ریاستی دہشت گردی
اقوام متحدہ عصر حاضر کے اقتصادی اور سیاسی و سماجی صورتحال کا مبسوط جائزہ لے۔
اقوام متحدہ عصر حاضر کے اقتصادی اور سیاسی و سماجی صورتحال کا مبسوط جائزہ لے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں ریاستی دہشتگردی اور مذہبی تعصبات کے خاتمہ کے لیے فوری اقدامات کرے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ہمسایہ اقلیتوں پر غیر انسانی مظالم اور تشدد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان اقلیتوں اور لسانی اکائیوں کے خلاف نفرت انگیز سیاسی تقریریں امن دشمنوں کو ان پر تشدد کے لیے اکساتی ہیں، اس قسم کے واقعات کا لازمی طور پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتیازی شہریت کے قانون کی آڑ میں انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے مذہبی مقامات پر حملے ہوتے ہیں اور اس نوعیت کے ریاستی تشدد کی صورتحال کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر خارجہ نے سفارتی تقاضوں کے پیش نظر اس ضمن میں جموں و کشمیر میں جاری ظالمانہ قبضہ گیری اور اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کی تفصیل نہیں بتائی تاہم یہی بہیمانہ طریقہ ظلم وبربریت کا مروج حوالہ ہے جو لوگوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے لیے روا رکھا جاتا ہے۔
بہر حال یہ عصری حقیقت دنیا کو معلوم ہے کہ خطے میں یہ ظلم وجبر کن کشمیریوں کے خلاف جاری ہے، اور اس کا نشانہ کون سی اقلیتیں اور لسانی شناخت رکھنے والی مظلوم کمیونٹیز ہیں جنھیں ان کے بنیادی جمہوری اور انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ مصر کا دورہ مکمل کرکے نیو یارک پہنچے تھے، مصر اور پاکستان کے مابین سفارتی سرد مہری کے خاتمہ اور دو طرفہ تعلقات کی بحالی صائب وقت میں ممکن ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی سوالیہ صورتحال اور اس کے تزویراتی ڈائنامکس پاکستان کے تناظر میں سیاسی اور سفارتی ماہرین کے لیے خاصی اہمیت کے حامل ہیں، مشرق وسطیٰ میں سیاست کا نقشہ گنجینہ معنی کا طلسم ہے، وزیر خارجہ نے مصر اور پاکستان کے مابین تعلقات کی بحالی کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ دونوں برادر ملک اپنے پرانے تاریخی رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے، انھوں نے کہا کہ مصر کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط مزید بہتر ہونگے۔
ذرایع کے مطابق وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ کا مقصد در حقیقت عالمی صورتحال کا ایک اجمالی و تزویراتی جائزہ لینا تھا، خارجہ ماہرین کے مطابق دنیا ایک غیر معمولی تبدیلی کی جانب جست لگانے کو بے تاب ہے، واقعات اور حالات تحیر و تغیر سے دوچار ہیں، کوئی ملک عالمگیریت کے دباؤ، ملکی مفاد اور عالمی تناؤ کے آگے نئے لائحہ عمل، سفارتی پیش قدمی اور وقت کے تقاضوں کی مکمل آگہی کے بغیر بریک تھرو کے امکانات کا اندازہ نہیں کرسکتا، مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بد امنی کا محور اور مرکز بنتی جا رہی ہے۔
اس بے یقینی اور جمہوریت کے ارتقا کو لاحق خطرات نے مغرب ومشرق دونوں کو تشویش اور الجھاوے سے نکلنے کی نئی سمت سازی کی مہمیز دی ہے، پاکستان اس صورتحال کا گہرا ادراک رکھتا ہے اور اسے امن عالم کے لیے اپنے رول کی تفہیم اور تعین کے لیے دوست اور دشمن میں فرق کے لیے دانشمندانہ دلیرانہ فیصلے کرنا ہونگے، پاکستان کو ڈپلومیسی، تعاون، مفاہمت اور ترقی و سماجی تبدیلی کے عمل کی نتیجہ خیزی میں دونوں کی رفاقت اور معاشی تقاضوں کے ادراک کی روشنی میں آگے بڑھنا ہوگا۔
