کی اور کچھ ہی عرصہ کے بعد نہ صرف ان کے خلاف ایکشن میں دکھائی دیئے بلکہ ڈبلز مقابلے میں راجر فیڈرر کو شکست سے دوچار بھی کیا۔اس میچ میں اعصام الحق کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے راجر فیڈرر کا کہنا تھا کہ اس پاکستانی کھلاڑی کا مستقبل تابناک ہے۔
اعصام الحق ان دنوں آسٹریلیا میں موجود ہیں اور اپنے بھارتی ساتھی کھلاڑی روہن بھوپننا کے ساتھ 14 جنوری سے شروع ہونے والی آسٹریلیا اوپن جیتنے کے لئے پر امید ہیں،ان کی ماضی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعصام الحق پیرس انڈور چیمپئن شپ، میامی ماسٹر، سٹاک ہوم اوپن، پرتگال اوپن، جنوبی افریقہ اوپن سمیت اب تک مجموعی طور پر 78 میڈلز اپنے نام کر چکے ہیں، انہیں فرنچ اوپن میں سیمی فائنل اور ومبلڈن اوپن کے کوارٹر فائنل کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس سے قبل یوایس اوپن کے مینز اورمکسڈ ڈبلز ایونٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کر کے اعصام نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ وہ گرینڈ سلم کے ٹائٹلز اپنے نام کر کے قوم کو عید کا تحفہ دینا چاہتے تھے لیکن انہیں مکسڈ ڈبلز میں چیک پارٹنر کویٹا کے ساتھ کھیلتے ہوئے باب برائن اور لیزل ہیوبر پر مشتمل جوڑی سے شکست ہوئی جبکہ مینز ڈبلز میں باب اور برائن نے انہیں اور بھارتی ساتھی روہن بھوپنا کو ٹائٹل نہ جیتنے دیا۔ فائنل میں ہار کے باوجود اعصام اور روہن بھوپنا نے کیریئر میں پہلی بار چھٹی پوزیشن حاصل کی، اس سے قبل وہ پندرہویں نمبر پرتھے۔ اعصام الحق کی ٹیم رینکنگ میں موجودہ رینکنگ چھٹی ہے جبکہ ڈبلز مقابلوں میں وہ عالمی درجہ بندی میں 15ویں نمبر پر ہیں۔
حال ہی میں اعصام الحق نے لاہور میں شیڈول قومی ٹینس چیمپئن میں 7 سال کے عرصہ کے بعد ڈومیسٹک سطح پر ہونیو الے ایونٹ میں حصہ لیا، اس موقع پر ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش کروں گا کہ ماضی کی طرح 2014ء میں بھی اپنے کھیل سے ملک کا نام روشن کر سکوں، ان کا کہنا تھا کہ نئے سال میںگرینڈ سلم جیتنا میرا ہدف ہے۔ ان کی رائے میں جب میں عالمی سطح پر فتح حاصل کر سکتا ہوں تو ہر پاکستانی بھی اپنے اپنے شعبے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔اعصام الحق کے مطابق جب بھی سوچیں ملک کا سوچیں۔ اپنے ساتھی کھلاڑی کے حوالے سے اعصام کا کہنا ہے کہ میری اور روہن بھوپنا کی جوڑی سے قبل کسی بھی کھیل میں روایتی حریف ممالک کے شائقین اور سفیروں نے کبھی کسی ٹیم کو مل کر سپورٹ نہیں کیا۔
مایہ ناز ٹینس سٹار نے کہا کہ ملک بھر میں اکیڈیمز بنا کر اس کھیل کو پروموٹ کیا جاسکتا ہے۔ اعصام الحق کے والد احتشام الحق قریشی کا کہنا ہے کہ بلاشبہ میرے بیٹے نے ٹینس کے میدان میں عالمی سطح پر بڑی فتوحات حاصل کی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اس نے اتنا بڑا کام نہیں کیا جتنا کہ قوم کی محبت نے اسے بڑا بنا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اعصام الحق بھر پور فٹ اور آنے والے وقت میں اپنے کھیل سے پاکستان کو مزید کئی بار خوشخبری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی کھلے دل کے لوگ ہوتے ہیں اور لوگوں میں محبت بانٹتے ہیں۔ والدہ نوشین احتشام کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کوجتنا قوم نے سپورٹ کیا ہے اس پر میں ان کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اعصام کی اب تک کی کامیابیاں میرے بیٹے کی ہی نہیں پوری قوم کی کامیابیاں ہیں۔
کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل اور اس میں چند بڑی کامیابیاں بھی ہمارے حصے میں آئی ہیں۔ نہ جانے کیوں ، ہماری حکومتیں شروع سے انفرادی سطح پر کھیلے جانے والے سکواش، کشتی، پہلوانی، جوڈو، کشتی رانی، کراٹے، سنوکر، سوئمنگ، رائفل شوٹنگ اور اتھلیٹکس و دیگر لا تعداد کھیلوں کو چھوڑ کر کرکٹ کے پیچھے کیوں لگی ہوئی ہے، کیوں کرکٹرز کو ہی سر آنکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے، صدقے واری جایا جا رہا ہے، ان کے ناز نخرے اٹھائے جا رہے ہیں، دولت کے خزانے لٹائے جا رہے ہیں۔ جب یہ سوال اٹھتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ کرکٹ ہی نہیں، پاکستان کی سرزمین پر سب کھیل ہوتے ہیں، چلو مان لیتے ہیں کہ یہاں سب کھیل ہوتے ہیں لیکن ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان گیمز کیا حشر ہوتا ہے، قومی کھیل کو ہی لے لیں، ہاکی نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک اتنے میڈلز قوم کی جھولی میں ڈالے ہیں کہ سب کھیل مل کر بھی اس ہدف کو عبور نہیں کر سکے لیکن ہاکی کے کھلاڑیوں کا یہ حال ہے کہ گزشتہ 18 ماہ سے سنٹرل کنٹریکٹ ہی حاصل نہیں کر سکے۔
کیا ہم شہرہ آفاق سکواش کھلاڑیوں جہانگیر خان اور جان شیر خان کی ملک وقوم کے لئے دی جانے والی خدمات کو فراموش کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو پھر انٹرنیشنل ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں بھلا دیا گیا ہے۔ سابق ورلڈ سنوکر چیمپئن محمد یوسف کو چند روز تک کندھوں پر بٹھائے رکھنے کے بعد بے یارو مددگار کیوں چھوڑ دیا گیا۔ ایک اور فاتح محمد آصف کے ٹیلنٹ کو کیوں نہیں بھانپ سکے کہ اسے مانگ تانگ کر میگا ایونٹ میں شرکت کے لئے سفر کا سامان کرنا پڑا اور ان سے کئے گئے وعدے حکومت نے کیوں پورے نہ کئے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تودوسرے کھیلوں کی طرح پاکستان ٹینس کا حال زیادہ اچھا نہیں، کوئی غریب آدمی اس مہنگے کھیل کی طرف آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بھارت کی نسبت پاکستان میں اس کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر اسے عروج تک لے جانے کے لئے اس کی رسائی عام طبقے تک کرنی ہوگی، ظاہر ہے کہ حکومتی سرپرستی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے۔ پورے ملک میں ٹینس کورٹس کے جال بچھائے جائیں جس سے کھیل کو فروغ حاصل ہوگا۔
mian.asghar@express.com.pk
اب تک نہ جانے کتنے لوگ آئے اور مٹی میں مٹی ہو گئے لیکن ان اربوں انسانوں کی اس بھیڑ میں ان لوگوں کے نام اب بھی زندہ و تابندہ ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں بڑے بڑے کارنامے سرانجام دیئے۔ ملک و قوم کے لیے کارنامے سرانجام دینے والوں میں ایک نام ٹینس اسٹار عصام الحق کا بھی ہے جو گزشتہ دو عشروں سے اپنے کھیل کے ذریعے دنیا بھر میں سبز ہلالی پرچم سربلند کرنے میں کوشاں ہیں۔ اعصام انٹرنیشنل سرکٹ میں اپنی الگ پہچان بنا چکے ہیں۔ انہوں نے کامیابیوں کا سفر طویل کرتے ہوئے عالمی رینکنگ میں چھٹی پوزیشن پر قبضہ جما رکھا ہے۔ سٹار پلیئر کی بڑی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے کئی نوجوان ان کو اپنا آئیڈیل سمجھنے لگے ہیں اوران میں بھی ٹینس میں اپنا نام بنانے کیلئے ایک نیا جوش و جذبہ دیکھا جا رہا ہے۔
اعصام الحق نے آنکھ کھولی تو گھر کے ہر فرد کو ٹینس کا دیوانہ پایا۔ ان کے نانا خواجہ افتخار تقسیم برصغیر پاک و ہند سے قبل ٹینس کے ممتازکھلاڑی تھے، وہ 10 برس تک ملکی چیمپئن بھی رہے۔ ان کے بعد اعصام الحق کی والدہ مسز نوشین احتشام کو بھی اس کھیل سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ وہ بھی 10 برس تک پاکستان نمبر ون پلیئر رہیں۔ بہن شیزا بھی پاکستان کی سرفہرست کھلاڑی رہ چکی ہیں۔ گھر میں ٹینس کا ماحول ہونے کے باوجود ابتدا میں اعصام الحق کو اس کھیل سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی، وہ پڑھائی کے بعد اپنا زیادہ تر وقت فٹبال اور کرکٹ کھیلنے میں گزارتے تھے، تاہم بعدازاں انہوں نے والدہ کی خواہش پر ٹینس کی دنیا میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میدان میں چھا گئے۔ انہوں نے پاکستان ٹینس فیڈریشن کی سرپرستی کے بغیر اپنا سفر جاری رکھا اور اپنی مدد آپ کے تحت ملکی و غیر ملکی سطح پر ہونے والے جونیئر مقابلوں میں شرکت کرتے ہوئے اپنی قابلیت کی دھاک بٹھائی۔ان کو عالمگیر شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 2007ء میں پہلی بار ومبلڈن ٹورنامنٹ کے لئے کوالیفائی کیا۔
ایسا کرنا یقینی طور پر تیسری دنیا کے ایک کھلاڑی کے لئے ممکن نہ تھا لیکن انہوں نے اپنی مسلسل محنت سے وہ کر دکھایا جس کا نوجوان صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی تھے۔ آخری بار ومبلڈن کے دوسرے راؤنڈ کے لئے کوالیفائی کرنے والے پاکستانی کھلاڑی ہارون رحیم تھے، اس سے قبل اعصام الحق کے نانا خواجہ افتخار نے جو خود غیر منقسم ہندوستان کے قومی چیمپئن تھے، ومبلڈن کے دوسرے مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی۔ ومبلڈن اوپن میں اعصام کو دوسرے راؤنڈ میں سابق عالمی نمبر ایک روس کے مراٹ سافن سے سخت مقابلے کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں ان کی پری کوارٹر فائنل میں عالمی چیمپئن راجر فیڈرر کے خلاف کھیلنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی، تاہم اعصام نے اس ہار سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے مزید محنت کی اور کچھ ہی عرصہ کے بعد نہ صرف ان کے خلاف ایکشن میں دکھائی دیئے بلکہ ڈبلز مقابلے میں راجر فیڈرر کو شکست سے دوچار بھی کیا۔اس میچ میں اعصام الحق کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے راجر فیڈرر کا کہنا تھا کہ اس پاکستانی کھلاڑی کا مستقبل تابناک ہے۔
اعصام الحق ان دنوں آسٹریلیا میں موجود ہیں اور اپنے بھارتی ساتھی کھلاڑی روہن بھوپننا کے ساتھ 14 جنوری سے شروع ہونے والی آسٹریلیا اوپن جیتنے کے لئے پر امید ہیں،ان کی ماضی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اعصام الحق پیرس انڈور چیمپئن شپ، میامی ماسٹر، سٹاک ہوم اوپن، پرتگال اوپن، جنوبی افریقہ اوپن سمیت اب تک مجموعی طور پر 78 میڈلز اپنے نام کر چکے ہیں، انہیں فرنچ اوپن میں سیمی فائنل اور ومبلڈن اوپن کے کوارٹر فائنل کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ اس سے قبل یوایس اوپن کے مینز اورمکسڈ ڈبلز ایونٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کر کے اعصام نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ وہ گرینڈ سلم کے ٹائٹلز اپنے نام کر کے قوم کو عید کا تحفہ دینا چاہتے تھے لیکن انہیں مکسڈ ڈبلز میں چیک پارٹنر کویٹا کے ساتھ کھیلتے ہوئے باب برائن اور لیزل ہیوبر پر مشتمل جوڑی سے شکست ہوئی جبکہ مینز ڈبلز میں باب اور برائن نے انہیں اور بھارتی ساتھی روہن بھوپنا کو ٹائٹل نہ جیتنے دیا۔ فائنل میں ہار کے باوجود اعصام اور روہن بھوپنا نے کیریئر میں پہلی بار چھٹی پوزیشن حاصل کی، اس سے قبل وہ پندرہویں نمبر پرتھے۔ اعصام الحق کی ٹیم رینکنگ میں موجودہ رینکنگ چھٹی ہے جبکہ ڈبلز مقابلوں میں وہ عالمی درجہ بندی میں 15ویں نمبر پر ہیں۔
حال ہی میں اعصام الحق نے لاہور میں شیڈول قومی ٹینس چیمپئن میں 7 سال کے عرصہ کے بعد ڈومیسٹک سطح پر ہونیو الے ایونٹ میں حصہ لیا، اس موقع پر ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش کروں گا کہ ماضی کی طرح 2014ء میں بھی اپنے کھیل سے ملک کا نام روشن کر سکوں، ان کا کہنا تھا کہ نئے سال میںگرینڈ سلم جیتنا میرا ہدف ہے۔ ان کی رائے میں جب میں عالمی سطح پر فتح حاصل کر سکتا ہوں تو ہر پاکستانی بھی اپنے اپنے شعبے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔اعصام الحق کے مطابق جب بھی سوچیں ملک کا سوچیں۔ اپنے ساتھی کھلاڑی کے حوالے سے اعصام کا کہنا ہے کہ میری اور روہن بھوپنا کی جوڑی سے قبل کسی بھی کھیل میں روایتی حریف ممالک کے شائقین اور سفیروں نے کبھی کسی ٹیم کو مل کر سپورٹ نہیں کیا۔
