مشاورت کے بغیر کالا باغ ڈیم سمیت کوئی منصوبہ نہیں شروع ہوگا وفاقی وزیر احسن اقبال
تھرکول منصوبے کامشترکہ سنگ بنیادرکھنے کیلیے نوازشریف کودعوت، کراچی میں امن کا قیام ترجیح ہے،وفاقی وزیر
کراچی: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سندھ سیکریٹریٹ میں پاکستان ویژن 2025 کی مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کررہے ہیں، وزیراعلیٰ بھی موجود ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
DUBAI:
وفاقی اورسندھ حکومت نے پاکستان وژن 2025پر عمل درآمد کے لیے اتفاق رائے کا اظہارکیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے یقین دہانی کرائی کہ صوبوں کی مشاورت کے بغیرکالا باغ ڈیم سمیت کسی بڑے آبی منصوبے پرکام شروع نہیں ہوگا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تھرکول منصوبے کا مشترکہ سنگ بنیاد رکھنے کے لیے وزیراعظم نواز شریف کو سندھ آنے کی دعوت دی ہے ۔ پاکستان وژن 2025 کے حوالے سے وفاقی اور سندھ حکومت کی مشاورتی ورکشاپ ہفتے کوسندھ سیکریٹریٹ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال،صوبائی وزرا ، آبی اور معاشی ماہرین، ٹیکنوکریٹس اورارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ حکومت کی جانب سے سید قائم علی شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیرمراد علی شاہ نے سندھ میں آئندہ 5 سالہ ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ اجلاس میں شریک شرکا نے سندھ میں معاشی ترقی اور استحکام اور توانائی بحران کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں ۔
سندھ کے ٹیکنوکریٹس نے وفاقی وزیراحسن اقبال سے مطالبہ کیاکہ پاکستانی اور بھارتی پنجاب کی طرز پرعلاقائی تجارت کے لیے فوری طور پر سندھ راجستھان سرحدکھولی جائے۔ پاک بھارت معاہدوں میں کھوکھرا مونا باؤ تجارتی راستہ کھولنا شامل ہے جس پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ سابق گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے توانائی بحران کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کے لیے سفارشات پر فوری عملدرآمد کی تجویز دی۔ اینگرو سندھ کول مائننگ کے نمائندوں نے نیپرا اور اوگرا کی کارکردگی پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تھرکول منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دورکرنے پر زور دیااور کہا کہ ''نیپرا'' اور ''اوگرا'' خود کام کرتے ہیں نہ صوبائی اداروں کو کام کرنے دے رہے ہیں ۔ رکن سندھ اسمبلی حاجی شفیع جاموٹ نے ٹریٹمنٹ کے بغیر کراچی کے سمندر میں سیوریج کا پانی شامل کرنے پر احتجاج کیا۔ انھوں نے کراچی کے سمندر میں زہریلے پانی کوآبی حیات کے لیے خطرہ قرار دیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے آئندہ ہفتے اجلاس بلانے اور معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مراد علی شاہ اور آبپاشی ماہرین نے 2025 وژن میں بڑے آبی منصوبے رکھنے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ وژن میں کالاغ ڈیم کے منصوبے کو بھی شامل کیا گیا ہے،جس پر سندھ کو شدید تحفظات ہیں۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں سے سہہ ماہی بنیاد پر مشاورت جاری رکھی جائے گی۔اقتصادی ترقی کے لیے بجلی کی لاگت کم کرنی ہوگی ۔انھوں نے کہا کہ قومی اداروں کی نجکاری کے بجائے 26 فیصد شیئرز نجی شعبے کو فروخت کریں گے، پی آئی اے کا سالانہ 36 ارب روپے کا خسارہ ہمیں ورثے میں ملا ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ اجلاس میں سندھ کے توانائی اور ترقیاتی منصوبوں پر بات ہوئی ہے ۔ تھرکول منصوبے سمیت متبادل ذرائع سے توانائی کے منصوبوں میں تاخیر کا مسئلہ وفاق کے سامنے اٹھایا ہے۔ آج کی مشاورت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت مل کر توانائی بحران سے نمٹنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری حکومتوں کے کام نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی شعبے میں پلاننگ نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے آج ملک کئی بحرانوں میں گھرا ہواہے ہر سال پاکستان میں دنیا کے کئی ممالک کے برابر کی آبادی کا اضافہ ہورہا ہے جس سیکئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ملک میں توانائی کے بحران سے نہ نمٹا گیا تو اگلے 5 سے 6 برسوں میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت پید اہوسکتی ہے کراچی میں امن قائم کرنا وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ٹارگٹڈ آپریشن کے اچھے نتائج ملے ہیں،کراچی آپریشن سے بدامنی کا بے قابوجن قابو میں آ گیا ہے اب حالات بہتر ہیں پہلے جو لوگ دن میں واردات کرتے تھے اور رات کوجشن مناتے تھے اب ان کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے ،سندھ حکومت کے ساتھ ملکر کئی منصوبے پر کام کررہے ہیں ،وہانجئینرنگ کونسل آف پاکستان میں تقریب سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پرمختلف انجئینرز نے وفاقی وزیرکو اپنی مشکلات سمیت کئی منصوبوں کی پلاننگ کے حوالے سے آگاہ کیا۔