اعصاب شکن چیلنجز کا سیل رواں ہے، خدا کرے وقت اقتصادی استحکام و تبدیلیوں، الجھے ہوئے سیاسی مسائل، امن کے قیام،خصوصاً افغان امن اور پاک بھارت تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے خطے اور عالمی رہنماؤں کو وہ سیاسی بصیرت عطا کرے جو امن کے قیام میں دنیا کو اسلحہ کی دوڑ کے جنگی جنون سے آزاد کر دے۔
وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تجویز دی کہ عالمی اتحاد گلوبل اسلامو فوبیا اور نسل پرست گروپوں کے سدباب کے لیے اٹھ کھڑا ہو، انھوں نے موقع کی مناسبت اور ضرورت کے مطابق عالمی برادری سے اپیل کی کہ بنیادی انسانی حقوق جن کی اقوام متحدہ کے چارٹر میں ضمانت دی گئی ہے ہر انسان کو بلاامتیاز حاصل ہوں اور ان تمام عناصر کے خلاف متحد ہوجائیں جو اسلامو فوبیا اور تشدد کا پرچار کرتے ہیں، ان وائلنٹ قوم پرست گروپوں کے خلاف اقدامات کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے اقتصادی، سماجی اور نسل پرستی کے خاتمہ پر منعقدہ خصوصی اجلاس میں ان خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کی جب کہ کوسٹاریکا کے نائب صدر بھی شریک ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے عالمی تناظر میں پاکستان کی کوششوں کا حوالہ دیا۔
اجلاس میں وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کے خلاف اور اس کے اثرات کو روکنے میں کی گئی کوششوں کا جائزہ لیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا نے غریب ممالک اور اقلیتوں کو بہت متاثر کیا، اس وبا سے غربت زدہ طبقات کے معاشی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوا، اسی حوالہ سے دنیا میں بھوک، بیروزگاری اور غربت کے مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی، وزیر خارجہ نے زور دیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ عدم مساوات، ہمہ اقسام امتیازات کی تحقیق کے لیے مسئلہ کے ساختیاتی اور نوآبادیاتی ورثہ اور ذمے داروں کا کھوج لگایا جائے تاکہ اس کی تاریخی جڑوں تک رسائی ممکن ہوسکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ عصر حاضر کے اقتصادی اور سیاسی و سماجی صورتحال کا مبسوط جائزہ لے۔ پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، سیاست میں ایک دانشمندانہ ٹھہراؤ پیدا کرنے کے لیے عزم صمیم چاہیے، سیاست منتشر ہے، سیاست دان اس سیاسی مرکزیت فکر سے محروم ہیں جو جمہوریت کے لیے امکانات کے دروازے کھولتی ہے، یہاں صورتحال بہت پریشان کن ہے، حکومت اور اپوزیشن کو ادراک نہیں کہ دشمن،کیا سوچ رہا ہے، ہمیں احساس نہیں کہ بھارتی میڈیا ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے کتنا زہر پھیلا رہا ہے۔
وہ ٹاسک فورس کے تین دن میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں ایسا شور مچا رہا ہے جیسے پاکستان کے خلاف فیصلہ ہونے والا ہے، سیاست دان ادراک کریں کہ ملکی معیشت، سیاست اور اس کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے، سینیٹ کے الیکشن تین مارچ کو ہو رہے ہیں، سینیٹرز کے دام لگ رہے ہیں، ملک کے سب سے بڑے لا آفیسر نے ہولناک حقائق کا انکشاف کیا ہے، ملک میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عوام سے چھین لی ہے۔
کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ملک ایک فکری، سیاسی، اخلاقی اور دانشورانہ دیوالیہ پن کا شکار ہوگیا ہے، کیا اس کے لیے قحط الرجال مناسب لفظ ہے، فہمیدہ حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ جمہوریت کو بڑے مسائل کا سامنا ہے، ہمیں دنیا کی بات چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی حالت ٹھیک کرنی چاہیے، عوام سیاسی بحث وتکرار، الزام تراشیوں اور شور وغوغہ سے تنگ آچکے ہیں، ان کی ذہنی حالت اس قابل نہیں کہ سیاست دان مزید ان پر دباؤ ڈالیں، سیاست میں دانشمندی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ہمسایہ اقلیتوں پر غیر انسانی مظالم اور تشدد کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان اقلیتوں اور لسانی اکائیوں کے خلاف نفرت انگیز سیاسی تقریریں امن دشمنوں کو ان پر تشدد کے لیے اکساتی ہیں، اس قسم کے واقعات کا لازمی طور پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتیازی شہریت کے قانون کی آڑ میں انھیں نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے مذہبی مقامات پر حملے ہوتے ہیں اور اس نوعیت کے ریاستی تشدد کی صورتحال کا سلسلہ جاری ہے۔
وزیر خارجہ نے سفارتی تقاضوں کے پیش نظر اس ضمن میں جموں و کشمیر میں جاری ظالمانہ قبضہ گیری اور اظہار رائے کی آزادی کو سلب کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ہتھکنڈوں کی تفصیل نہیں بتائی تاہم یہی بہیمانہ طریقہ ظلم وبربریت کا مروج حوالہ ہے جو لوگوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھنے کے لیے روا رکھا جاتا ہے۔
بہر حال یہ عصری حقیقت دنیا کو معلوم ہے کہ خطے میں یہ ظلم وجبر کن کشمیریوں کے خلاف جاری ہے، اور اس کا نشانہ کون سی اقلیتیں اور لسانی شناخت رکھنے والی مظلوم کمیونٹیز ہیں جنھیں ان کے بنیادی جمہوری اور انسانی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ مصر کا دورہ مکمل کرکے نیو یارک پہنچے تھے، مصر اور پاکستان کے مابین سفارتی سرد مہری کے خاتمہ اور دو طرفہ تعلقات کی بحالی صائب وقت میں ممکن ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی سوالیہ صورتحال اور اس کے تزویراتی ڈائنامکس پاکستان کے تناظر میں سیاسی اور سفارتی ماہرین کے لیے خاصی اہمیت کے حامل ہیں، مشرق وسطیٰ میں سیاست کا نقشہ گنجینہ معنی کا طلسم ہے، وزیر خارجہ نے مصر اور پاکستان کے مابین تعلقات کی بحالی کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ دونوں برادر ملک اپنے پرانے تاریخی رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں گے، انھوں نے کہا کہ مصر کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات اور تجارتی روابط مزید بہتر ہونگے۔
ذرایع کے مطابق وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ کا مقصد در حقیقت عالمی صورتحال کا ایک اجمالی و تزویراتی جائزہ لینا تھا، خارجہ ماہرین کے مطابق دنیا ایک غیر معمولی تبدیلی کی جانب جست لگانے کو بے تاب ہے، واقعات اور حالات تحیر و تغیر سے دوچار ہیں، کوئی ملک عالمگیریت کے دباؤ، ملکی مفاد اور عالمی تناؤ کے آگے نئے لائحہ عمل، سفارتی پیش قدمی اور وقت کے تقاضوں کی مکمل آگہی کے بغیر بریک تھرو کے امکانات کا اندازہ نہیں کرسکتا، مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بد امنی کا محور اور مرکز بنتی جا رہی ہے۔
اس بے یقینی اور جمہوریت کے ارتقا کو لاحق خطرات نے مغرب ومشرق دونوں کو تشویش اور الجھاوے سے نکلنے کی نئی سمت سازی کی مہمیز دی ہے، پاکستان اس صورتحال کا گہرا ادراک رکھتا ہے اور اسے امن عالم کے لیے اپنے رول کی تفہیم اور تعین کے لیے دوست اور دشمن میں فرق کے لیے دانشمندانہ دلیرانہ فیصلے کرنا ہونگے، پاکستان کو ڈپلومیسی، تعاون، مفاہمت اور ترقی و سماجی تبدیلی کے عمل کی نتیجہ خیزی میں دونوں کی رفاقت اور معاشی تقاضوں کے ادراک کی روشنی میں آگے بڑھنا ہوگا۔
اعصاب شکن چیلنجز کا سیل رواں ہے، خدا کرے وقت اقتصادی استحکام و تبدیلیوں، الجھے ہوئے سیاسی مسائل، امن کے قیام،خصوصاً افغان امن اور پاک بھارت تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے خطے اور عالمی رہنماؤں کو وہ سیاسی بصیرت عطا کرے جو امن کے قیام میں دنیا کو اسلحہ کی دوڑ کے جنگی جنون سے آزاد کر دے۔
