روپے کی ریکوری افراط زر میں کمی رجحان بدلنے سے شرح سود میں اضافے کے امکانات معدوم
بیرونی انفلوزمیں تاخیراورنجکاری عمل شروع نہ ہوناسختی کو دعوت دے سکتاہے،ماہرین
افراط زر کم اورروپے کی قدرمیں بہتری سے شرح سودبرقرار رکھنے میں مدد ملے گی،بیرونی انفلوزمیں تاخیراورنجکاری عمل شروع نہ ہوناسختی کو دعوت دے سکتاہے،ماہرین۔ فوٹو: فائل
معاشی تجزیہ کاروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ ڈالر کے مقابل روپے کی قدر میں بہتری اور افراط زر میں کمی کے سبب شرح سود میں اضافے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں اور آئندہ جائزے میں مانیٹری پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔
یادرہے کہ دسمبرمیںافراط زراورروپے کی قدرکے حوالے سے رجحان تبدیل ہواہے،نومبرمیںروپے کی قدرمیں تنزلی اورافراط زرمیں اضافے کا رجحان تھا۔ اے کے ڈی سیکیورٹیز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 میں مانیٹری پالیسی کے جائزے میں اسٹیٹ بینک کو افراط زر میں کمی اور روپے کی قدر کی بہتری سے موجودہ شرح سود برقرار رکھنے میں مدد ملے گی تاہم بیرونی ذرائع سے انفلوز کی آمد میں تاخیر یا نجکاری کے لیے سرگرمیاں شروع نہ ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کو مانیٹری پالیسی میں سختی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
حکومت نے نجکاری کمیشن کو پی آئی اے کے 26فیصد حصص کی نیلامی رواں سال مکمل کرنے، نیکسٹ جنریشن (تھری جی) ٹیکنالوجی کی نیلامی مارچ تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کے لیے بیرونی ذرائع سے آسان شرائط پر قرض کی رقم رواں ماہ ملنے کی توقع ہے۔ دسمبر 2013 میں کنزیومر پرائس انڈیکس غیرمتوقع طور پر دسمبر 2012کے مقابلے میں 9.18فیصد رہا جو نومبر 2013 کے مقابلے میں 1.32فیصد کم ہے، مالی سال 2013-14کے پہلے 5 ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں اوسط ماہانہ 1.3فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مالی سال 2013-14 کے اختتام تک کنزیومر پرائس انڈیکس 9فیصد تک محدود رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یادرہے کہ دسمبرمیںافراط زراورروپے کی قدرکے حوالے سے رجحان تبدیل ہواہے،نومبرمیںروپے کی قدرمیں تنزلی اورافراط زرمیں اضافے کا رجحان تھا۔ اے کے ڈی سیکیورٹیز کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق جنوری 2014 میں مانیٹری پالیسی کے جائزے میں اسٹیٹ بینک کو افراط زر میں کمی اور روپے کی قدر کی بہتری سے موجودہ شرح سود برقرار رکھنے میں مدد ملے گی تاہم بیرونی ذرائع سے انفلوز کی آمد میں تاخیر یا نجکاری کے لیے سرگرمیاں شروع نہ ہونے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کو مانیٹری پالیسی میں سختی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
حکومت نے نجکاری کمیشن کو پی آئی اے کے 26فیصد حصص کی نیلامی رواں سال مکمل کرنے، نیکسٹ جنریشن (تھری جی) ٹیکنالوجی کی نیلامی مارچ تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کے لیے بیرونی ذرائع سے آسان شرائط پر قرض کی رقم رواں ماہ ملنے کی توقع ہے۔ دسمبر 2013 میں کنزیومر پرائس انڈیکس غیرمتوقع طور پر دسمبر 2012کے مقابلے میں 9.18فیصد رہا جو نومبر 2013 کے مقابلے میں 1.32فیصد کم ہے، مالی سال 2013-14کے پہلے 5 ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں اوسط ماہانہ 1.3فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، مالی سال 2013-14 کے اختتام تک کنزیومر پرائس انڈیکس 9فیصد تک محدود رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