جعلی انوائسز کا کاروبار روکنے کیلیے کارروائی شروع

یونٹس وٹیکس گزاروں کی جانچ،آرٹی اوکراچی میں3ماہ میں410 رجسٹریشنز کاانکشاف

320یونٹس کی فزیکل تصدیق کے بغیرخلاف قانون سیلز ٹیکس رجسٹریشن ہوئی،دستاویز۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جعلی و بوگس انوائسز جاری کرنے کے مکروہ کاروبار کی روک تھام کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ بہت سے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور ایف پی سی سی آئی جیسے اہم اداروں میں اہم عہدوں پرایسے لوگوں کے فائز ہونے کی رپورٹس ملی ہیں جو ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کے فزیکلی کاروباری یونٹس ہی نہیں اور وہ این ٹی این بھی رکھتے ہیں اور کاروباری پتے گھروں کے دے رکھے ہیں۔ اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے ملک بھر میں قائم ایف بی آر کے ماتحت اداروں ریجنل ٹیکس آفسز اور ایل ٹی یوز میں رجسٹرڈ سیلز ٹیکس یونٹس اور ٹیکس دہندگان کی چھان بین شروع کردی ہے اور مذکورہ ڈائریکٹریٹ کی طرف سے شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران کراچی کے صرف ایک ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) میں جولائی تا ستمبر 2013 کے 3 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 784 یونٹس نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن حاصل کی اور ان میں سے 410 یونٹ ایسے ہیں جنہوں نے جولائی اور اگست کے 2ماہ کے دوران رجسٹریشن حاصل کی جو معمول سے بہت زیادہ ہے۔




دستاویز کے مطابق مذکورہ سیلزٹیکس رجسٹرڈ یونٹس کی چھان بین کے دوران انکشاف ہوا کہ جولائی اور اگست 2013 کے دوران رجسٹرڈ ہونے والے 410یونٹس میں سے صرف 90 ایسے یونٹس ہیں جنہیں ریجنل ٹیکس آفس نے متعلقہ رجسٹریشن آفس(سی آر او)کی طرف سے فیلڈ فارمشنز سے فیزیکلی تصدیق کے بعد سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کیا ہے اور انکو رجسٹرڈ کرنے کی سفارش بھی متعلقہ سی آر او نے کی تھی جبکہ باقی ماندہ 320 یونٹس ایسے ہیں جنہیں متعلقہ سی آر او نے بغیر کسی فیزیکلی تصدیق کے براہ راست سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کیا جبکہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی سیکشن 14 کی ذیلی شق نمبر 4کے تحت مینوفیکچرنگ کٹیگری میں سیلز ٹیکس رجسٹریشن فیزیکل تصدیق لازمی ہے۔

ڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کے مطابق مشاہدے میں آیا ہے کہ جعلی انوائسز جاری اور فراڈ کرنے والے عناصر اپنے کاروباری یونٹ کی فیزیکلی تصدیق سے بچنے کے لیے براہ راست سی آر او سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن کرا لیتے ہیں اور اس کے بعد اپنے سیلز ٹیکس رجسٹریشن پروفائل میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں کی کلاز کا اضافہ کرالیتے ہیں، اسی طرح وہ یونٹس جو کسی دوسرے رجسٹرڈ یونٹ کے ایما پر اشیا کی تیاری کررہے ہیں وہ بغیر کسی فیزیکلی تصدیق کے خود کو سروسز کی کٹیگری میں متعلقہ سی آر او کے ذریعے براہ راست سیلز ٹیکس میں خود کو رجسٹرڈ کرالیتے ہیں، اسی طرح پرچون فروش (ریٹیلرز) اور ہول سیلرز کو بھی بغیر کسی فیزیکلی تصدیق کے خود کو متعلقہ سی آر او کے ذریعے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کرانے کی اجازت ہے۔ رپورٹ میں ڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی طرف سے ایف بی آر سے کہا گیاکہ ایس آر او 1125(I)/2013 کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ریٹیلرز اور ہول سیلرزکو بھی بغیر کسی فیزیکلی تصدیق کے متعلقہ سی آر اوکے ذریعے سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ کرانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
Load Next Story