بچوں پر جسمانی تشدد کا بل منظور

ہمیں قانون سازی کے عمل میں سے اگر، مگر ، وغیرہ نکال کر بچوں پر ہر قسم کے تشدد کو غیر قانونی بنانے کی ضرورت ہے۔

ہمیں قانون سازی کے عمل میں سے اگر، مگر ، وغیرہ نکال کر بچوں پر ہر قسم کے تشدد کو غیر قانونی بنانے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت کا بل متفقہ طور پر منظورکر لیا گیا ، بل کے تحت کام کرنے کی جگہ، سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں، مدارس، ٹیوشن سینٹرز میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت ہو گی، بچوں پر تشدد کے مرتکب افراد کو نوکری سے فارغ کرنے کی انتہائی سزا کے علاوہ جبری ریٹائرمنٹ، تنزلی، تنخواہ میں کٹوتی کی سزا بھی دی جا سکے گی، جسمانی تشدد کے خلاف شکایات کے لیے وفاقی حکومت طریقہ کار وضع کرے گی، جب کہ براہ راست ڈپٹی کمشنرکو بھی شکایت کا اندراج کرایا جا سکے گا۔

بنیادی طور سے بچوں پر جسمانی تشدد ایک عالم گیر مسئلہ ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے ترقی یافتہ ممالک نے موثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماج میں شعور بھی اجاگرکیا ہے جس کی وجہ سے بچوں پر جسمانی تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

پاکستان میں بچوں پر جسمانی تشدد کے خاتمے کے حوالے سے بلاشبہ اس قانون کا پاس ہونا، اچھی اور مثبت پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے ، لیکن اس کے جو مندرجات سامنے آئے ہیں ان میں زیادہ فوکس تعلیمی اداروں کوکیا گیا ہے ، جس میں کسی بھی سزا یا تشدد کی صورت میں اساتذہ قصور وار ٹھہرائے جائیں گے۔

حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو معمولی سی ''سرزنش''بچے کے مستقبل کے بجائے استاد کے مستقبل پر اثر انداز ہوگی، کیونکہ سخت قوانین کی موجودگی میں اساتذہ مکمل طور پر بے بس ہوجاتے ہیں جیسا کہ مغرب کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں والدین اور اساتذہ بڑی سے بڑی غلطی پر بھی بچے کو سزا نہیں دے سکتے اور اسی وجہ سے یورپ میں والدین، اوراساتذہ کی بچوں کے ہاتھوں تذلیل ہونیکی خبریں آئے روز آتی رہتی ہیں۔


ہمیں توازن کی راہ اپنانی ہے ، بچوں کی اصلاح کی غرض سے اساتذہ سے سرزنش کا حق نہیں چھینا جانا چاہیے ، تشدد قابل مذمت فعل ہے، بعض اکا دکا واقعات تعلیمی اداروں کے بھی سامنے آتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف سرکاری اداروں کے اساتذہ کو معتوب ٹھہرایا جائے، اشرافیہ کے تعلیمی اداروں میں تو اساتذہ کسی بچے کو گھورکر بھی نہیں دیکھ سکتے تو پھر صرف سرکاری اساتذہ کو کیوں مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے ۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی آبادی میں گلی محلوں کی بنیاد پر اوباش لوگوں نے اپنے اپنے ''کریمنل گروپ'' بنائے ہوتے ہیں ، یہ لوگ جب بچوں کو اغوا کرتے ہیں یا ان پر جنسی تشدد کرتے ہیں تو ان کو کسی کا ڈر خوف نہیں ہوتا۔ تھانے میں ملزمان کو ''پروٹوکول'' ملتا ہے اور مدعی کی تذلیل کی جاتی ہے، ایسی کتنی ہی مثالیں ماضی میں مل چکی ہیں بعض جگہ تو دونوں پارٹیوں کو سامنے بٹھا کر باقاعدہ مدعی سے معافی منگوائی جاتی ہے۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ بچوں پر جنسی تشدد کی رپورٹ درج کروانے سے گریز کرتے ہیں۔

بالکل اسی طرح پاکستان کی جیلوں میں قیدی بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان قیدی بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے کبھی کبھار اخبارات میں کوئی خبر شائع ہو جاتی ہے۔ کیا ان مظلوم قیدی بچوں کا بھی کوئی پرسان حال بن سکتا ہے ۔ پاکستان میں اس وقت جنگل کا قانون نافذ ہے ہر سال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اخراجات کی مد میں لاکھوں روپے کا بجٹ صرف کیا جاتا ہے جب کہ ان کی کارکردگی صفر ہے۔

ایسے حالات میں سب سے زیادہ اثر کم سن اور ناتواں بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ہر طرف جنسی ہوس رکھنے والے بھیڑیے بچوں کا جنسی استحصال کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ بلاشبہ قانون سازی بچوں پر جسمانی تشدد میں کمی کا باعث بنتی ہے جیسے رومانیہ میں ہاتھ پر مارنے کی شرح 2001 میں 84% سے 2012 میں 62% ہوئی اور کسی چیز سے مارنے کی شرح 29% سے 18% ہوگئی۔ ایسا مارنے سے جس سے نشان رہ جائیں وہ بھی 10فیصد سے گر کر 5 فیصد رہ گیا۔ اس طرح کی دیگر مثالوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ قانون سازی سے کتنا فرق پڑتا ہے۔

ہمیں قانون سازی کے عمل میں سے اگر، مگر ، وغیرہ نکال کر بچوں پر ہر قسم کے تشدد کو غیر قانونی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں ہر عمر کے بچے شامل ہوں اور یہ قانون گھر، اسکول ہر جگہ لاگو ہو۔ اس قانون کو توڑنے کی سزا کڑی ہو۔ اس دائرے میں مقامی کارکن اور سیاسی رہنما اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ذریعے عوام میں شعور اور آگاہی بڑھانے کی مہم چلائی جائے تو بچوں پر جسمانی تشدد پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
Load Next Story