پاکستان میں سالانہ ایک ہزار افراد ایڈز کا شکار ہورہے ہیں

3700 مریض زیرعلاج ہیں،بے راہ روی،استعمال شدہ سرنجوںسے مرض پھیل رہاہے

دسمبر2009میں2917مریض تھے،دسمبر2013میںیہ تعداد7819تک پہنچ گئی۔ فوٹو: فائل

QUETTA:
ملک بھرمیں ایچ آئی وی (ایڈز) کے پھیلائومیں خطرناک حدتک اضافہ ہوگیا ہے۔

سالانہ ایک ہزارسے زائد افرادکے ایڈزمیں مبتلاہونے کا انکشاف ہواہے۔ معاشرے میںبڑھتی ہوئی بے راہ روی اور استعمال شدہ سرنجوںکے استعمال سے ملک بھرمیں ایڈزکے مریضوںکی تعدادساڑھے 7ہزار سے تجاوز کرگئی۔ نصف سے زائدمریض ایڈزسے بچائوکے علاج معالجے سے محروم ہیں۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسزریگولیشن اینڈکوآرڈینیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک بھرمیں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اوراستعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے سالانہ ایک ہزارسے زائدافراد ایڈزکا شکارہو رہے ہیں۔




دسمبر2009 میں ملک میں ایڈز کے مریضوںکی تعداد 2917تھی تاہم دسمبر2013 میںان کی تعدادبڑھ کر 7819تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھرمیں ایڈزکا شکار3700 مریضوںکو ملک کے مختلف اسپتالوںمیں علاج معالجہ فراہم کیاجا رہا ہے۔ ایڈزکی روک تھام کے لیے حکومت متعدداقدام کررہی ہے جس میںٹیسٹ کٹس، اینٹی ایٹرووائرل ادویہ، متاثرہ مریضوںاور ان کے اہلخانہ کی نگہداشت، آگہی مہم، بلوچستان وخیبرپختونخوا میںمشینوں کی فراہمی جبکہ مختلف مراکزپر کمیونٹی سینٹرزکا قیام شامل ہے۔ ماہرین صحت نے کہاہے کہ ملک میںایچ آئی وی ایڈزکے مریضوںکی تعداد میں سالانہ1 ہزاراضافہ انتہائی خطرناک ہے۔ معاشرے سے جنسی بے راہ روی کے خاتمے کے لیے معاشرے کی تمام اکائیوںکو اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔
Load Next Story