ریشم کی طویل عرصے بعد سچی کہانی پر مبنی فلم ’’سواہ رنگی‘‘ سے لالی ووڈ میں واپسی
مستقبل میں اس طرح کے بہترین پراجیکٹس جب سینماگھروں کی زینت بنیں گے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔، ریشم
فلم انڈسٹری سے دوری صرف اور صرف وہاں بننے والی غیرمعیاری فلموں کی وجہ سے کی تھی، ریشم فوٹو: فائل
وراسٹائل اداکارہ ریشم نے کہا ہے کہ فلم اور سینما انڈسٹری کی بہتری و بحالی کے لیے کاوشیں جاری رہیں گی، جدید سینما گھروںکی تعمیر کے بعد اب اچھی اور معیاری فلمیں شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
گزشتہ برس پاکستانی فلموں کا اسکور ماضی کے مقابلے میں بہت اچھا رہا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے بہترین پراجیکٹس جب سینما گھروں کی زینت بنیں گے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ 8 برس کے وقفے کے بعد فلم میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہوں، میری نئی آنیوالی فلم ''سُواہ رنگی'' ہے جس میں پاکستانی فلموںکے دوبارہ رجحان کو بڑھانے کے مشن کو سامنے رکھتے ہوئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سچی کہانی پر بننے والی اس فلم میں جہاں معاشرے کے اہم ترین ایشو کو اجاگر کیا گیا ہے وہیں میوزک، پکچرائزیشن اور ڈائریکشن بھی فلم بینوں کو خوب انٹرٹین کریگی۔ ان خیالات کا اظہار ریشم نے گزشتہ روز ''نمائندہ ایکسپریس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ فلم کی کاسٹ میں میرے علاوہ سینئراداکار ایوب کھوسہ، نوید اکبر اور وسیم منظور شامل ہیں جب کہ اس کے مصنف وہدایتکار فدا حسین ہیں۔ فلم کی تمام تر عکسبندی میانوالی کی مختلف لوکیشنز پرکی گئی ہے اور اس فلم کو مارچ کے وسط میں نمائش کے لیے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
انھوں نے کہاکہ فلم کی پکچرائزیشن کے بعد آسٹریلیا میں پوسٹ پروڈکشن کا عمل جاری ہے، ہماری ٹیم کی یہ اولین کوشش ہے کہ اس فلم کے ذریعے جہاں لوگوں تک ایک مثبت پیغام پہنچے وہیں ان موجودہ دور کی مایوس ترین زندگی گزارنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بھی آ سکے، فلم کی کہانی نشہ کرنے والوں کے گرد گھومتی ہے، وہ لوگ جو نشہ کرتے ہوئے اپنی زندگی تو تباہ کرتے ہی ہیں، مگر ان کے اس فعل سے ان کی فیملی کو کس طرح کی ازیت برداشت کرنا پڑتی ہے اور ان کوکن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، یہ سب اس فلم میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریشم نے بتایا کہ میں نے فلم انڈسٹری سے دوری صرف اور صرف وہاں بننے والی غیرمعیاری فلموں کی وجہ سے کی تھی لیکن آٹھ برس کے طویل عرصہ بعد مجھے جب ''سُواہ رنگی'' کا اسکرپٹ سنایا گیا تو میں نے ایک لمحہ بھی ضایع کیے بغیر فلم سائن کر لی۔
اس میں اداکاری کا بہت مارجن تھا اور میں نے کوشش بھی کی ہے کہ جب یہ فلم سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے تو لوگ اس میں دکھائی دینے والے حقیقت کے رنگوں سے محظوظ ہو سکیں، یہ ہمارے معاشرے کی کہانی ہے اور ہم لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جو لوگ نشہ کرتے ہیں ان کی زندگیاں کس طرح سے گزرتی ہیں، لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، نشہ کرنے والے ایک طرف تو جرائم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور دوسری جانب ان کی فیملیوں کو بھی لوگوں کی تنقیدکا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہی ہے لیکن یہ حقیقت بھی ہے، اسی لیے اس فلم میں جہاں لوگوں کو ایک مثبت اور مضبوط پیغام ملے گا وہیں ہم ان کو انٹرٹین کرنے کے لیے میوزک بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس فلم کا ایک پروموشنل سونگ ''سوجا'' ہے، جس کو گلوکار سمیع خان نے گایا تھا پاکستانی چینلز کے میوزک چارٹ پر پہلے نمبر پر رہا۔
انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ایک بین الاقوامی معیار کی فلم مارکیٹ میں نمائش کے لیے پیش کریں، اسوقت جس طرح سے لوگوں نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی کچھ پاکستانی فلموں کو زبردست رسپانس دیا ہے، اسی طرح ہمیں امید ہے کہ لوگ ہماری فلم کو بھی دیکھیں گے اور پسند کرینگے۔ اس حوالے سے میں پوری قوم کو یہ بھی پیغام دینا چاہوں گی، ہمیں اپنے لوگوںکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، ہم لوگ وسائل کی بے پناہ کمی کے باوجود بہترین کام کر رہے ہیں، اس لیے جب تک لوگ سینما گھروں میں پہنچ کر پاکستانی فلم نہیں دیکھیں گے اسوقت تک بحالی کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا، بلاشبہ ہمارے پڑوسی ملک کی فلم انڈسٹری بہت آگے جا چکی ہے، مگرہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں اور اس فلم کے ذریعے ہم اس بات کو ثابت بھی کر دینگے، بہترین فلم بنانے کے لیے صرف سرمایہ کی ہی نہیں بلکہ دماغ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر فدا حسین بہت سی صلاحیتوں سے مالامال ہیں، ان کی کہانی اچھی اور مکالمے بھی بہت جاندار ہیں، اس لیے ہماری پوری ٹیم اس فلم کی کامیابی کے لیے بہت پرامید ہے۔ میری دعا ہے کہ پاکستان میں اسطرح کی فلمیں زیادہ سے زیادہ بننے لگیں جو فلم انڈسٹری کی بحالی کے ساتھ لوگوں میں شعور اجاگر بھی کر سکیں، جب تک یہ عمل شروع نہیں ہو گا اس وقت تک معاشرے میں سدھار لانا ممکن نہیں ہوسکے گا۔
گزشتہ برس پاکستانی فلموں کا اسکور ماضی کے مقابلے میں بہت اچھا رہا ہے اور مستقبل میں اس طرح کے بہترین پراجیکٹس جب سینما گھروں کی زینت بنیں گے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ 8 برس کے وقفے کے بعد فلم میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہوں، میری نئی آنیوالی فلم ''سُواہ رنگی'' ہے جس میں پاکستانی فلموںکے دوبارہ رجحان کو بڑھانے کے مشن کو سامنے رکھتے ہوئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سچی کہانی پر بننے والی اس فلم میں جہاں معاشرے کے اہم ترین ایشو کو اجاگر کیا گیا ہے وہیں میوزک، پکچرائزیشن اور ڈائریکشن بھی فلم بینوں کو خوب انٹرٹین کریگی۔ ان خیالات کا اظہار ریشم نے گزشتہ روز ''نمائندہ ایکسپریس'' کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ فلم کی کاسٹ میں میرے علاوہ سینئراداکار ایوب کھوسہ، نوید اکبر اور وسیم منظور شامل ہیں جب کہ اس کے مصنف وہدایتکار فدا حسین ہیں۔ فلم کی تمام تر عکسبندی میانوالی کی مختلف لوکیشنز پرکی گئی ہے اور اس فلم کو مارچ کے وسط میں نمائش کے لیے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
