قومی مالیاتی کمیشن کے پہلا اجلاس میں ہی وفاق اور سندھ میں اختلاف پیدا ہوگیا

فاٹا کے لیے اضافی فنڈ کی کٹوتی پر وزیراعلی سندھ نے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو صاف انکار کر دیا

سندھ اپنے حصے سے دست بردار نہیں ہوگا، مراد علی شاہ، حفیظ شیخ نے سوچنے کے لیے وقت دے دیا (فوٹو : فائل)

قومی مالیاتی کمیشن کے پہلے اجلاس میں ہی وفاق اور سندھ میں اختلاف پیدا ہوگیا، فاٹا کے لیے اضافی فنڈ کی کٹوتی پر وزیراعلی سندھ نے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو صاف انکار کر دیا۔

دسویں قومی مالیاتی کمیشن کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تو پہلے ہی اجلاس میں وفاق اور سندھ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے، وزیراعلی سندھ نے فاٹا کے لیے اضافی فنڈ کی کٹوتی پر صاف انکار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سندھ اپنے حصے سے دست بردار نہیں ہو گا جس پر حفیظ شیخ نے مراد علی شاہ کو آئندہ اجلاس تک سوچنے کا مشورہ دے دیا۔


این ایف سی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 30 تاریخ کو تنخواہیں دینے کا سوچتے ہیں کہ کیسے دیں؟

دریں اثنا اجلاس میں ٹی او آرز پر بھی اتفاق نہیں ہوسکا۔ وزیر خزانہ کے پی کے تیمور جگھڑا کا کہنا تھا ضم شدہ اضلاع کے لیے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، 50 لاکھ لوگوں نے 20 برسوں سے جو قربانیاں دی ان کا ثمر ملنا چاہیے۔

وزیر خزانہ بلوچستان ظہور احمد بلیدی کا کہنا تھا کہ بلوچستان نے 250 ارب روپے دہشت گردی کے خلاف استعمال کیے، وفاق اور باقی صوبے بلوچستان کی محرومی کا خیال کریں اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ این ایف سی اجلاس میں صوبوں کی مشاورت سے تمام امور طے کیے جائیں گے۔
Load Next Story