مایہ ناز ٹینس سٹار نے کہا کہ ملک بھر میں اکیڈیمز بنا کر اس کھیل کو پروموٹ کیا جاسکتا ہے۔ اعصام الحق کے والد احتشام الحق قریشی کا کہنا ہے کہ بلاشبہ میرے بیٹے نے ٹینس کے میدان میں عالمی سطح پر بڑی فتوحات حاصل کی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اس نے اتنا بڑا کام نہیں کیا جتنا کہ قوم کی محبت نے اسے بڑا بنا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اعصام الحق بھر پور فٹ اور آنے والے وقت میں اپنے کھیل سے پاکستان کو مزید کئی بار خوشخبری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی کھلے دل کے لوگ ہوتے ہیں اور لوگوں میں محبت بانٹتے ہیں۔ والدہ نوشین احتشام کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کوجتنا قوم نے سپورٹ کیا ہے اس پر میں ان کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اعصام کی اب تک کی کامیابیاں میرے بیٹے کی ہی نہیں پوری قوم کی کامیابیاں ہیں۔
کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل اور اس میں چند بڑی کامیابیاں بھی ہمارے حصے میں آئی ہیں۔ نہ جانے کیوں ، ہماری حکومتیں شروع سے انفرادی سطح پر کھیلے جانے والے سکواش، کشتی، پہلوانی، جوڈو، کشتی رانی، کراٹے، سنوکر، سوئمنگ، رائفل شوٹنگ اور اتھلیٹکس و دیگر لا تعداد کھیلوں کو چھوڑ کر کرکٹ کے پیچھے کیوں لگی ہوئی ہے، کیوں کرکٹرز کو ہی سر آنکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے، صدقے واری جایا جا رہا ہے، ان کے ناز نخرے اٹھائے جا رہے ہیں، دولت کے خزانے لٹائے جا رہے ہیں۔ جب یہ سوال اٹھتا ہے تو جواب ملتا ہے کہ کرکٹ ہی نہیں، پاکستان کی سرزمین پر سب کھیل ہوتے ہیں، چلو مان لیتے ہیں کہ یہاں سب کھیل ہوتے ہیں لیکن ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ان گیمز کیا حشر ہوتا ہے، قومی کھیل کو ہی لے لیں، ہاکی نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک اتنے میڈلز قوم کی جھولی میں ڈالے ہیں کہ سب کھیل مل کر بھی اس ہدف کو عبور نہیں کر سکے لیکن ہاکی کے کھلاڑیوں کا یہ حال ہے کہ گزشتہ 18 ماہ سے سنٹرل کنٹریکٹ ہی حاصل نہیں کر سکے۔
کیا ہم شہرہ آفاق سکواش کھلاڑیوں جہانگیر خان اور جان شیر خان کی ملک وقوم کے لئے دی جانے والی خدمات کو فراموش کر سکتے ہیں، اگر نہیں تو پھر انٹرنیشنل ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں بھلا دیا گیا ہے۔ سابق ورلڈ سنوکر چیمپئن محمد یوسف کو چند روز تک کندھوں پر بٹھائے رکھنے کے بعد بے یارو مددگار کیوں چھوڑ دیا گیا۔ ایک اور فاتح محمد آصف کے ٹیلنٹ کو کیوں نہیں بھانپ سکے کہ اسے مانگ تانگ کر میگا ایونٹ میں شرکت کے لئے سفر کا سامان کرنا پڑا اور ان سے کئے گئے وعدے حکومت نے کیوں پورے نہ کئے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تودوسرے کھیلوں کی طرح پاکستان ٹینس کا حال زیادہ اچھا نہیں، کوئی غریب آدمی اس مہنگے کھیل کی طرف آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ بھارت کی نسبت پاکستان میں اس کھیل کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر اسے عروج تک لے جانے کے لئے اس کی رسائی عام طبقے تک کرنی ہوگی، ظاہر ہے کہ حکومتی سرپرستی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہے۔ پورے ملک میں ٹینس کورٹس کے جال بچھائے جائیں جس سے کھیل کو فروغ حاصل ہوگا۔
mian.asghar@express.com.pk