اوآئی سی ممالک کی 75 فیصد بالغ آبادی مالیاتی خدمات سے محروم
او آئی سی کے رکن ملکوں میں 7فیصد بالغ آبادی مذہبی وجوہ کو بینکاری اور مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیتی ہے.
او آئی سی کے رکن ملکوں میں 7فیصد بالغ آبادی مذہبی وجوہ کو بینکاری اور مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیتی ہے.
ورلڈ بینک کی ''گلوبل فنانشل ڈیولپمنٹ رپورٹ 2014'' کے مطابق مسلم دنیا میں مالیاتی سہولت سے محروم افراد کو بنیادی مالیاتی سہولتوں کی فراہمی میں اسلامی بینکاری اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلم آبادی کا بڑا حصہ مالیاتی خدمات سے محروم ہے، اس لیے اسلامی مالیاتی نظام کے ذریعے مسلم آبادی میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کا 50فیصد مالیاتی خدمات کے دائرہ کار سے باہر ہے تاہم او آئی سی کے رکن ملکوں میں 75فیصد بالغ آبادی مالیاتی خدمات کے دائرے سے باہر ہے، دنیا کی بالغ آبادی کا صرف 5 فیصد طبقہ مذہبی وجوہ کی بنا پر مالیاتی خدمات سے دور ہے لیکن او آئی سی کے رکن ملکوں میں 7فیصد بالغ آبادی مذہبی وجوہ کو بینکاری اور مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیتی ہے، عالمی سطح پر 20فیصد بالغ آبادی بینکاری اور مالیاتی خدمات سے محرومی کی وجہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے فاصلوں کو قرار دیتی ہے۔
25فیصد کا کہنا ہے کہ اکائونٹ کھولنا مہنگا ہے، 18 فیصد آبادی دستاویزی امور سے عدم واقفیت کو مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیتے ہیں، 13فیصد مالیاتی نظام کے بارے میں بے اعتمادی کا شکار ہیں، 65فیصد کا کہنا ہے کہ سرمائے کی کمی مالیاتی خدمات کے دائرے سے باہر رہنے کا اہم سبب ہے جبکہ 23فیصد آبادی میں گھر کے کسی نہ کسی فرد کا اکائونٹ ہونے کی وجہ سے اسے غیرضروری قرار دیتے ہیں، اس کے مقابلے میں آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز(او آئی سی) کے رکن ممالک میں 23 فیصد فاصلے کی وجہ سے بینکاری نظام سے دور ہیں، 29فیصد کا ماننا ہے کہ اکائونٹ کھولنا مہنگا ہے، 22فیصد دستاویزی امور سے عدم واقفیت کی بنا پر مالیاتی خدمات کے دائرے سے باہر ہیں، حیرت انگیز طور پر مالیاتی نظام پر بداعتمادی کا تناسب او آئی سے کے رکن ملکوں میں بھی 13فیصد ہے، 75 فیصد کے پاس بینکوں میں رکھنے کے لیے سرمایہ ہی نہیں ہے جبکہ 11فیصد کی فیملی میں سے کسی نہ کسی کا اکائونٹ مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں شامل او آئی سی کے رکن ملکوں میں اکائونٹ پینیٹریشن ریٹ رپورٹ 2011 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بالغ آبادی کے صرف 10.3فیصد کے بینکوں میں اکائونٹ ہیں، پاکستان میں اکائونٹ نہ کھولنے والے 7.2فیصد افرادنے مذہبی وجوہ کی بنا پر مالیاتی خدمات سے دوری اختیار کررکھی ہے، پاکستان میں اسلامی مالیاتی اداروں کے مجموعی اثاثوں کے لحاظ سے اوسط بالغ اثاثوں کی مالیت40ڈالر ہے اور ہر ایک کروڑ افراد کے لیے 2.5 (2سے3) اسلامی مالیاتی ادارے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کی 33.6فیصد آبادی نے مذہبی وجوہ کی بنا پر مالیاتی