آئی ایم ایف قرضہ پروگرام بحال مہنگائی اور عوام
بلاشبہ مشکل ترین حالات میں پاکستان معاشی طور پر سنبھل رہا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا ہے۔
بلاشبہ مشکل ترین حالات میں پاکستان معاشی طور پر سنبھل رہا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا ہے۔(فوٹو، فائل)
پاکستان اور آئی ایم ایف میں 6 ارب ڈالر قرضہ پروگرام بحال کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے، پاکستان نے اخراجات کم کرنے، بجلی کی قیمتیں بڑھانے اور اضافی ٹیکس لگانے کے مطالبات پر اتفاق کر لیا ہے۔
آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 50کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی جب کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں ایک پیکیج اور اصلاحات پروگرام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ پیکیج کا مقصد پاکستانی معیشت میں توازن پیدا کرنا ہے۔
بلاشبہ مشکل ترین حالات میں پاکستان معاشی طور پر سنبھل رہا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا ہے، کورونا وبا کے باعث آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کے جائزہ امور تعطل کے شکار ہوئے تھے ۔
آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت1.5فیصدتک رہے گی، کورونا کی دوسری لہر کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جنوری میں 13ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔
آئی ایم ایف کے عہدیدار ارنسٹو رامیریزریگونے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی پالیسیوں اور اصلاحات سے اقتصادی عدم توازن میں کمی لانے میں مددملی تھی اور پروگرام کے ذریعے بیش تر اہداف کا حصول ممکن تھا تاہم کورونا وبا نے اس بہتری کی راہ میں رکاوٹیں پیداکیں۔
اقدامات کے نتیجے میں وبا کی پہلی لہر میں کمی آنا شروع ہوئی اور پاکستانی معیشت پراثرات کافی حد تک کم ہوگئے۔یادش بخیر!جون 2019وہ وقت تھا جب پاکستان کو معاشی سہارے کے لیے تقریباً چھ بلین ڈالر قرض کی ضرورت تھی۔ کمزور معیشت اور بے یقینی کی کیفیت کے باعث اتنا قرض کسی بھی دوست ممالک سے نہ مل سکا۔
جب کہیں سے بھی امید نہ رہی تو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور سخت شرائط کے باعث ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا وہ طوفان اٹھا جو ابھی تک قابو میں آتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ شرح سود بڑھا کر 13 فیصد کرنا پڑی اور ایک ڈالر 169روپے تک چلا گیاتھا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی حکومت قرض پروگرام کے دیگر اہداف بھی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت نیپرا، اوگرا کی خود مختاری کے لیے قوانین تبدیل کر رہی ہے جب کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے لیے بھی قانون سازی کر رہی ہے۔
حکومت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کیے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر عمل درآمد کررہی ہے، جب کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان کو مکمل کرنے کی بھی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف سے کامیاب اقدامات اور مذاکرات کے نتیجے میں قرضہ پروگرام کی بحالی کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے ، حکومتی نقطہ نظر اپنی جگہ ایک حدتک درست سہی لیکن اس ملک میں بائیس کروڑ عوام بھی بستے ہیں، جو بجلی قیمتیں بڑھنے، اضافی ٹیکس کے نفاذ اور مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں ،ان کی مشکلات میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
یہ بات انتہائی واضح ہے کہ پاکستان میں معاشی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں طاقتور طبقات کے مفاد میں، پاکستانی اشرافیہ اور طاقتور طبقے جن میں شوگر ، صنعت کار، تاجر، پراپرٹی سمیت دیگر کئی مافیاز شامل ہیں اور بیرونی اشرافیہ جن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور استعماری طاقتیں شامل ہیں، میں ایک گٹھ جوڑ ہے۔ بیشتر پالیسیاں اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اور ان ہی طاقتور طبقات کے مفادات میں بنائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں1993سے اب تک تقریباً 14ٹیکس ایمنسٹی ہوئی ہیں، دنیا بھر میں شاید ہی ایسا ہوا ہو۔ان ساری ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں سے ملک کے طاقتور ترین طبقات نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے ،جب کہ آئی ایم ایف سے لیے گئے سارے قرضوں کا بوجھ عام آدمی پرپہلے بھی منتقل ہوتا رہا ہے اور آیندہ بھی ہوتارہے گا۔
