سندھ کی ترقی کیلیے الطاف حسین کا نیا فارمولا
اگراردوبولنے والوں کوواقعتاًسندھی سمجھتے ہیں توکوٹاسسٹم صرف سندھ میںہی کیوں نافذکیا گیا،جلسہ عام سے خطاب
کراچی، باغ الہ دین میںایم کیو ایم کے جلسے کے شرکا قائد متحدہ الطاف حسین کا ٹیلیفونک خطاب سن رہے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہاہے کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے توپھربہتریہ ہوگاکہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کیلیے صوبہ سندھ ون اورجنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کیلیے صوبہ سندھ ٹوبنادے۔
شہری سندھ کے عوام نمبر ٹو بننے کوتیارہیں،سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریںاور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑدیں کہ اپنے عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یاصوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔یہ بات انھوں نے کراچی کے علاقے الہٰ دین پارک سے متصل گراؤنڈمیں عظیم الشان جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔جلسہ عام میں عوام نے لاکھوںکی تعدادمیں شرکت کی جن میں تمام ہی قومیتوں، برادریوں، فقہوں، مسلکوں اورمذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان، بزرگ ،خواتین اور بچے شامل تھے۔جلسہ گاہ کے اطراف کی سڑکوں پر بھی انسانوں کاٹھاٹھیں مارتا سمندردکھائی دے رہا تھا،اس موقع پرنیپاچورنگی اورراشد منہاس روڈسے جلسہ گاہ تک اور جوہر موڑ سے جلسہ گاہ تک کی سڑک پر لوگوںکے سرہی سرنظرآرہے تھے۔اس موقع پرجلسہ گاہ کے شرکابالخصوص خواتین اور بچوں کا جوش وخروش قابل دیدتھا۔
اپنے خطاب میں الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنان ماضی میں بھی حالات کے جبر کابہادری سے سامنا کرتے رہے ،اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی یہ کارکنان پرعزم ہیں جنھوں نے اپنے شہیدساتھیوں کے جنازے اٹھائے اورہرظلم کے باوجود ثابت قدمی سے جدوجہد کررہے ہیںاورآنے والے کڑے سے کڑے حالات کامقابلہ کرنے کیلیے تیارہیں،ایم کیوایم کسی سے بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے پریقین رکھتی ہے، ماضی میں ایم کیوایم کے خلاف آرمی آپریشن کیا گیا تو بعض دفاترمیں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں،بعض اینکرپرسنز اورتجزیہ نگار سیاق وسباق سے ہٹ کر بات پیش کرتے ہیں، ایم کیوایم،پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب کرواکراسمبلیوںمیں جاگیرداروں اوروڈیروں کے برابرمیں بٹھایا لیکن بعض دانشور ، تجزیہ نگار اور اینکرپرسنز ایم کیوایم کا یہ تاریخی کارنامہ بھول جاتے ہیں جبکہ جو اینکرپرسنز ایم کیوایم کی جائز بات پرسچائی پرمبنی تبصرہ کرتے ہیں ان پرالزام عائد کیاجاتاہے کہ انھوں نے پیسے لیے ہیں،میں ایسے لوگوں کیلیے دعاہی کرسکتاہوںکہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کرے۔
انھوں نے حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کابھی یہی مؤقف ہے کہ لڑائی جھگڑے اورفسادکے بغیرمذاکرات کی میزپربیٹھ کرافہام وتفہیم سے معاملہ حل کیاجائے،جوآپ کاجائزحق بنتاہے وہ آپ لے لیں اورجوہماراجائزحق بنتاہے ہمیں دیدیاجائے اسی میں سب کی بھلائی ہے ،طاقت کے بل پرکسی کی جائز آوازکودبانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتابلکہ پیچیدہ ہوجاتاہے،آج کے جلسہ عام میں لاکھوں عوام کی شرکت سے ہوش کے ناخن لیے جائیں،عوام کی اتنی بڑی تعداد کو دنیا کی کوئی فوج ختم نہیں کرسکتی۔