کراچی میں ٹارگٹ کلرز نے17افراد کو موت کی نیند سلا دیاآپریشن کا تیسرا مرحلہ شروع کیا جائے وزیر اعظم
گلشن میں ہزارہ برادری کے3افراد،راشدمنہاس روڈپرمدرسے کے طالبعلم2سگے بھائی،منگھوپیرمیں2اہلکاراور ایک راہگیرقتل
گلشن اقبال میں فائرنگ سے جاں بحق ہونےوالے مدرسے کے طلبا کی لاشیں عباسی شہید اسپتال میں رکھی ہیں،فوٹو:محمد عظیم/ایکسپریس
کراچی میں ٹارگٹ کلرزنے17افرادکوموت کی نیند سلادیا۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال کے علاقے بلاک7مسکن چورنگی کے قریب جمعے اورہفتے کی درمیانی شب موٹرسائیکلوں پرسوار دہشت گردوں نے آغاحیدرجوس اور باربی کیو ریسٹورینٹ پرفائرنگ کردی۔
جس کے نتیجے میں قریب ہی کھڑی سوزوکی ہائی روف میں سواراورباہربیٹھے ہوئے7افرادشدیدزخمی ہوگئے جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں قریب ہی واقع نجی اسپتال لایا گیا جہاں 3 افراد عبدالواحد، حسین علی اورنادر علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ایس ایچ او گلشن اقبال عرفان احمدنے بتایاکہ جاں بحق ہونے والا عبدالواحدآغاحیدرجوس کامالک تھاجبکہ دیگر 2 ملازمین تھے ، زخمیوں میں 4 افراد جواد حیدر، رئیس احمد ، تصور عباس اور غلام سخی شدید زخمی ہیں اورڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پولیس کے مطابق مقتولین کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے تھاجو کہ منگھوپیر کے علاقے یعقوب شاہ بستی میں رہائش پذیر اور ان کا آبائی تعلق کوئٹہ ہزارہ سے تھا۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 3 موٹر سائیکلوں پر 6 سے زائد دہشت گرد سوار تھے اور انھوں نے آزادانہ نہتے افرادپرفائرنگ کی اورفرار ہوگئے۔جوہرآبادکے علاقے راشدمنہا س روڈریاض آٹوز یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کے قریب موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے سڑک عبور کرنے والے 2 افراد پرفائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے،فائرنگ سے متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔
جاں بحق ہونے والے دونوں افرادکی لاشیں گلشن اقبال میں واقع نجی اسپتال لایاگیاجہاں ان کی شناخت 30 سالہ ساجد معاویہ اور25 سالہ عابد معاویہ کے نام سے ہوئیں جو سگے بھائی اور گلشن اقبال میں قائم مدرسہ احسن العلوم میں زیر تعلیم اور دورہ حدیث عالم کورس کے آخری سال کے طالبعلم تھے اوراپنی رہائشی گاہ شفیق موڑ سے مدرسے پیدل ہی جا رہے تھے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیے گئے۔دونوں طلباکی ہلاکت پرمشتعل افرادنے راشد منہاس روڈسہراب گوٹھ سے گلشن اقبال تک پتھراو کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور ٹریفک معطل کر دیا جبکہ ٹائربھی نذر آتش کیے۔پولیس کا کہناہے کہ مقتولین شفیق موڑکے قریب مسکین آبادکے رہائشی اور ان کاآبائی تعلق تونسہ شریف ڈیرہ غازی خان سے تھاجبکہ مقتولین کے والدعبداﷲ ملک انور گوٹھ میں مسجد کے پیش امام ہیں،اہلسنت والجماعت کے ترجمان مولانا عمر معاویہ نے بتایا کہ مقتولین بھائی اہلسنت والجماعت کے کارکنان تھے اوران کی نمازجنازہ اہلسنت والجماعت کے رہنمااورنگزیب فاروقی نے پڑھائی اور اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پرتعنیات تھی۔
منگھو پیر نمبر4 ڈاکخانہ البدر موڑپرموٹر سائیکل سوارملزمان نے پیرآباد تھانے کی پولیس موبائل نمبر SP-6202 پر فائرنگ کردی جس سے2پولیس اہلکار45 سالہ ہیڈ کانسٹیبل لال حکیم عرف لالہ حکیم اور کانسٹیبل50سالہ یونس جاں بحق جبکہ کانسٹیبل38 سالہ محمد کامران اور ایک راہگیر30سالہ آصف زخمی ہو گئے بعدازاں راہگیرآصف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔واضح رہے موجودہ ایس ایچ او پیر آبادکی تعیناتی کے دوران میں 20 سے زائد اہلکاروں سمیت50 سے زائد افراد دہشت گردوں کا شکار بن چکے ہیں جبکہ ایس ایچ اواتناباثرہے کہ اس کے خلاف کسی قسم کی محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی۔حیدری شاپنگ سینٹرکے عقب میں واقع نگینہ سینٹرکے قریب نامعلوم ملزمان نے35 سالہ مونگ پھلی فروش کے سر پرگولی مارکرہلاک کردیاتاہم اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