موجودہ حکومت نے معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اقدامات اٹھانے کے بجائے جاری حسابات کے خسارے کو انتہائی تیز رفتاری سے کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ انتخابات سے چند ہفتے پہلے جاری کردہ اپنی دس نکاتی حکمت عملی پر عمل کرنے کے لیے وفاقی کابینہ تیار نہیں تھی کیونکہ ان اقدامات سے طاقتور اشرافیہ کے مفادات پر ضرب پڑتی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اس تیز رفتاری سے کمی کی کہ اس کے منفی اثرات زیادہ ہوئے، کیونکہ اگر شرح سود میں کمی کے ساتھ بنیادی اصلاحات نہ کی جائیں تو معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان کروڑوں کھاتے داروں کو پہنچا جو کہ نفع اور نقصان میں شرکت کی بنیاد پر تھے۔
فروری 2020میں اگر کسی کے ایک لاکھ روپے بینک میں بچت کھاتوں میں پڑے تھے تو اس کو گیارہ ہزار پانچ سو روپے منافع ملتا تھا، جو اگست میں کم ہوکر ساڑھے پانچ ہزار روپے رہ گیا۔ آئی ایم ایف سے ہم قرض لیتے رہیں تو اس کو واپس بھی کرنا ہے ، لہذا ان قرضوں کا سارا بوجھ عوام پر براہ راست منتقل کردیا جاتا ہے ، حکومت غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کرنے کی بجائے ٹیکس بیس میں اضافہ کرتے ہوئے طبقہ امرا پر ٹیکس عائد کرے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی ٹیکس بیس 4 ٹریلین روپے کی ہے،اگر ہم یہ دائرہ کار مناسب حد تک بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں تو خاطر خواہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ غیر ضروری حکومتی اخراجات کو ختم کرتے ہوئے 600 سے 800 بلین روپے سالانہ بچائے جاسکتے ہیں، اس کام کے لیے بیورو کریسی، سیاستدانوں اور وزیروں کو اپنے شاہانہ اخراجات بند کرنا ہوں گے، گوکہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر کفایت شعاری کو اپنائے ہوئے ہیں اور انھوں نے حکومتی مشیروں ، وزراء اور محکموں کو بھی سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کسی بھی طور اسراف سے پرہیز کریں لیکن ہو اس کے برعکس رہا ہے۔ وزیراعظم کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
ان سطور کے ذریعے ارباب اختیار کی خصوصی توجہ اس جانب بھی مبذول کروانا چاہیں گے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے لہذا اس شعبے کو ترقی دیے بغیر حقیقی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ ضروری ہے کہ زرعی شعبے پر سبسڈی ختم نہ کی جائے۔ چھوٹے کسانوں کو بلا سود زرعی قرضے، ادویات اور کھادیں مہیا کی جائیں اور پورے ملک میں موثر اور بامعنی زرعی اصلاحات کو عمل میں لاتے ہوئے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
فالتو اور سر کاری زمینیں بے زمیں مقامی کسانوں، مزارعوں، کھیت مزدوروں اور ہاریوں میں تقسیم کیں جائیں،تاکہ ہمارے کسان حقیقی معنوں میں ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کرسکیں۔
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے قرضوں کا مسئلہ نہایت گھمبیر ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، حکومتی سطح پرتو بلند بانگ دعوے اپنی جگہ ، لیکن زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایسی عوام دوست پالیساں ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو مستقبل میں ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکیں اور ہمیں کاسہ گدائی لے کر عالمی مالیاتی اداروںکے پاس نہ جانا پڑے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت ملک کے اندر واپس لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔
سیاستدانوں، بیوروکریسی کی طر ف سے باہر کے بینکوں میں جمع شدہ دولت اس قدر زیادہ ہے کہ ہمارے ملک کے بیرونی اور اندرونی تمام قرضے ادا ہو سکتے ہیں لہٰذا حکمرانوں کو یہ رقم ملک کے اندر واپس لانے کے لیے ہرممکن کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
