پی ایس ایل اور ٹریفک جام
صرف کھیل کے وقت کچھ دیرکے لیے ٹریفک روکا جائے تو عوام اس کھیل کو برداشت کر سکتے ہیں۔
صرف کھیل کے وقت کچھ دیرکے لیے ٹریفک روکا جائے تو عوام اس کھیل کو برداشت کر سکتے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
پی ایس ایل کرکٹ میلہ شروع ہوا چاہتا ہے،کرکٹ کی رونقیں بحال،کھیل کے میدان آباد، شہروں میں میچزکا اہتمام ،شائقین کرکٹ شاد، سب باتیں صائب، لیکن جو ٹریفک پلان ترتیب دیا گیا ہے اور پریکٹس میچزکے دوران بھی سڑکوں کی بلاوجہ بندش سے شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔
نیشنل اسٹیڈیم جہاں واقع ہے وہاں قریب ہی لیاقت نیشنل اورآغا خان یونیورسٹی اسپتال موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں مریض کہاں جائیں، شدید بیمار لوگوں کے لیے ٹریفک جام میں پھنسے رہنا ان کی جان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
نیشنل اسٹیڈیم سے تھوڑا اور آگے رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس، خاتونِ پاکستان گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج اور لیاقت نیشنل کالج بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ ڈالمیا روڈ بھی عام طور پر بند کی جاتی ہے جس کی وجہ سے نجی یونیورسٹی کے طالب علموں کا مقررہ وقت پر یونیورسٹی پہنچنا محال ہوجاتا ہے۔
طلبا وطالبات کے مسائل اور ان کے تعلیمی نقصان کے بارے میں کسی نے سوچا ہے ؟ہر قسم کے ٹریفک کو لیاقت آباد سے حسن اسکوئر فلائی اوور اور یونیورسٹی روڈ سے ایکسپو سینٹر کے پاس اسٹیڈیم روڈ تک جانے پر پابندی کردی جاتی ہے ۔
عوام اور ہیوی ٹریفک کے لیے صرف شاہراہِ فیصل، شاہراہِ پاکستان اور یونیورسٹی روڈ ہی باقی رہ گئے ہیں جن پر ایک ہی راستہ کھلا ہونے کے سبب شدید ٹریفک جام گھنٹوں تک رہتا ہے، جس کا فائدہ راہزن اٹھاتے ہیں اور ٹریفک جام میں گاڑیوں میں سوار افراد سے لوٹ مار شروع ہوجاتی ہے۔
اگلے ماہ لاہور میں بھی پاک جنوبی افریقہ ٹی ٹوئنٹی سیریز،کرکٹ ٹیموں کی قذافی اسٹیڈیم آمد سے فیروزپور روڈ، مال روڈ، جیل روڈ،کینال روڈاورگلبرگ سمیت شہر بھر میں ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں،ٹریفک پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دی اور ٹریفک کا نظام درہم رہا۔ دوسری جانب فیروز پور روڈ شہرکی مصروف ترین شاہراہ پر جتنا ٹریفک کا دباؤ تھا، اتنی ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں بھی کی گئیں۔
اس کے علاوہ کراچی اور لاہور میں کاروبار ٹھپ ہوجانا اوردکانوں کی بندش سے بھی شہریوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔سیکیورٹی کے نام پر عوام کو یرغمال بنانے کے بجائے صرف کھیل کے وقت کچھ دیرکے لیے ٹریفک روکا جائے تو عوام اس کھیل کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ میلہ لوگوں کے لیے عذاب بنتا جا رہا ہے، حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو فوری ریلیف دے۔
نیشنل اسٹیڈیم جہاں واقع ہے وہاں قریب ہی لیاقت نیشنل اورآغا خان یونیورسٹی اسپتال موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میں مریض کہاں جائیں، شدید بیمار لوگوں کے لیے ٹریفک جام میں پھنسے رہنا ان کی جان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
نیشنل اسٹیڈیم سے تھوڑا اور آگے رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس، خاتونِ پاکستان گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج اور لیاقت نیشنل کالج بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ ڈالمیا روڈ بھی عام طور پر بند کی جاتی ہے جس کی وجہ سے نجی یونیورسٹی کے طالب علموں کا مقررہ وقت پر یونیورسٹی پہنچنا محال ہوجاتا ہے۔
طلبا وطالبات کے مسائل اور ان کے تعلیمی نقصان کے بارے میں کسی نے سوچا ہے ؟ہر قسم کے ٹریفک کو لیاقت آباد سے حسن اسکوئر فلائی اوور اور یونیورسٹی روڈ سے ایکسپو سینٹر کے پاس اسٹیڈیم روڈ تک جانے پر پابندی کردی جاتی ہے ۔
عوام اور ہیوی ٹریفک کے لیے صرف شاہراہِ فیصل، شاہراہِ پاکستان اور یونیورسٹی روڈ ہی باقی رہ گئے ہیں جن پر ایک ہی راستہ کھلا ہونے کے سبب شدید ٹریفک جام گھنٹوں تک رہتا ہے، جس کا فائدہ راہزن اٹھاتے ہیں اور ٹریفک جام میں گاڑیوں میں سوار افراد سے لوٹ مار شروع ہوجاتی ہے۔
اگلے ماہ لاہور میں بھی پاک جنوبی افریقہ ٹی ٹوئنٹی سیریز،کرکٹ ٹیموں کی قذافی اسٹیڈیم آمد سے فیروزپور روڈ، مال روڈ، جیل روڈ،کینال روڈاورگلبرگ سمیت شہر بھر میں ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں،ٹریفک پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دی اور ٹریفک کا نظام درہم رہا۔ دوسری جانب فیروز پور روڈ شہرکی مصروف ترین شاہراہ پر جتنا ٹریفک کا دباؤ تھا، اتنی ہی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں بھی کی گئیں۔
اس کے علاوہ کراچی اور لاہور میں کاروبار ٹھپ ہوجانا اوردکانوں کی بندش سے بھی شہریوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔سیکیورٹی کے نام پر عوام کو یرغمال بنانے کے بجائے صرف کھیل کے وقت کچھ دیرکے لیے ٹریفک روکا جائے تو عوام اس کھیل کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں یہ میلہ لوگوں کے لیے عذاب بنتا جا رہا ہے، حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کو فوری ریلیف دے۔