لنڈی کوتل چورنگی کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے مونگ پھلی فروش 35 سالہ سعید محمدہلاک ہو گیا۔نارتھ ناظم آباد تھانے کی قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی کالی پیلی ٹیکسی نمبرJL-1617 فائرنگ سے ٹیکسی ڈرائیور35سالہ گل زمین ہلاک جبکہ ایک شخص سر پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔بلدیہ ٹاؤن نمبر9بسم اﷲ چوک کے قریب موٹرسائیکل سوارملزمان کی فائرنگ سے 35سالہ منیرہلاک ہوگیا،مقتول اسی علاقے کارہائشی اور کباڑیے کا کام کرتاتھا۔جیکسن تھانے کی حدود شیریں جناح کالونی میں واقع اشفاق کالونی کے رہائشی 20 سالہ منیب احمدکو نامعلوم ملزمان نے گھر کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور فرارہوگئے۔سپرہائی وے انڈس پلازہ کچرا کنڈی سے نوعمر لڑکے کی تشدد زدہ لاش ملی ،مقتول کی شناخت 9 سالہ عمران کے نام سے ہوئی جو الآصف اسکوائر کا رہائشی اور جمعہ کی شام سے لاپتہ تھا اور شبہ ہے کہ عمران کو نامعلوم ملزما ن نے بدفعلی کی نیت سے اغوا کیا اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر دیا۔رضویہ سوسائٹی کے علاقے لسبیلہ پل کے نیچے سے 26 سالہ نامعلوم شخص کی ہاتھ پائوں بندھی تشدد زدہ لاش ملی جسے فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا،اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
گلشن حدید لنک روڈ کے قریب سے 35 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی جسے اغواکے بعدتشددکانشان بنا کر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیااور لاش پھینک کر فرار ہوگئے۔ پاک کالونی کے علاقے منگھو پیر روڈ کمال پٹرول پمپ اور ماربل فیکٹری کے درمیان میں سڑک پرایک شخص کی لاش ملی جسے بعدمیں 35 سالہ ریاض کے نام سے شناخت کر لیاگیا ۔ بلدیہ ٹاؤن نمبر8میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے30 سالہ محمد اقبال ولد عبد الرحمٰن زخمی ہو گیا،سرجانی ٹاؤن کے علاقے لیاری تیسرٹاؤن میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے22 سالہ عامر حسین نگالی زخمی ہو گیا،قائد آباد کے علاقے نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 25 سالہ شاہنواززخمی ہو گیا،اہلسنت و الجماعت کے ترجمان کے مطابق زخمی ہونے والا شاہنوازان کاکارکن ہے۔شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے صالح محمدگوٹھ میں 2 گروپوں کے درمیان تصادم میں نوعمر لڑکے سمیت3 افراد 10 سالہ سجاد ، 30 سالہ نواز اور 25سالہ شاہد علی زخمی ہوگئے۔کلفٹن بلاک ون میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 17سالہ رابعہ زخمی ہوگئی۔
کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کے باوجوداچانک شروع ہونے والی ٹارگٹ کلنگ پروزیر اعظم نوازشریف نے سخت تشویش کااظہارکیاہے اور وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکوہدایت کی ہے کہ فوری طور پرسندھ حکومت اورقانون نافذکرنے والے اداروں سے رابطہ کرکے ٹارگٹڈآپریشن کاتیسرامرحلہ شروع کیاجائے اورجرائم پیشہ اوران کی سیاسی سرپرستی کرنے والے عناصرکوفوری گرفتارکیاجائے،وزیر اعظم نوازشریف نے واضح کیاکہ کراچی ہر صورت امن بحال کیاجائے،امن پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