قدرتی وسائل، تیل، گیس، پانی اور معدنیات کا دانش مند انہ استعمال کرتے ہوئے انھیں حقیقی ترقی کی بنیاد بنایا جائے اور اس کے ساتھ انسانی وسائل کے موثر استعمال کے لیے پالیسی سازی بھی کی جائے۔سماجی شعبوں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کو ترجیح دیتے ہوئے مختص بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ اس وقت ہم تعلیم پر اپنے جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد جب کہ صحت پر 0.7 فیصد خرچ کر رہے جوکہ جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سب سے کم ہے۔ تعلیم پر کم از کم جی ڈی پی کا دس فیصد مختص کیا جائے۔
فری، لازمی اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کیے جائے اور ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذکی جائے۔ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے لہذا ایسے حالات میں اب ہمیں زیادہ توجہ سماجی شعبے پر دینی چاہیے۔
پاکستان کے بہتر اور تابناک مستقبل کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے مزید قرضے لینے سے باز رہا جائے اور اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں، یہ اقدامات اُٹھانے سے پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا کیونکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ماہرین ملکوں کو ڈیفالٹ جیسے الفاظ سے ڈراتے ہیں، حالانکہ وہ خود نہیں چاہتے کہ کوئی ملک دیوالیہ ہو کیو نکہ وہ اپنے کلائنٹس کی تعداد میں کمی نہیں چاہتے۔
آخر میں حکومت سے مودبانہ گذارش ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے معاہدے اور قرضوں کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھنے کی بجائے عوام کی تکالیف اور مشکلات کا بھی احساس بھی اپنے اندر پیدا کرے، مہنگائی نے عام آدمی کا جینا مشکل کردیا ہے۔
کورونا وبا کے باعث لاکھوں پاکستانی اندرون ملک اور بیرون ممالک سے بے روزگار ہوئے ہیں ، لہذا ملکی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر کو آرڈر میں لانے کی ضرورت ہے، اس کے لیے سیاسی لیڈر شپ کو حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے، تاکہ عوام خود کو بے یارومددگار نہ سمجھیں۔
آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 50کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی جب کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں ایک پیکیج اور اصلاحات پروگرام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ پیکیج کا مقصد پاکستانی معیشت میں توازن پیدا کرنا ہے۔
بلاشبہ مشکل ترین حالات میں پاکستان معاشی طور پر سنبھل رہا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا ہے، کورونا وبا کے باعث آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کے جائزہ امور تعطل کے شکار ہوئے تھے ۔
آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت1.5فیصدتک رہے گی، کورونا کی دوسری لہر کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہورہے ہیں۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جنوری میں 13ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔
آئی ایم ایف کے عہدیدار ارنسٹو رامیریزریگونے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی پالیسیوں اور اصلاحات سے اقتصادی عدم توازن میں کمی لانے میں مددملی تھی اور پروگرام کے ذریعے بیش تر اہداف کا حصول ممکن تھا تاہم کورونا وبا نے اس بہتری کی راہ میں رکاوٹیں پیداکیں۔
اقدامات کے نتیجے میں وبا کی پہلی لہر میں کمی آنا شروع ہوئی اور پاکستانی معیشت پراثرات کافی حد تک کم ہوگئے۔یادش بخیر!جون 2019وہ وقت تھا جب پاکستان کو معاشی سہارے کے لیے تقریباً چھ بلین ڈالر قرض کی ضرورت تھی۔ کمزور معیشت اور بے یقینی کی کیفیت کے باعث اتنا قرض کسی بھی دوست ممالک سے نہ مل سکا۔