نظام سے دوری اختیار کر رکھی ہے، عراق میں یہ شرح 25.6فیصد، مراکش میں 26.8فیصد، نائیجیر میں 23.6فیصد، سعودی عرب میں 24.1 فیصد، تیونس میں 26.8فیصد اور غزہ ومغربی کنارے (فلسطینی علاقوں) کی 26.7 فیصد آبادی نے مذہبی وجوہ کو مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسلم آبادی کا بڑا حصہ مالیاتی خدمات سے محروم ہے، اس لیے اسلامی مالیاتی نظام کے ذریعے مسلم آبادی میں مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی کا 50فیصد مالیاتی خدمات کے دائرہ کار سے باہر ہے تاہم او آئی سی کے رکن ملکوں میں 75فیصد بالغ آبادی مالیاتی خدمات کے دائرے سے باہر ہے، دنیا کی بالغ آبادی کا صرف 5 فیصد طبقہ مذہبی وجوہ کی بنا پر مالیاتی خدمات سے دور ہے لیکن او آئی سی کے رکن ملکوں میں 7فیصد بالغ آبادی مذہبی وجوہ کو بینکاری اور مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیتی ہے، عالمی سطح پر 20فیصد بالغ آبادی بینکاری اور مالیاتی خدمات سے محرومی کی وجہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے فاصلوں کو قرار دیتی ہے۔
25فیصد کا کہنا ہے کہ اکائونٹ کھولنا مہنگا ہے، 18 فیصد آبادی دستاویزی امور سے عدم واقفیت کو مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیتے ہیں، 13فیصد مالیاتی نظام کے بارے میں بے اعتمادی کا شکار ہیں، 65فیصد کا کہنا ہے کہ سرمائے کی کمی مالیاتی خدمات کے دائرے سے باہر رہنے کا اہم سبب ہے جبکہ 23فیصد آبادی میں گھر کے کسی نہ کسی فرد کا اکائونٹ ہونے کی وجہ سے اسے غیرضروری قرار دیتے ہیں، اس کے مقابلے میں آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز(او آئی سی) کے رکن ممالک میں 23 فیصد فاصلے کی وجہ سے بینکاری نظام سے دور ہیں، 29فیصد کا ماننا ہے کہ اکائونٹ کھولنا مہنگا ہے، 22فیصد دستاویزی امور سے عدم واقفیت کی بنا پر مالیاتی خدمات کے دائرے سے باہر ہیں، حیرت انگیز طور پر مالیاتی نظام پر بداعتمادی کا تناسب او آئی سے کے رکن ملکوں میں بھی 13فیصد ہے، 75 فیصد کے پاس بینکوں میں رکھنے کے لیے سرمایہ ہی نہیں ہے جبکہ 11فیصد کی فیملی میں سے کسی نہ کسی کا اکائونٹ مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں شامل او آئی سی کے رکن ملکوں میں اکائونٹ پینیٹریشن ریٹ رپورٹ 2011 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بالغ آبادی کے صرف 10.3فیصد کے بینکوں میں اکائونٹ ہیں، پاکستان میں اکائونٹ نہ کھولنے والے 7.2فیصد افرادنے مذہبی وجوہ کی بنا پر مالیاتی خدمات سے دوری اختیار کررکھی ہے، پاکستان میں اسلامی مالیاتی اداروں کے مجموعی اثاثوں کے لحاظ سے اوسط بالغ اثاثوں کی مالیت40ڈالر ہے اور ہر ایک کروڑ افراد کے لیے 2.5 (2سے3) اسلامی مالیاتی ادارے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کی 33.6فیصد آبادی نے مذہبی وجوہ کی بنا پر مالیاتی نظام سے دوری اختیار کر رکھی ہے، عراق میں یہ شرح 25.6فیصد، مراکش میں 26.8فیصد، نائیجیر میں 23.6فیصد، سعودی عرب میں 24.1 فیصد، تیونس میں 26.8فیصد اور غزہ ومغربی کنارے (فلسطینی علاقوں) کی 26.7 فیصد آبادی نے مذہبی وجوہ کو مالیاتی خدمات سے دوری کی وجہ قرار دیا ہے۔