ذرائع کاکہناہے کہ وفاقی حکومت نے کراچی میں شروع ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کاسختی سے نوٹس لیاہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سندھ حکومت کے توسط سے تفصیلی طور پر یہ رپورٹ طلب کی ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سیاسی بنیادوں پرکی جارہی ہے یااس میں فرقہ وارانہ عناصرملوث ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وجوہات پرجامع رپورٹ مرتب کرناشروع کردی ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ بیشتر واقعات میں سیاسی گروپس کے ملوث ہونے کے شواہدسامنے آئے ہیں اوربیشتر گرفتارملزمان نے تفتیش کے دوران سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے جوانکشافات کیے ہیں،ان کی روشنی میں رپورٹس کومرتب کیاجارہاہے اور آئندہ چند روز میں یہ رپورٹس سندھ حکومت کے توسط سے وفاقی حکومت کوبھیج دی جائے گی۔
وزیر اعظم نے ہدایت جاری کردی ہیں کہ فوری طور پرکراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے تیسرے مرحلے کاآغاز کردیاجائے اوراس حوالے سے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کوجن وسائل کی ضرورت ہوگی وہ وفاقی حکومت انھیں مہیاکرے گی،وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے توسط سے قانون نافذ کرنے والوں کوہدایت جاری کی ہے کہ کراچی میں حالیہ واقعات میں ملوث عناصراور انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف دہشت گردی اورتحفظ پاکستان آرڈیننس کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں اوران درج مقدمات کے چالان فور طور پرعدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ ان کے حوالے سے عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ کرسکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے دور میں پے رول پررہا ہونے والے 45 ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبھی ہدایت جاری کردی ہیںاور جوملزمان بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں ،ان کی گرفتاری کے لیے محکمہ داخلہ وفاقی حکومت کے توسط سے انٹر پول سے رابطہ کریگی، ٹارگٹڈآپریشن کاتیسرا مرحلہ آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گاجس کے لیے آپریشنل پلان ترتیب دیدیاگیاہے اورکراچی میں پولیس اور رینجز جرائم پیشہ عناصر اور ان کی سیاسی سرپرستی کرنیوالے عناصر کی گرفتاری کیلیے بلا امتیازچھاپہ مار کارروائیاں کریںگی ،ان کارروائیوں کیلیے ضلعی سطح پرتمام قانون نافذ کرنے والے اداروں پرمشتمل10سے زائد آپریشنل ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔
جس کے نتیجے میں قریب ہی کھڑی سوزوکی ہائی روف میں سواراورباہربیٹھے ہوئے7افرادشدیدزخمی ہوگئے جنھیں انتہائی تشویشناک حالت میں قریب ہی واقع نجی اسپتال لایا گیا جہاں 3 افراد عبدالواحد، حسین علی اورنادر علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ایس ایچ او گلشن اقبال عرفان احمدنے بتایاکہ جاں بحق ہونے والا عبدالواحدآغاحیدرجوس کامالک تھاجبکہ دیگر 2 ملازمین تھے ، زخمیوں میں 4 افراد جواد حیدر، رئیس احمد ، تصور عباس اور غلام سخی شدید زخمی ہیں اورڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پولیس کے مطابق مقتولین کا تعلق ہزارہ کمیونٹی سے تھاجو کہ منگھوپیر کے علاقے یعقوب شاہ بستی میں رہائش پذیر اور ان کا آبائی تعلق کوئٹہ ہزارہ سے تھا۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 3 موٹر سائیکلوں پر 6 سے زائد دہشت گرد سوار تھے اور انھوں نے آزادانہ نہتے افرادپرفائرنگ کی اورفرار ہوگئے۔جوہرآبادکے علاقے راشدمنہا س روڈریاض آٹوز یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کے قریب موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے سڑک عبور کرنے والے 2 افراد پرفائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے،فائرنگ سے متعدد گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں۔