جب کہیں سے بھی امید نہ رہی تو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور سخت شرائط کے باعث ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا وہ طوفان اٹھا جو ابھی تک قابو میں آتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ شرح سود بڑھا کر 13 فیصد کرنا پڑی اور ایک ڈالر 169روپے تک چلا گیاتھا۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان کی حکومت قرض پروگرام کے دیگر اہداف بھی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت نیپرا، اوگرا کی خود مختاری کے لیے قوانین تبدیل کر رہی ہے جب کہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے لیے بھی قانون سازی کر رہی ہے۔
حکومت نے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کیے اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین پر عمل درآمد کررہی ہے، جب کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان کو مکمل کرنے کی بھی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف سے کامیاب اقدامات اور مذاکرات کے نتیجے میں قرضہ پروگرام کی بحالی کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے ، حکومتی نقطہ نظر اپنی جگہ ایک حدتک درست سہی لیکن اس ملک میں بائیس کروڑ عوام بھی بستے ہیں، جو بجلی قیمتیں بڑھنے، اضافی ٹیکس کے نفاذ اور مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں ،ان کی مشکلات میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
یہ بات انتہائی واضح ہے کہ پاکستان میں معاشی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں طاقتور طبقات کے مفاد میں، پاکستانی اشرافیہ اور طاقتور طبقے جن میں شوگر ، صنعت کار، تاجر، پراپرٹی سمیت دیگر کئی مافیاز شامل ہیں اور بیرونی اشرافیہ جن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور استعماری طاقتیں شامل ہیں، میں ایک گٹھ جوڑ ہے۔ بیشتر پالیسیاں اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اور ان ہی طاقتور طبقات کے مفادات میں بنائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں1993سے اب تک تقریباً 14ٹیکس ایمنسٹی ہوئی ہیں، دنیا بھر میں شاید ہی ایسا ہوا ہو۔ان ساری ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں سے ملک کے طاقتور ترین طبقات نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے ،جب کہ آئی ایم ایف سے لیے گئے سارے قرضوں کا بوجھ عام آدمی پرپہلے بھی منتقل ہوتا رہا ہے اور آیندہ بھی ہوتارہے گا۔
موجودہ حکومت نے معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اقدامات اٹھانے کے بجائے جاری حسابات کے خسارے کو انتہائی تیز رفتاری سے کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ انتخابات سے چند ہفتے پہلے جاری کردہ اپنی دس نکاتی حکمت عملی پر عمل کرنے کے لیے وفاقی کابینہ تیار نہیں تھی کیونکہ ان اقدامات سے طاقتور اشرافیہ کے مفادات پر ضرب پڑتی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اس تیز رفتاری سے کمی کی کہ اس کے منفی اثرات زیادہ ہوئے، کیونکہ اگر شرح سود میں کمی کے ساتھ بنیادی اصلاحات نہ کی جائیں تو معیشت کو نقصان ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان کروڑوں کھاتے داروں کو پہنچا جو کہ نفع اور نقصان میں شرکت کی بنیاد پر تھے۔
فروری 2020میں اگر کسی کے ایک لاکھ روپے بینک میں بچت کھاتوں میں پڑے تھے تو اس کو گیارہ ہزار پانچ سو روپے منافع ملتا تھا، جو اگست میں کم ہوکر ساڑھے پانچ ہزار روپے رہ گیا۔ آئی ایم ایف سے ہم قرض لیتے رہیں تو اس کو واپس بھی کرنا ہے ، لہذا ان قرضوں کا سارا بوجھ عوام پر براہ راست منتقل کردیا جاتا ہے ، حکومت غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کرنے کی بجائے ٹیکس بیس میں اضافہ کرتے ہوئے طبقہ امرا پر ٹیکس عائد کرے۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی ٹیکس بیس 4 ٹریلین روپے کی ہے،اگر ہم یہ دائرہ کار مناسب حد تک بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں تو خاطر خواہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ غیر ضروری حکومتی اخراجات کو ختم کرتے ہوئے 600 سے 800 بلین روپے سالانہ بچائے جاسکتے ہیں، اس کام کے لیے بیورو کریسی، سیاستدانوں اور وزیروں کو اپنے شاہانہ اخراجات بند کرنا ہوں گے، گوکہ وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر کفایت شعاری کو اپنائے ہوئے ہیں اور انھوں نے حکومتی مشیروں ، وزراء اور محکموں کو بھی سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کسی بھی طور اسراف سے پرہیز کریں لیکن ہو اس کے برعکس رہا ہے۔ وزیراعظم کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔
ان سطور کے ذریعے ارباب اختیار کی خصوصی توجہ اس جانب بھی مبذول کروانا چاہیں گے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی معیشت ہے لہذا اس شعبے کو ترقی دیے بغیر حقیقی ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ ضروری ہے کہ زرعی شعبے پر سبسڈی ختم نہ کی جائے۔ چھوٹے کسانوں کو بلا سود زرعی قرضے، ادویات اور کھادیں مہیا کی جائیں اور پورے ملک میں موثر اور بامعنی زرعی اصلاحات کو عمل میں لاتے ہوئے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
فالتو اور سر کاری زمینیں بے زمیں مقامی کسانوں، مزارعوں، کھیت مزدوروں اور ہاریوں میں تقسیم کیں جائیں،تاکہ ہمارے کسان حقیقی معنوں میں ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں اپنا بھرپور اور فعال کردار ادا کرسکیں۔
سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے قرضوں کا مسئلہ نہایت گھمبیر ہوتا جارہا ہے، جس کی وجہ سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، حکومتی سطح پرتو بلند بانگ دعوے اپنی جگہ ، لیکن زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ایسی عوام دوست پالیساں ترتیب دینے کی ضرورت ہے جو مستقبل میں ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرسکیں اور ہمیں کاسہ گدائی لے کر عالمی مالیاتی اداروںکے پاس نہ جانا پڑے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت ملک کے اندر واپس لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔
سیاستدانوں، بیوروکریسی کی طر ف سے باہر کے بینکوں میں جمع شدہ دولت اس قدر زیادہ ہے کہ ہمارے ملک کے بیرونی اور اندرونی تمام قرضے ادا ہو سکتے ہیں لہٰذا حکمرانوں کو یہ رقم ملک کے اندر واپس لانے کے لیے ہرممکن کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
قدرتی وسائل، تیل، گیس، پانی اور معدنیات کا دانش مند انہ استعمال کرتے ہوئے انھیں حقیقی ترقی کی بنیاد بنایا جائے اور اس کے ساتھ انسانی وسائل کے موثر استعمال کے لیے پالیسی سازی بھی کی جائے۔سماجی شعبوں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ کو ترجیح دیتے ہوئے مختص بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ اس وقت ہم تعلیم پر اپنے جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد جب کہ صحت پر 0.7 فیصد خرچ کر رہے جوکہ جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سب سے کم ہے۔ تعلیم پر کم از کم جی ڈی پی کا دس فیصد مختص کیا جائے۔
فری، لازمی اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص اقدامات کیے جائے اور ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذکی جائے۔ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے لہذا ایسے حالات میں اب ہمیں زیادہ توجہ سماجی شعبے پر دینی چاہیے۔
پاکستان کے بہتر اور تابناک مستقبل کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے مزید قرضے لینے سے باز رہا جائے اور اپنے وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبے بنائے جائیں، یہ اقدامات اُٹھانے سے پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا کیونکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ماہرین ملکوں کو ڈیفالٹ جیسے الفاظ سے ڈراتے ہیں، حالانکہ وہ خود نہیں چاہتے کہ کوئی ملک دیوالیہ ہو کیو نکہ وہ اپنے کلائنٹس کی تعداد میں کمی نہیں چاہتے۔
آخر میں حکومت سے مودبانہ گذارش ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے معاہدے اور قرضوں کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھنے کی بجائے عوام کی تکالیف اور مشکلات کا بھی احساس بھی اپنے اندر پیدا کرے، مہنگائی نے عام آدمی کا جینا مشکل کردیا ہے۔
کورونا وبا کے باعث لاکھوں پاکستانی اندرون ملک اور بیرون ممالک سے بے روزگار ہوئے ہیں ، لہذا ملکی معیشت کا پہیہ دوبارہ چلانے کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر کو آرڈر میں لانے کی ضرورت ہے، اس کے لیے سیاسی لیڈر شپ کو حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے، تاکہ عوام خود کو بے یارومددگار نہ سمجھیں۔