قومی بچت اسکیموں پر شرح منافع میں اضافہ

ادارہ قومی بچت کے مطابق قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کا اطلاق یکم جنوری2014ء سے ہو گا۔

قومی بچت اسکیموں پر شرح منافع میں تقریباً 1 فیصد تک اضافہ کر دیا گیاہے۔ پنشنرز بینیفٹ اکائونٹ اور بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ کی سالانہ شرح منافع ایک فیصد بڑھا کر 14.04 فیصد کر دی گئی۔ شرح منافع میں ایک فیصد اضافہ اگرچہ بہت معمولی ہے تاہم بیواؤں اور بوڑھے پنشنروں کو اس اضافہ کا تھوڑا بہت فائدہ ہو سکے گا جن کا تمام دارومدار اسی قلیل سی رقم پر ہوتا ہے جو انھیں قومی بچت کی اسکیموں میں جمع کرائی اپنی رقم کے منافع کی شکل میں ملتی ہے۔ ادارہ قومی بچت کے مطابق قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کا اطلاق یکم جنوری2014ء سے ہو گا۔


ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ کا سالانہ شرح منافع11.61 فیصد سے بڑھا کر 12.2 فیصد، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ اور اسپیشل سیونگ اکائونٹس کی شرح منافع 10.60فیصد سے بڑھا کر 11.40 فیصد، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ کی شرح منافع 11.22 سے بڑھا کر 11.88 فیصد، بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور پنشنرز بینفٹ اکائونٹ کی سالانہ شرح منافع 13.44 فیصد سے بڑھا کر 140.4 فیصد جب کہ سیونگ اکائونٹس کا شرح منافع 7.25 فیصد سے بڑھا کر 7.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ جہاں تک ترقی پذیر ممالک میں قومی بچت کی اسکیموں کی اہمیت کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دو آراء نہیں ان اسکیموں کا دہرا فائدہ ہوتا ہے یعنی ایک تو چھوٹی چھوٹی بچت کرنے والے اپنا گزارہ کر سکتے ہیں، دوسرے حکومت بھی اس رقم کو دیگر منفعت بخش منصوبوں میں لگا کر اپنے اخراجات پورے کر سکتی ہیں۔ حکومتیں ان رقوم کو وسیع تر عوامی بھلائی کے لیے خرچ کر سکتی ہیں۔ تاہم ان اسکیموں پر شرح منافع اتنی ضرور ہونی چاہیے کہ کچن وغیرہ کا خرچہ باآسانی چل سکے۔ موجودہ حکومت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراط زر کے پیش نظر قومی بچت کی اسکیموں پر شرح منافع مزید بڑھانی چاہیے تاکہ سفید پوش طبقہ مہنگائی کے اس دور میں قدر آسودہ زندگی گزار سکیں۔
Load Next Story