عراق کے بگڑتے ہوئے حالات
عراق میں جنم لینے والی صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں فوری امن کے قیام کے امکانات موجود نہیں ہیں۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق القاعدہ سے منسلک ایک تنظیم اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ دی لیونٹ (Islamic State of Iraq and the Levant)(آئی ایس آئی ایل ) کے جنگجوئوں نے عراق کے شہر فلوجہ پر قبضہ کرکے سرکاری عمارتوں پر اپنے پرچم لہرا دیے اور اسلامی ریاست کا اعلان کردیا۔جنگوئوں نے عراقی پرچموں کو آگ لگادی ہے۔ جنگجوئوں نے کچھ دنوں سے فلوجہ اور رمادی شہر کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا ہوا تھا 'گزشتہ روز فلوجہ پر ان کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا۔رمادی میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔مغربی ذرایع ابلاغ نے عینی شاہدین اور سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیاہ لباس میں ملبوس باغی رمادی شہر کی گلیوں اور بازاروں میں مسلح قبائلیوں کے ساتھ لڑائی میں مشین گنیں اور طیارہ شکن توپیں استعمال کررہے ہیں۔ عراقی فوج کے مطابق رمادی میں سیکیورٹی فورسز اور قبائلی ملیشیا جنگجوئوں کا پیچھا کررہے ہیں۔ادھرایسی خبریں بھی آئی ہیں جن میں عراق کے قبائلی ذرایع کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ صوبہ انبار میں القاعدہ کے خلاف آپریشن میں اب تک 167 جنگجوہلاک کردیے گئے ہیں۔گزشتہ روز فلوجہ میں 55باغی اور جب کہ 8عراقی فوجی باہمی لڑائی میں مارے گئے ہیں۔
جمعہ کو بھی فلوجہ میں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 71 جنگجو اور 32 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ القاعدہ سے منسلک ISIL 'عراق اور شام میں اسلامی ریاست' قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ عراق میں جنم لینے والی صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں فوری امن کے قیام کے امکانات موجود نہیں ہیں۔ امریکا نے عراق سے اپنی فوجیں بغیر کسی مستحکم نظام کے نکال لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عراق بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ وہاں حکومت قائم ہے لیکن رمادی اور فلوجہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس کا کوئی کنٹرول نہیں جب کہ دارالحکومت بغداد میں بھی خود کش حملے اور بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ شام کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ مشرق وسطیٰ خصوصاً عراق اور شام میں قیام امن کے لیے مسلم ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ ان ملکوں میں برسوں تک قتل غارت ہوتی رہے گی۔
جمعہ کو بھی فلوجہ میں سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں میں 71 جنگجو اور 32 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ القاعدہ سے منسلک ISIL 'عراق اور شام میں اسلامی ریاست' قائم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے ۔ عراق میں جنم لینے والی صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں فوری امن کے قیام کے امکانات موجود نہیں ہیں۔ امریکا نے عراق سے اپنی فوجیں بغیر کسی مستحکم نظام کے نکال لیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ عراق بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ وہاں حکومت قائم ہے لیکن رمادی اور فلوجہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس کا کوئی کنٹرول نہیں جب کہ دارالحکومت بغداد میں بھی خود کش حملے اور بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ شام کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ مشرق وسطیٰ خصوصاً عراق اور شام میں قیام امن کے لیے مسلم ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ ان ملکوں میں برسوں تک قتل غارت ہوتی رہے گی۔