الطاف حسین نے بیوروکریسی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی وفاداری اورغداری کے فیصلے کرنے والے تاریخ میں محفوظ یہ بات نہ بھولیںکہ تحریک پاکستان کے وقت ان کے آبائواجداد یونینسٹ پارٹی کے ساتھ تھے جبکہ ہمارے آبائواجداد تحریک پاکستان کیلیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے تھے،الطاف حسین نے عسکری قیادت اور وفاق کے اہم شعبہ جات کے ذمے داران کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دوروزقبل میں نے حیدرآبادکے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہاتھاکہ اگر پیپلزپارٹی ،سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوقبول نہیں کرتی ، انھیں برابر کاسندھی شہری نہیں سمجھتی اوران کے جائزحقوق اس لیے نہیں دیناچاہتی کہ وہ اپوزیشن میں ہیں توایسی صورت میں وہ شہری سندھ کے سندھیوں کا علیحدہ صوبہ بنادیں۔
میں نے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ سندھ کو تقسیم کردیجئے ،سندھ دھرتی اور دھرتی ماں ہے اور کوئی ماں کی تقسیم گوارانہیںکرتااورکسی کے دل میں سندھ کو توڑنے کی آرزونہیں،انھوں نے کہاکہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے میرے ساتھیوں نے کٹھن اور کڑے حالات میں بھی ثابت قدمی کامظاہرہ کرکے ثابت کردیاکہ ظلم وجبرکاکوئی بھی ہتھکنڈہ انھیں ایم کیوایم سے دورنہیںکرسکتا، الطاف حسین نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے اپنے عمل سے اعلان کردیاہے کہ آپ صوبہ سندھ نمبر ون کے مالک ہیں اورشہری سندھ میں بسنے والے غریب مہاجر، بلوچ، سندھی، پنجابی، پختون ، سرائیکی اور کشمیری عوام جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیںکرتی۔الطاف حسین نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سربراہ منورحسن نے پاک فوج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اورپاکستانی شہریوں کے قاتل طالبان دہشت گرد کوشہیدقراردیاتو اس پر کوئی طوفان نہیں اٹھا،جب منورحسن نے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کوشہیدماننے سے انکارکردیا تواس پر کچھ نہیں کہاگیا۔
الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے اردوبولنے والوں کے حقوق کی بات کی تومخالفین نے سوچاکہ اب توایم کیوایم میں شامل تمام پنجابی ، پختون، سندھی، بلوچ،کشمیری،سرائیکی ، گلگتی بلتستانی ایم کیوایم چھوڑ جائیںگے لیکن اس پنڈال میں موجود صحافی دیکھ لیں کہ اس جلسہ میں لاکھوں پنجابی ،پختون،سندھی،بلوچ،کشمیری ، ہزارے وال ،سرائیکی ، گلگتی موجودہیں اورکوئی بھی ایم کیوایم چھوڑکرنہیں گیا،اس لیے کہ وہ جانتے ہیںکہ الطاف حسین کسی قومیت کے خلاف نہیں بلکہ ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں کیخلاف ہے،وہ تمام زبانیں بولنے والوں کے حقوق کیلیے جدوجہدکررہاہے ، وہ صرف مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں،سرائیکیوں اوردیگرقومیتوں ہی کے حقوق کانہیں بلکہ تمام غیرمسلموں کے حقوق کابھی سب سے بڑا علمبردار ہے، الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کی غیرمسلم آبادی کیلیے '' اقلیت '' کے لفظ کے استعمال کاسخت مخالف ہوں اورجب بھی ایم کیوایم اقتدارمیں آئی تواس لفظ کاخاتمہ کرکے پاکستان کے تمام شہریوں کوزبان ، رنگ اورمذہب کی تفریق کے بغیر برابرکے حقوق دے گی۔