انھوں نے کہاکہ فلم کی پکچرائزیشن کے بعد آسٹریلیا میں پوسٹ پروڈکشن کا عمل جاری ہے، ہماری ٹیم کی یہ اولین کوشش ہے کہ اس فلم کے ذریعے جہاں لوگوں تک ایک مثبت پیغام پہنچے وہیں ان موجودہ دور کی مایوس ترین زندگی گزارنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بھی آ سکے، فلم کی کہانی نشہ کرنے والوں کے گرد گھومتی ہے، وہ لوگ جو نشہ کرتے ہوئے اپنی زندگی تو تباہ کرتے ہی ہیں، مگر ان کے اس فعل سے ان کی فیملی کو کس طرح کی ازیت برداشت کرنا پڑتی ہے اور ان کوکن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، یہ سب اس فلم میں پیش کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریشم نے بتایا کہ میں نے فلم انڈسٹری سے دوری صرف اور صرف وہاں بننے والی غیرمعیاری فلموں کی وجہ سے کی تھی لیکن آٹھ برس کے طویل عرصہ بعد مجھے جب ''سُواہ رنگی'' کا اسکرپٹ سنایا گیا تو میں نے ایک لمحہ بھی ضایع کیے بغیر فلم سائن کر لی۔
اس میں اداکاری کا بہت مارجن تھا اور میں نے کوشش بھی کی ہے کہ جب یہ فلم سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے تو لوگ اس میں دکھائی دینے والے حقیقت کے رنگوں سے محظوظ ہو سکیں، یہ ہمارے معاشرے کی کہانی ہے اور ہم لوگ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جو لوگ نشہ کرتے ہیں ان کی زندگیاں کس طرح سے گزرتی ہیں، لوگ ان سے نفرت کرتے اور ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، نشہ کرنے والے ایک طرف تو جرائم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور دوسری جانب ان کی فیملیوں کو بھی لوگوں کی تنقیدکا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہی ہے لیکن یہ حقیقت بھی ہے، اسی لیے اس فلم میں جہاں لوگوں کو ایک مثبت اور مضبوط پیغام ملے گا وہیں ہم ان کو انٹرٹین کرنے کے لیے میوزک بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس فلم کا ایک پروموشنل سونگ ''سوجا'' ہے، جس کو گلوکار سمیع خان نے گایا تھا پاکستانی چینلز کے میوزک چارٹ پر پہلے نمبر پر رہا۔
انھوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ایک بین الاقوامی معیار کی فلم مارکیٹ میں نمائش کے لیے پیش کریں، اسوقت جس طرح سے لوگوں نے گزشتہ برس ریلیز ہونے والی کچھ پاکستانی فلموں کو زبردست رسپانس دیا ہے، اسی طرح ہمیں امید ہے کہ لوگ ہماری فلم کو بھی دیکھیں گے اور پسند کرینگے۔ اس حوالے سے میں پوری قوم کو یہ بھی پیغام دینا چاہوں گی، ہمیں اپنے لوگوںکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، ہم لوگ وسائل کی بے پناہ کمی کے باوجود بہترین کام کر رہے ہیں، اس لیے جب تک لوگ سینما گھروں میں پہنچ کر پاکستانی فلم نہیں دیکھیں گے اسوقت تک بحالی کا عمل شروع نہیں ہو سکے گا، بلاشبہ ہمارے پڑوسی ملک کی فلم انڈسٹری بہت آگے جا چکی ہے، مگرہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں اور اس فلم کے ذریعے ہم اس بات کو ثابت بھی کر دینگے، بہترین فلم بنانے کے لیے صرف سرمایہ کی ہی نہیں بلکہ دماغ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر فدا حسین بہت سی صلاحیتوں سے مالامال ہیں، ان کی کہانی اچھی اور مکالمے بھی بہت جاندار ہیں، اس لیے ہماری پوری ٹیم اس فلم کی کامیابی کے لیے بہت پرامید ہے۔ میری دعا ہے کہ پاکستان میں اسطرح کی فلمیں زیادہ سے زیادہ بننے لگیں جو فلم انڈسٹری کی بحالی کے ساتھ لوگوں میں شعور اجاگر بھی کر سکیں، جب تک یہ عمل شروع نہیں ہو گا اس وقت تک معاشرے میں سدھار لانا ممکن نہیں ہوسکے گا۔