عمران فرحت کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہمایوں

اوپنر کو سسر محمد الیاس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا،الٹاکیریئر میں دراڑ پڑ گئی

سرفراز کی کارکردگی مناسب نہیں رہی، آئی سی ایل میں کرپشن نہیں ہوئی۔ فوٹو: فائل

سابق ٹیسٹ بیٹسمین ہمایوں فرحت نے کہا ہے کہ میرے بھائی عمران فرحت کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنایا جانا ناانصافی کے مترادف ہے۔

بعض سابق قومی کپتانوں سے میرے اختلافات کی وجہ سے اسے سخت مشکلات پیش آئیں، عمران کو سسر محمد الیاس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا، الٹاکیریئر میں دراڑ پڑ گئی۔ غیرملکی ویب سائٹ کو انٹرویو میں ہمایوں فرحت نے کہا کہ ذرا میرے بھائی کو کرکٹ کو خیر باد کہہ لینے دیں پھر میں ٹی وی پر بیٹھ کر حقائق سے پردہ اٹھا کر سچ سامنے لائوں گا،ابتداء میں محمد یوسف سے میرے اختلاف کی سزا عمران کو ملی، میرے ساتھ مسائل کے باعث چند دیگر افراد نے بھی اسے بے انتہا پریشان کیا، قومی ٹیم میں منتخب ہونے کے بعد پریکٹس کی اجازت نہ دی گئی ، میچ سے محض5منٹ قبل شمولیت سے آگاہ کیا گیا، عمران ہمیشہ میرٹ کی بنیاد پر قومی ٹیم میں جگہ بناتا رہا اور عمدہ کارکردگی سے اپنا انتخاب بھی درست ثابت کیا،وہ اہلیہ کی علالت کے سبب دورئہ زمبابوے سے دستبردار ہوا جس کے بعد موقع ملنے کا حقدار تھا۔




ایک سوال پر ہمایوں فرحت نے کہا کہ ہمارے ملک میں پلیئر پاور کا کافی عمل دخل اوراس وجہ سے ٹیلنٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے، انھوں نے کہا کہ عمر اکمل اس وقت پاکستان کا سب سے بہتر وکٹ کیپر ہے، اضافی ذمہ داری سے اس کی بیٹنگ قطعی متاثر نہیں ہورہی، البتہ بہتر پوزیشن پر کھلانے کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ عدنان اکمل کے زخمی ہونے کے بعد قومی اسکواڈ میں شامل کیے جانے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لیے متعدد مواقع دیے جا چکے مگر وہ اپنی بیٹنگ سے متاثر نہ کر سکا،وکٹ کیپر کی حیثیت سے بھی کارکردگی مناسب نہیں ہے، قومی ٹیم کیلیے اس وقت عمر اکمل اور عدنان اکمل ہی بہتر انتخاب ہیں، ہمایوں فرحت نے کہاکہ آئی سی ایل میں کسی بھی سطح پر کوئی کرپشن نہ تھی، ہمیں کھیلنے کے عوض اس قدر رقم ملی کہ کسی غلط سرگرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایک برس کا معاوضہ پاکستان میں10 برس تک کھیلنے پر ملنے والی رقم کے مساوی تھا۔
Load Next Story