پی پی پی خودکوسندھ کے حقوق کا چیمپئن قراردیتی ہے لیکن یہ ایم کیوایم تھی جس نے سندھ کواین ایف سی ایوارڈ دلوادیا،کالاباغ ڈیم پرایم کیوایم ہی نے سندھ کامقدمہ لڑااورکالاباغ ڈیم کی تعمیر کافیصلہ رکوایا، میں سندھ کے عوام سے کہتا ہوں کہ اگرایم کیوایم درمیان سے ہٹ گئی توپی پی پی والے کالاباغ ڈیم کوبننے دیںگے اورذوالفقار علی بھٹو کی لاش کی طرح کالاباغ ڈیم کوبھی چھوڑکربھاگ جائیںگے،وہ شہیدرانی بینظیربھٹو کی جماعت کوچھوڑ کردیگر جماعتوں میں شامل ہوجائیںگے، حلقہ بندیوں کاتنازع اس وقت شروع ہوا جب پی پی پی کی حکومت سندھ نے صوبے میں اپنی مرضی کی بلدیاتی حلقہ بندیاں کر ڈالیں جب ہم نے اس پر اعتراض کیاتو پی پی پی والوں نے کہاکہ سندھ میں ہماری عددی اکثریت ہے اور بالآخرانھوں نے اپنی اس عددی اکثریت کوبے رحمی سے استعمال کرتے ہوئے ہمارے اعتراضات کومستردکردیا اوراپنی من مانی کی حلقہ بندیوں کاآرڈیننس سندھ اسمبلی سے منظورکروادیا۔
پی پی پی کی اس من مانی پرہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ عدالت کادروازہ کھٹکھٹائیں،جب ایم کیو ایم نے عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا،عدالتی فیصلے میںکئی بین الاقوامی تنظیموں کے حوا لوں سے کہاگیاہے کہ حلقے اس طرح بنائے جائیں کہ ووٹنگ پاور مساوی ہواورنچلی سطح کے الیکشن(یعنی بلدیاتی انتخابات) کیلیے یہ مزید ضروری ہوجاتاہے، الطاف حسین نے کہاکہ اگرسندھ کے قوم پرست ہمیں سندھی سمجھتے ہیں توہمارا سوال ہے کہ دیہی اورشہری علاقے توپورے ملک میں ہیں لیکن کوٹاسسٹم صرف صوبہ سندھ ہی میں کیوں نافذ کیاگیا؟ سرکاری ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں شہری علاقوں کاکوٹاآج بھی صرف 40 فیصد جبکہ دیہی علاقوں کیلیے 60 فیصد کوٹا مقررہے، ستم بالائے ستم یہ کہ شہری علاقوں کویہ40فیصدکوٹہ بھی نہیں دیا جاتا، اگر پیپلزپارٹی،سندھ میں رہنے والے تمام شہریوں کوسندھی سمجھتی ہے، اگرقوم پرست سندھی ،مہاجروں کوواقعتاًسندھ کامستقل باشندہ سمجھتے ہیں توآج ہی کوٹاسسٹم کے خاتمے کا اعلان کریں، اب دھونس دھمکی کی زبان استعمال کرنے کازمانہ چلاگیا،یہ جنگوں کازمانہ نہیں،ہمیں جنگوں سے سبق حاصل کرناچاہیے۔
شہری سندھ کے عوام نمبر ٹو بننے کوتیارہیں،سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریںاور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑدیں کہ اپنے عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یاصوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔یہ بات انھوں نے کراچی کے علاقے الہٰ دین پارک سے متصل گراؤنڈمیں عظیم الشان جلسہ عام سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔جلسہ عام میں عوام نے لاکھوںکی تعدادمیں شرکت کی جن میں تمام ہی قومیتوں، برادریوں، فقہوں، مسلکوں اورمذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوان، بزرگ ،خواتین اور بچے شامل تھے۔جلسہ گاہ کے اطراف کی سڑکوں پر بھی انسانوں کاٹھاٹھیں مارتا سمندردکھائی دے رہا تھا،اس موقع پرنیپاچورنگی اورراشد منہاس روڈسے جلسہ گاہ تک اور جوہر موڑ سے جلسہ گاہ تک کی سڑک پر لوگوںکے سرہی سرنظرآرہے تھے۔اس موقع پرجلسہ گاہ کے شرکابالخصوص خواتین اور بچوں کا جوش وخروش قابل دیدتھا۔
