جامعہ اردو انتظامی بے قاعدگیاں جاری الحاق شدہ کالجوں کا معائنہ بند

خلاف ضابطہ ترقی پانیوالے پروفیسرالحاق کمیٹی کے کنوینرمقرر،کالجوں کے امتحانات نگرانی کے بغیر ہی ہورہے ہیں

خلاف ضابطہ ترقی پانیوالے پروفیسرالحاق کمیٹی کے کنوینرمقرر،کالجوں کے امتحانات نگرانی کے بغیر ہی ہورہے ہیں۔ فوٹو : فائل

وفاقی اردویونیورسٹی میں انتظامی بے قاعدگیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں ملک کے مختلف شہروں میں قائم یونیورسٹی کے الحاق شدہ کالجوں کی ''فزیکل مانیٹرنگ''کاسلسلہ تقریباًایک برس سے بند ہے اورالحاق شدہ کالجوں کے امتحانات ان کی مانیٹرنگ اورتدریسی استعداد جانچے بغیرہی لیے جارہے ہیں۔

کالجوں کااچانک معائنہ کیا جا رہاہے اورنہ ہی سالانہ معائنہ کیاجارہاہے جبکہ بعض ایسے کالجوں کے امتحانات بھی لیے جانے کی اطلاع ہے جن کا الحاق متعلقہ الحاق کمیٹی نے منسوخ کردیاتھا، مزیدبراںاب اچانک الحاق کمیٹی کے کنوینرکوقبل از وقت تبدیل کرتے ہوئے پروفیسر کے عہدے پر خلاف ضابطہ ترقی پانے والے رئیس کلیہ نظمیات کاروبارمسعود مشکورکوالحاق کمیٹی کاکنوینر مقرر کر دیا گیا ہے جس کاخط جاری کردیاگیا، انھیں عہدے کی مدت دیے جانے کے بجائے تاحکم ثانی اس عہدے کاچارج دیا گیا ہے اوریونیورسٹی انتظامیہ کی رئیس کلیہ نظمیات کاروبار پروفیسر مسعود مشکورکو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے ، پہلے خلاف ضابطہ انھیں محض 8سالہ پوسٹ گریجویٹ تدریسی تجربہ ہونے کی بنیاد پر پروفیسر بنادیا گیا تھا۔




پروفیسرکے لیے 15سالہ پوسٹ گریجویٹ تدریسی تجربہ لازمی ہے بعدازاں انھیں رئیس کلیہ نظمیات کاروبار مقرر کیا گیا اوراب الحاق کمیٹی کے کنوینر بنائے جانے کاخط جاری کر دیا گیا ہے ، کمیٹی کے 4 منتخب اراکین میں پروفیسر ناصر عباس، پروفیسرسلیم الدین،حافظ عبدالرشید اور ڈاکٹرغزالہ شاہین شامل ہیں جنھیں اکیڈمک کونسل نے منتخب کیاتھاتاہم معلوم ہواہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے الحاق شدہ کالجوں کے اچانک اورسالانہ دورے کیلیے کمیٹی کوفنڈہی جاری نہیں کیے جاتے جس کے سبب ان کالجوں کے معائنہ کا نظام ختم ہوچکاہے اوریونیورسٹی صوبائی محکمہ تعلیم کے رجسٹرڈنجی اسکولوں کی طرز پر الحاق شدہ کالجوں کانظام چلارہی ہے ، صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تعلیم کوکاروبارسمجھ کراس سے تجارت کرنیوالے کراچی اورملک کے دیگرعلاقوں کے کالج اب وفاقی اردویونیورسٹی سے الحاق حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں ''ایکسپریس''نے اس سلسلے میں اردویونیورسٹی کے رجسٹرارڈاکٹرفہیم الدین سے رابطہ کیاتاہم ان کاکہناتھاکہ وہ جہاز میں بیٹھ رہے ہیں بات نہیں ہوسکتی۔
Load Next Story