وفاقی اورسندھ حکومت نے پاکستان وژن 2025پر عمل درآمد کے لیے اتفاق رائے کا اظہارکیا ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے یقین دہانی کرائی کہ صوبوں کی مشاورت کے بغیرکالا باغ ڈیم سمیت کسی بڑے آبی منصوبے پرکام شروع نہیں ہوگا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تھرکول منصوبے کا مشترکہ سنگ بنیاد رکھنے کے لیے وزیراعظم نواز شریف کو سندھ آنے کی دعوت دی ہے ۔ پاکستان وژن 2025 کے حوالے سے وفاقی اور سندھ حکومت کی مشاورتی ورکشاپ ہفتے کوسندھ سیکریٹریٹ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقیات احسن اقبال،صوبائی وزرا ، آبی اور معاشی ماہرین، ٹیکنوکریٹس اورارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ حکومت کی جانب سے سید قائم علی شاہ اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیرمراد علی شاہ نے سندھ میں آئندہ 5 سالہ ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی جبکہ اجلاس میں شریک شرکا نے سندھ میں معاشی ترقی اور استحکام اور توانائی بحران کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں ۔
سندھ کے ٹیکنوکریٹس نے وفاقی وزیراحسن اقبال سے مطالبہ کیاکہ پاکستانی اور بھارتی پنجاب کی طرز پرعلاقائی تجارت کے لیے فوری طور پر سندھ راجستھان سرحدکھولی جائے۔ پاک بھارت معاہدوں میں کھوکھرا مونا باؤ تجارتی راستہ کھولنا شامل ہے جس پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ سابق گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے توانائی بحران کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کے لیے سفارشات پر فوری عملدرآمد کی تجویز دی۔ اینگرو سندھ کول مائننگ کے نمائندوں نے نیپرا اور اوگرا کی کارکردگی پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تھرکول منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دورکرنے پر زور دیااور کہا کہ ''نیپرا'' اور ''اوگرا'' خود کام کرتے ہیں نہ صوبائی اداروں کو کام کرنے دے رہے ہیں ۔ رکن سندھ اسمبلی حاجی شفیع جاموٹ نے ٹریٹمنٹ کے بغیر کراچی کے سمندر میں سیوریج کا پانی شامل کرنے پر احتجاج کیا۔ انھوں نے کراچی کے سمندر میں زہریلے پانی کوآبی حیات کے لیے خطرہ قرار دیا ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے آئندہ ہفتے اجلاس بلانے اور معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مراد علی شاہ اور آبپاشی ماہرین نے 2025 وژن میں بڑے آبی منصوبے رکھنے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ وژن میں کالاغ ڈیم کے منصوبے کو بھی شامل کیا گیا ہے،جس پر سندھ کو شدید تحفظات ہیں۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں سے سہہ ماہی بنیاد پر مشاورت جاری رکھی جائے گی۔اقتصادی ترقی کے لیے بجلی کی لاگت کم کرنی ہوگی ۔انھوں نے کہا کہ قومی اداروں کی نجکاری کے بجائے 26 فیصد شیئرز نجی شعبے کو فروخت کریں گے، پی آئی اے کا سالانہ 36 ارب روپے کا خسارہ ہمیں ورثے میں ملا ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ اجلاس میں سندھ کے توانائی اور ترقیاتی منصوبوں پر بات ہوئی ہے ۔ تھرکول منصوبے سمیت متبادل ذرائع سے توانائی کے منصوبوں میں تاخیر کا مسئلہ وفاق کے سامنے اٹھایا ہے۔ آج کی مشاورت سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت مل کر توانائی بحران سے نمٹنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری حکومتوں کے کام نہ کرنے کی وجہ سے کسی بھی شعبے میں پلاننگ نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے آج ملک کئی بحرانوں میں گھرا ہواہے ہر سال پاکستان میں دنیا کے کئی ممالک کے برابر کی آبادی کا اضافہ ہورہا ہے جس سیکئی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ملک میں توانائی کے بحران سے نہ نمٹا گیا تو اگلے 5 سے 6 برسوں میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت پید اہوسکتی ہے کراچی میں امن قائم کرنا وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ٹارگٹڈ آپریشن کے اچھے نتائج ملے ہیں،کراچی آپریشن سے بدامنی کا بے قابوجن قابو میں آ گیا ہے اب حالات بہتر ہیں پہلے جو لوگ دن میں واردات کرتے تھے اور رات کوجشن مناتے تھے اب ان کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے ،سندھ حکومت کے ساتھ ملکر کئی منصوبے پر کام کررہے ہیں ،وہانجئینرنگ کونسل آف پاکستان میں تقریب سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پرمختلف انجئینرز نے وفاقی وزیرکو اپنی مشکلات سمیت کئی منصوبوں کی پلاننگ کے حوالے سے آگاہ کیا۔