اپنے خطاب میں الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنان ماضی میں بھی حالات کے جبر کابہادری سے سامنا کرتے رہے ،اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی یہ کارکنان پرعزم ہیں جنھوں نے اپنے شہیدساتھیوں کے جنازے اٹھائے اورہرظلم کے باوجود ثابت قدمی سے جدوجہد کررہے ہیںاورآنے والے کڑے سے کڑے حالات کامقابلہ کرنے کیلیے تیارہیں،ایم کیوایم کسی سے بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنے پریقین رکھتی ہے، ماضی میں ایم کیوایم کے خلاف آرمی آپریشن کیا گیا تو بعض دفاترمیں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں،بعض اینکرپرسنز اورتجزیہ نگار سیاق وسباق سے ہٹ کر بات پیش کرتے ہیں، ایم کیوایم،پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے غریب ومتوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب کرواکراسمبلیوںمیں جاگیرداروں اوروڈیروں کے برابرمیں بٹھایا لیکن بعض دانشور ، تجزیہ نگار اور اینکرپرسنز ایم کیوایم کا یہ تاریخی کارنامہ بھول جاتے ہیں جبکہ جو اینکرپرسنز ایم کیوایم کی جائز بات پرسچائی پرمبنی تبصرہ کرتے ہیں ان پرالزام عائد کیاجاتاہے کہ انھوں نے پیسے لیے ہیں،میں ایسے لوگوں کیلیے دعاہی کرسکتاہوںکہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کرے۔
انھوں نے حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کابھی یہی مؤقف ہے کہ لڑائی جھگڑے اورفسادکے بغیرمذاکرات کی میزپربیٹھ کرافہام وتفہیم سے معاملہ حل کیاجائے،جوآپ کاجائزحق بنتاہے وہ آپ لے لیں اورجوہماراجائزحق بنتاہے ہمیں دیدیاجائے اسی میں سب کی بھلائی ہے ،طاقت کے بل پرکسی کی جائز آوازکودبانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتابلکہ پیچیدہ ہوجاتاہے،آج کے جلسہ عام میں لاکھوں عوام کی شرکت سے ہوش کے ناخن لیے جائیں،عوام کی اتنی بڑی تعداد کو دنیا کی کوئی فوج ختم نہیں کرسکتی۔الطاف حسین نے بیوروکریسی کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کی وفاداری اورغداری کے فیصلے کرنے والے تاریخ میں محفوظ یہ بات نہ بھولیںکہ تحریک پاکستان کے وقت ان کے آبائواجداد یونینسٹ پارٹی کے ساتھ تھے جبکہ ہمارے آبائواجداد تحریک پاکستان کیلیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے تھے،الطاف حسین نے عسکری قیادت اور وفاق کے اہم شعبہ جات کے ذمے داران کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ دوروزقبل میں نے حیدرآبادکے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہاتھاکہ اگر پیپلزپارٹی ،سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوقبول نہیں کرتی ، انھیں برابر کاسندھی شہری نہیں سمجھتی اوران کے جائزحقوق اس لیے نہیں دیناچاہتی کہ وہ اپوزیشن میں ہیں توایسی صورت میں وہ شہری سندھ کے سندھیوں کا علیحدہ صوبہ بنادیں۔
میں نے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ سندھ کو تقسیم کردیجئے ،سندھ دھرتی اور دھرتی ماں ہے اور کوئی ماں کی تقسیم گوارانہیںکرتااورکسی کے دل میں سندھ کو توڑنے کی آرزونہیں،انھوں نے کہاکہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے میرے ساتھیوں نے کٹھن اور کڑے حالات میں بھی ثابت قدمی کامظاہرہ کرکے ثابت کردیاکہ ظلم وجبرکاکوئی بھی ہتھکنڈہ انھیں ایم کیوایم سے دورنہیںکرسکتا، الطاف حسین نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے اپنے عمل سے اعلان کردیاہے کہ آپ صوبہ سندھ نمبر ون کے مالک ہیں اورشہری سندھ میں بسنے والے غریب مہاجر، بلوچ، سندھی، پنجابی، پختون ، سرائیکی اور کشمیری عوام جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیںکرتی۔الطاف حسین نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سربراہ منورحسن نے پاک فوج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اورپاکستانی شہریوں کے قاتل طالبان دہشت گرد کوشہیدقراردیاتو اس پر کوئی طوفان نہیں اٹھا،جب منورحسن نے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی فوج کے اہلکاروں کوشہیدماننے سے انکارکردیا تواس پر کچھ نہیں کہاگیا۔
الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے اردوبولنے والوں کے حقوق کی بات کی تومخالفین نے سوچاکہ اب توایم کیوایم میں شامل تمام پنجابی ، پختون، سندھی، بلوچ،کشمیری،سرائیکی ، گلگتی بلتستانی ایم کیوایم چھوڑ جائیںگے لیکن اس پنڈال میں موجود صحافی دیکھ لیں کہ اس جلسہ میں لاکھوں پنجابی ،پختون،سندھی،بلوچ،کشمیری ، ہزارے وال ،سرائیکی ، گلگتی موجودہیں اورکوئی بھی ایم کیوایم چھوڑکرنہیں گیا،اس لیے کہ وہ جانتے ہیںکہ الطاف حسین کسی قومیت کے خلاف نہیں بلکہ ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں کیخلاف ہے،وہ تمام زبانیں بولنے والوں کے حقوق کیلیے جدوجہدکررہاہے ، وہ صرف مہاجروں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں،سرائیکیوں اوردیگرقومیتوں ہی کے حقوق کانہیں بلکہ تمام غیرمسلموں کے حقوق کابھی سب سے بڑا علمبردار ہے، الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کی غیرمسلم آبادی کیلیے '' اقلیت '' کے لفظ کے استعمال کاسخت مخالف ہوں اورجب بھی ایم کیوایم اقتدارمیں آئی تواس لفظ کاخاتمہ کرکے پاکستان کے تمام شہریوں کوزبان ، رنگ اورمذہب کی تفریق کے بغیر برابرکے حقوق دے گی۔
پی پی پی خودکوسندھ کے حقوق کا چیمپئن قراردیتی ہے لیکن یہ ایم کیوایم تھی جس نے سندھ کواین ایف سی ایوارڈ دلوادیا،کالاباغ ڈیم پرایم کیوایم ہی نے سندھ کامقدمہ لڑااورکالاباغ ڈیم کی تعمیر کافیصلہ رکوایا، میں سندھ کے عوام سے کہتا ہوں کہ اگرایم کیوایم درمیان سے ہٹ گئی توپی پی پی والے کالاباغ ڈیم کوبننے دیںگے اورذوالفقار علی بھٹو کی لاش کی طرح کالاباغ ڈیم کوبھی چھوڑکربھاگ جائیںگے،وہ شہیدرانی بینظیربھٹو کی جماعت کوچھوڑ کردیگر جماعتوں میں شامل ہوجائیںگے، حلقہ بندیوں کاتنازع اس وقت شروع ہوا جب پی پی پی کی حکومت سندھ نے صوبے میں اپنی مرضی کی بلدیاتی حلقہ بندیاں کر ڈالیں جب ہم نے اس پر اعتراض کیاتو پی پی پی والوں نے کہاکہ سندھ میں ہماری عددی اکثریت ہے اور بالآخرانھوں نے اپنی اس عددی اکثریت کوبے رحمی سے استعمال کرتے ہوئے ہمارے اعتراضات کومستردکردیا اوراپنی من مانی کی حلقہ بندیوں کاآرڈیننس سندھ اسمبلی سے منظورکروادیا۔
پی پی پی کی اس من مانی پرہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ عدالت کادروازہ کھٹکھٹائیں،جب ایم کیو ایم نے عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا تو اس نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا،عدالتی فیصلے میںکئی بین الاقوامی تنظیموں کے حوا لوں سے کہاگیاہے کہ حلقے اس طرح بنائے جائیں کہ ووٹنگ پاور مساوی ہواورنچلی سطح کے الیکشن(یعنی بلدیاتی انتخابات) کیلیے یہ مزید ضروری ہوجاتاہے، الطاف حسین نے کہاکہ اگرسندھ کے قوم پرست ہمیں سندھی سمجھتے ہیں توہمارا سوال ہے کہ دیہی اورشہری علاقے توپورے ملک میں ہیں لیکن کوٹاسسٹم صرف صوبہ سندھ ہی میں کیوں نافذ کیاگیا؟ سرکاری ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں شہری علاقوں کاکوٹاآج بھی صرف 40 فیصد جبکہ دیہی علاقوں کیلیے 60 فیصد کوٹا مقررہے، ستم بالائے ستم یہ کہ شہری علاقوں کویہ40فیصدکوٹہ بھی نہیں دیا جاتا، اگر پیپلزپارٹی،سندھ میں رہنے والے تمام شہریوں کوسندھی سمجھتی ہے، اگرقوم پرست سندھی ،مہاجروں کوواقعتاًسندھ کامستقل باشندہ سمجھتے ہیں توآج ہی کوٹاسسٹم کے خاتمے کا اعلان کریں، اب دھونس دھمکی کی زبان استعمال کرنے کازمانہ چلاگیا،یہ جنگوں کازمانہ نہیں،ہمیں جنگوں سے سبق حاصل کرناچاہیے۔