وزیر خارجہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تجویز دی کہ عالمی اتحاد گلوبل اسلامو فوبیا اور نسل پرست گروپوں کے سدباب کے لیے اٹھ کھڑا ہو، انھوں نے موقع کی مناسبت اور ضرورت کے مطابق عالمی برادری سے اپیل کی کہ بنیادی انسانی حقوق جن کی اقوام متحدہ کے چارٹر میں ضمانت دی گئی ہے ہر انسان کو بلاامتیاز حاصل ہوں اور ان تمام عناصر کے خلاف متحد ہوجائیں جو اسلامو فوبیا اور تشدد کا پرچار کرتے ہیں، ان وائلنٹ قوم پرست گروپوں کے خلاف اقدامات کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے اقتصادی، سماجی اور نسل پرستی کے خاتمہ پر منعقدہ خصوصی اجلاس میں ان خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس کی صدارت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کی جب کہ کوسٹاریکا کے نائب صدر بھی شریک ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے عالمی تناظر میں پاکستان کی کوششوں کا حوالہ دیا۔
اجلاس میں وزیر خارجہ نے کورونا وائرس کے خلاف اور اس کے اثرات کو روکنے میں کی گئی کوششوں کا جائزہ لیا، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا نے غریب ممالک اور اقلیتوں کو بہت متاثر کیا، اس وبا سے غربت زدہ طبقات کے معاشی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوا، اسی حوالہ سے دنیا میں بھوک، بیروزگاری اور غربت کے مسائل پر سیر حاصل بحث ہوئی، وزیر خارجہ نے زور دیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ عدم مساوات، ہمہ اقسام امتیازات کی تحقیق کے لیے مسئلہ کے ساختیاتی اور نوآبادیاتی ورثہ اور ذمے داروں کا کھوج لگایا جائے تاکہ اس کی تاریخی جڑوں تک رسائی ممکن ہوسکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ عصر حاضر کے اقتصادی اور سیاسی و سماجی صورتحال کا مبسوط جائزہ لے۔ پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، سیاست میں ایک دانشمندانہ ٹھہراؤ پیدا کرنے کے لیے عزم صمیم چاہیے، سیاست منتشر ہے، سیاست دان اس سیاسی مرکزیت فکر سے محروم ہیں جو جمہوریت کے لیے امکانات کے دروازے کھولتی ہے، یہاں صورتحال بہت پریشان کن ہے، حکومت اور اپوزیشن کو ادراک نہیں کہ دشمن،کیا سوچ رہا ہے، ہمیں احساس نہیں کہ بھارتی میڈیا ایف اے ٹی ایف کے حوالہ سے کتنا زہر پھیلا رہا ہے۔
وہ ٹاسک فورس کے تین دن میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں ایسا شور مچا رہا ہے جیسے پاکستان کے خلاف فیصلہ ہونے والا ہے، سیاست دان ادراک کریں کہ ملکی معیشت، سیاست اور اس کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے، سینیٹ کے الیکشن تین مارچ کو ہو رہے ہیں، سینیٹرز کے دام لگ رہے ہیں، ملک کے سب سے بڑے لا آفیسر نے ہولناک حقائق کا انکشاف کیا ہے، ملک میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عوام سے چھین لی ہے۔
کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ملک ایک فکری، سیاسی، اخلاقی اور دانشورانہ دیوالیہ پن کا شکار ہوگیا ہے، کیا اس کے لیے قحط الرجال مناسب لفظ ہے، فہمیدہ حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ جمہوریت کو بڑے مسائل کا سامنا ہے، ہمیں دنیا کی بات چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی حالت ٹھیک کرنی چاہیے، عوام سیاسی بحث وتکرار، الزام تراشیوں اور شور وغوغہ سے تنگ آچکے ہیں، ان کی ذہنی حالت اس قابل نہیں کہ سیاست دان مزید ان پر دباؤ ڈالیں، سیاست میں دانشمندی اور دور اندیشی کی ضرورت ہے۔