پاک چین اقتصادی راہداری سے پورا خطہ خوشحال ہوجائیگا احسن اقبال
پاکستان کو خطے میں مرکزی مقام حاصل ہے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، اجلاس سے خطاب
متعلقہ حکام چینی وفد سے فوری اور قابل عمل منصوبوں پر بھرپور تیاری سے بات کریں ،وفاقی وزیر۔فوٹو: فائل
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہاہے کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری خطے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے پاکستان اور چین کے وزرائے اعظم کے مشترکہ ویژن کی عکاسی کرتی ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اس راہداری کی تعمیر چین جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا سمیت پورے خطے کیلیے معاشی خوشحالی کی ضامن ہوگی۔ پاکستان کو اس خطے میں مرکزی مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوگا۔ فاقی وزیر نے کہاکہ اقتصادی راہداری کا نقشہ اس انداز سے ترتیب دیا جائے کہ سڑک، ریلوے اور آپٹک فائبر کے منصوبوں کو مربوط انداز میں چلایا جاسکے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جاسکے۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ اس راہداری کا نقشہ تیار کرتے ہوئے مستقبل کے تمام ممکنہ ڈیمز کی تعمیر کو بھی مد نظر رکھا جائے تاکہ اگر کبھی نیا ڈیم تعمیر کرنا ہو تو پاک چائنہ اقتصادی راہداری اس میںحائل نہ ہوسکے۔
احسن اقبال نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ چھ جنوری سے شروع ہونیوالے مواصلات اور بنیادی ڈھانچے سے متعلقہ ورکنگ گروپ کے پاکستان میں مذاکرات کے دوران بھرپور تیاری کے ساتھ پاکستان کا موقف پیش کریں۔ وفاقی وزیر نے ریلوے حکام کوہدایت کی کہ وہ اقتصادی راہداری کے تحت ریلوے ٹریک کو بہتر بنانے کے مجوزہ منصوبوں میں اس بات کا خیال رکھیں کہ مستقبل کی فاسٹ ٹرین کا نقشہ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام چینی وفد سے فوری اور قابل عمل منصوبوں پر بھرپور تیاری سے بات کریں اوراس ضمن میں کراچی- لاہور موٹروے، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن، مظفر آباد میر پورمنگلا ایکسپریس وے، N-85 گوادر خضدار اور لاہور میں ماس ٹرانزٹ کیلیے اورینج لائن کے منصوبوں کو سرفہرست رکھا جائے۔
وفاقی وزیر نے ریلوے حکام کو بھی ہدایت کی وہ چینی وفد سے مذاکرت میں جیکب آباد حویلیاں،کراچی شاور ,نجراب -حویلیا ں اور کراچی -وادر لائنز کی اپ گریڈیشن کو سرفہرست رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری خطے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے اور دونوں وزرائے اعظم اس کی جلد تعمیر کیلیے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ احسن اقبال نے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے ممکنہ لنک روڈکی تعمیر سے متعلق حکام کو ہدایت کی وہ کام کی رفتار کو تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے سے اربوں روپے کی لاگت سے بننے والے اس نئے ایئر پورٹ کا 65فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، ہمیں اسے جلد از جلد قابل عمل بنانے کیلیے ایک ایسے لنک روڈ کی تعمیر مکمل کرنا ہوگی جس سے حکومت پاکستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے۔
منصوبہ بندی کمیشن میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اس راہداری کی تعمیر چین جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا سمیت پورے خطے کیلیے معاشی خوشحالی کی ضامن ہوگی۔ پاکستان کو اس خطے میں مرکزی مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوگا۔ فاقی وزیر نے کہاکہ اقتصادی راہداری کا نقشہ اس انداز سے ترتیب دیا جائے کہ سڑک، ریلوے اور آپٹک فائبر کے منصوبوں کو مربوط انداز میں چلایا جاسکے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جاسکے۔ وفاقی وزیرنے کہا کہ اس راہداری کا نقشہ تیار کرتے ہوئے مستقبل کے تمام ممکنہ ڈیمز کی تعمیر کو بھی مد نظر رکھا جائے تاکہ اگر کبھی نیا ڈیم تعمیر کرنا ہو تو پاک چائنہ اقتصادی راہداری اس میںحائل نہ ہوسکے۔
احسن اقبال نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ چھ جنوری سے شروع ہونیوالے مواصلات اور بنیادی ڈھانچے سے متعلقہ ورکنگ گروپ کے پاکستان میں مذاکرات کے دوران بھرپور تیاری کے ساتھ پاکستان کا موقف پیش کریں۔ وفاقی وزیر نے ریلوے حکام کوہدایت کی کہ وہ اقتصادی راہداری کے تحت ریلوے ٹریک کو بہتر بنانے کے مجوزہ منصوبوں میں اس بات کا خیال رکھیں کہ مستقبل کی فاسٹ ٹرین کا نقشہ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام چینی وفد سے فوری اور قابل عمل منصوبوں پر بھرپور تیاری سے بات کریں اوراس ضمن میں کراچی- لاہور موٹروے، قراقرم ہائی وے کی اپ گریڈیشن، مظفر آباد میر پورمنگلا ایکسپریس وے، N-85 گوادر خضدار اور لاہور میں ماس ٹرانزٹ کیلیے اورینج لائن کے منصوبوں کو سرفہرست رکھا جائے۔
وفاقی وزیر نے ریلوے حکام کو بھی ہدایت کی وہ چینی وفد سے مذاکرت میں جیکب آباد حویلیاں،کراچی شاور ,نجراب -حویلیا ں اور کراچی -وادر لائنز کی اپ گریڈیشن کو سرفہرست رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری خطے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے اور دونوں وزرائے اعظم اس کی جلد تعمیر کیلیے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ احسن اقبال نے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے ممکنہ لنک روڈکی تعمیر سے متعلق حکام کو ہدایت کی وہ کام کی رفتار کو تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی خزانے سے اربوں روپے کی لاگت سے بننے والے اس نئے ایئر پورٹ کا 65فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، ہمیں اسے جلد از جلد قابل عمل بنانے کیلیے ایک ایسے لنک روڈ کی تعمیر مکمل کرنا ہوگی جس سے حکومت پاکستان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے۔