روئی کی طلب میں اضافہ قیمتیں 200 روپے من تک بڑھ گئیں

گزشتہ ہفتے مارکیٹس میں قیمتیں7300تا7400،موخرادائیگی پر7500اور اسپاٹ ریٹ7ہزار روپے من ہوگئے

پھٹی کے دام 2700 تا 4 ہزار فی 40 کلور ہے،ٹیکسٹائل برآمدات میںاضافے کی امیدپرروئی مزیدمہنگی ہوسکتی ہے،احسان الحق۔ فوٹو: فائل

یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو یکم جنوری 2014 سے جی ایس پی کا درجہ حاصل ہونے کے بعد ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کی امید پر مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی خریداری بڑھنے کے باعث گزشتہ ہفتے روئی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے کراچی کاٹن ایکسچینج میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 200 روپے اضافے کے ساتھ 7 ہزار روپے فی من تک پہنچ گئے جبکہ مقامی منڈیوں میں روئی کی قیمتیں 100 سے 200 روپے فی من اضافے کے ساتھ 7ہزار 300 سے 7 ہزار 400روپے فی من تک پہنچ گئیں جبکہ موخر ادائیگی پر روئی کے سودے7ہزار500روپے فی من میں طے پائے جبکہ پھٹی کے بھائو2700 روپے سے 4000 روپے فی 40کلو گرام تک رہے۔ دوسری طرف کرسمس اورنئے سال کی تعطیلات، امریکی کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ منفی ہونے جیسے عوامل کے باعث نیویارک کاٹن ایکس چینج میں ہفتے کے ابتدائی دنوں میں روئی کی قیمتوں میں اضافہ اور بعد ازاں کمی ہوئی، گزشتہ ہفتے نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈیلوری روئی کے سودے0.85 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ89.10سینٹ فی پائونڈ، مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 1.18سینٹ فی پائونڈ کمی کے ساتھ 82.84 سینٹ فی پائونڈ میں طے پائے جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں395روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 40 ہزار496روپے فی کینڈی رہے۔




چین میں مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 60 یوآن فی ٹن اضافے کے ساتھ 18 ہزار 960یو آن فی ٹن پر بند ہوئے۔ علاوہ ازیں پاکستان کاٹن جنرز ایسو ایشن (پی سی جی اے)کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے''ایکسپریس'' کو بتایا کہ 8جنوری سے جرمنی میں شروع ہونے والے ٹیکسٹائل فیئرمیں اس بار ریکارڈ تعداد میں پاکستانی ٹیکسٹائل ملز شرکت کر رہی ہیں، اگر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان بڑی تعداد میں آرڈرز حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے روئی کی طلب بھی بڑھ جائے گی اور یہ رجحان قیمتوں میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستانی ملز کو اچھے آرڈرز ملنے اور یورپی یونین کو برآمدات میں اضافے کے امکانات پر پاکستانی ملز نے بھارت سے بھی روئی کی درآمدات شروع کردی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان بھارت سے اب تک 6سے7لاکھ بیلز روئی کے درآمدی معاہدے کر چکے ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے ابتدائی طور پر بھارتی برآمد کنندگان سے 79 سے 81 سینٹ فی پائونڈ تک میں روئی کے درآمدی معاہدے کیے گئے تھے مگر بھارت میں روئی کی قیمتیں 87/88 سینٹ فی پائونڈ تک پہنچنے کے باعث بعض بھارتی برآمدکنندگان نے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کو روئی ترسیل سے انکار کردیا اور پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو نئے نرخوں پر روئی درآمد کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ مزید برآؓں پی سی جی اے کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ 15روزہ پیداواری رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر تک کپاس کی پیداوار 1 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار 902 بیلز تک پہنچ گئی ہے، 15 سے 31 دسمبر تک کپاس کی ملکی پیداوار میں صرف 4 لاکھ 21بیلز کا اضافہ ہوا۔ احسان الحق کے مطابق خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مذکورہ 15روز کے دوران کم از کم 6 سے7لاکھ بیلز کی پیداوار ہوگی مگر اس مدت میں کم پیداوار ہوئی جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کا رجحان سامنے آیا۔
Load Next Story