جاں بحق ہونے والے دونوں افرادکی لاشیں گلشن اقبال میں واقع نجی اسپتال لایاگیاجہاں ان کی شناخت 30 سالہ ساجد معاویہ اور25 سالہ عابد معاویہ کے نام سے ہوئیں جو سگے بھائی اور گلشن اقبال میں قائم مدرسہ احسن العلوم میں زیر تعلیم اور دورہ حدیث عالم کورس کے آخری سال کے طالبعلم تھے اوراپنی رہائشی گاہ شفیق موڑ سے مدرسے پیدل ہی جا رہے تھے کہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیے گئے۔دونوں طلباکی ہلاکت پرمشتعل افرادنے راشد منہاس روڈسہراب گوٹھ سے گلشن اقبال تک پتھراو کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے اور ٹریفک معطل کر دیا جبکہ ٹائربھی نذر آتش کیے۔پولیس کا کہناہے کہ مقتولین شفیق موڑکے قریب مسکین آبادکے رہائشی اور ان کاآبائی تعلق تونسہ شریف ڈیرہ غازی خان سے تھاجبکہ مقتولین کے والدعبداﷲ ملک انور گوٹھ میں مسجد کے پیش امام ہیں،اہلسنت والجماعت کے ترجمان مولانا عمر معاویہ نے بتایا کہ مقتولین بھائی اہلسنت والجماعت کے کارکنان تھے اوران کی نمازجنازہ اہلسنت والجماعت کے رہنمااورنگزیب فاروقی نے پڑھائی اور اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پرتعنیات تھی۔
منگھو پیر نمبر4 ڈاکخانہ البدر موڑپرموٹر سائیکل سوارملزمان نے پیرآباد تھانے کی پولیس موبائل نمبر SP-6202 پر فائرنگ کردی جس سے2پولیس اہلکار45 سالہ ہیڈ کانسٹیبل لال حکیم عرف لالہ حکیم اور کانسٹیبل50سالہ یونس جاں بحق جبکہ کانسٹیبل38 سالہ محمد کامران اور ایک راہگیر30سالہ آصف زخمی ہو گئے بعدازاں راہگیرآصف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا۔واضح رہے موجودہ ایس ایچ او پیر آبادکی تعیناتی کے دوران میں 20 سے زائد اہلکاروں سمیت50 سے زائد افراد دہشت گردوں کا شکار بن چکے ہیں جبکہ ایس ایچ اواتناباثرہے کہ اس کے خلاف کسی قسم کی محکمانہ کارروائی نہیں کی گئی۔حیدری شاپنگ سینٹرکے عقب میں واقع نگینہ سینٹرکے قریب نامعلوم ملزمان نے35 سالہ مونگ پھلی فروش کے سر پرگولی مارکرہلاک کردیاتاہم اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
لنڈی کوتل چورنگی کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے مونگ پھلی فروش 35 سالہ سعید محمدہلاک ہو گیا۔نارتھ ناظم آباد تھانے کی قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی کالی پیلی ٹیکسی نمبرJL-1617 فائرنگ سے ٹیکسی ڈرائیور35سالہ گل زمین ہلاک جبکہ ایک شخص سر پر گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔بلدیہ ٹاؤن نمبر9بسم اﷲ چوک کے قریب موٹرسائیکل سوارملزمان کی فائرنگ سے 35سالہ منیرہلاک ہوگیا،مقتول اسی علاقے کارہائشی اور کباڑیے کا کام کرتاتھا۔جیکسن تھانے کی حدود شیریں جناح کالونی میں واقع اشفاق کالونی کے رہائشی 20 سالہ منیب احمدکو نامعلوم ملزمان نے گھر کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور فرارہوگئے۔سپرہائی وے انڈس پلازہ کچرا کنڈی سے نوعمر لڑکے کی تشدد زدہ لاش ملی ،مقتول کی شناخت 9 سالہ عمران کے نام سے ہوئی جو الآصف اسکوائر کا رہائشی اور جمعہ کی شام سے لاپتہ تھا اور شبہ ہے کہ عمران کو نامعلوم ملزما ن نے بدفعلی کی نیت سے اغوا کیا اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر قتل کر دیا۔رضویہ سوسائٹی کے علاقے لسبیلہ پل کے نیچے سے 26 سالہ نامعلوم شخص کی ہاتھ پائوں بندھی تشدد زدہ لاش ملی جسے فائرنگ کر کے ہلاک کیاگیا،اس کی شناخت نہیں ہوسکی۔
گلشن حدید لنک روڈ کے قریب سے 35 سالہ نامعلوم شخص کی لاش ملی جسے اغواکے بعدتشددکانشان بنا کر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیااور لاش پھینک کر فرار ہوگئے۔ پاک کالونی کے علاقے منگھو پیر روڈ کمال پٹرول پمپ اور ماربل فیکٹری کے درمیان میں سڑک پرایک شخص کی لاش ملی جسے بعدمیں 35 سالہ ریاض کے نام سے شناخت کر لیاگیا ۔ بلدیہ ٹاؤن نمبر8میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے30 سالہ محمد اقبال ولد عبد الرحمٰن زخمی ہو گیا،سرجانی ٹاؤن کے علاقے لیاری تیسرٹاؤن میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے22 سالہ عامر حسین نگالی زخمی ہو گیا،قائد آباد کے علاقے نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 25 سالہ شاہنواززخمی ہو گیا،اہلسنت و الجماعت کے ترجمان کے مطابق زخمی ہونے والا شاہنوازان کاکارکن ہے۔شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے صالح محمدگوٹھ میں 2 گروپوں کے درمیان تصادم میں نوعمر لڑکے سمیت3 افراد 10 سالہ سجاد ، 30 سالہ نواز اور 25سالہ شاہد علی زخمی ہوگئے۔کلفٹن بلاک ون میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے 17سالہ رابعہ زخمی ہوگئی۔
کراچی میں ٹارگٹڈآپریشن کے باوجوداچانک شروع ہونے والی ٹارگٹ کلنگ پروزیر اعظم نوازشریف نے سخت تشویش کااظہارکیاہے اور وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارکوہدایت کی ہے کہ فوری طور پرسندھ حکومت اورقانون نافذکرنے والے اداروں سے رابطہ کرکے ٹارگٹڈآپریشن کاتیسرامرحلہ شروع کیاجائے اورجرائم پیشہ اوران کی سیاسی سرپرستی کرنے والے عناصرکوفوری گرفتارکیاجائے،وزیر اعظم نوازشریف نے واضح کیاکہ کراچی ہر صورت امن بحال کیاجائے،امن پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔
ذرائع کاکہناہے کہ وفاقی حکومت نے کراچی میں شروع ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کاسختی سے نوٹس لیاہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سندھ حکومت کے توسط سے تفصیلی طور پر یہ رپورٹ طلب کی ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ سیاسی بنیادوں پرکی جارہی ہے یااس میں فرقہ وارانہ عناصرملوث ہیں،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وجوہات پرجامع رپورٹ مرتب کرناشروع کردی ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ بیشتر واقعات میں سیاسی گروپس کے ملوث ہونے کے شواہدسامنے آئے ہیں اوربیشتر گرفتارملزمان نے تفتیش کے دوران سیاسی وابستگیوں کے حوالے سے جوانکشافات کیے ہیں،ان کی روشنی میں رپورٹس کومرتب کیاجارہاہے اور آئندہ چند روز میں یہ رپورٹس سندھ حکومت کے توسط سے وفاقی حکومت کوبھیج دی جائے گی۔
وزیر اعظم نے ہدایت جاری کردی ہیں کہ فوری طور پرکراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے تیسرے مرحلے کاآغاز کردیاجائے اوراس حوالے سے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کوجن وسائل کی ضرورت ہوگی وہ وفاقی حکومت انھیں مہیاکرے گی،وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے توسط سے قانون نافذ کرنے والوں کوہدایت جاری کی ہے کہ کراچی میں حالیہ واقعات میں ملوث عناصراور انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف دہشت گردی اورتحفظ پاکستان آرڈیننس کے مطابق مقدمات درج کیے جائیں اوران درج مقدمات کے چالان فور طور پرعدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ ان کے حوالے سے عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ کرسکیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ سندھ نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے دور میں پے رول پررہا ہونے والے 45 ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کوبھی ہدایت جاری کردی ہیںاور جوملزمان بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں ،ان کی گرفتاری کے لیے محکمہ داخلہ وفاقی حکومت کے توسط سے انٹر پول سے رابطہ کریگی، ٹارگٹڈآپریشن کاتیسرا مرحلہ آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گاجس کے لیے آپریشنل پلان ترتیب دیدیاگیاہے اورکراچی میں پولیس اور رینجز جرائم پیشہ عناصر اور ان کی سیاسی سرپرستی کرنیوالے عناصر کی گرفتاری کیلیے بلا امتیازچھاپہ مار کارروائیاں کریںگی ،ان کارروائیوں کیلیے ضلعی سطح پرتمام قانون نافذ کرنے والے اداروں پرمشتمل10سے زائد آپریشنل ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