بیٹرورک پروگرام رکنے سے یورپ کوبرآمدات متاثرہونے کا خدشہ
ڈزنی ورلڈ نے درآمد روکی تو خریدار چینز بھی رویہ سخت کرسکتے ہیں، بیروزگاری بڑھ جائیگی، منیرقریشی
بیٹرورک پروگرام آئی ایس او 1000 سرٹیفکیشن کی طرح ہے جس سے صرف سرٹیفائڈ انڈسٹریز ہی برآمدآرڈرز حاصل کرسکیں گی۔فوٹو:فائل
پاکستان میں محنت کشوں کو ڈزنی ورلڈ کے ''بیٹر ورک پروگرام'' پر عملدرآمد نہ کیا گیا توخدشہ ہے کہ ڈزنی ورلڈ پاکستان سے درآمدی معاہدے ترک کردے گا، جس کے بعد مغربی ممالک کے دیگر بڑے خریدارچینز بھی اپنا رویہ سخت کرسکتے ہیں۔
یہ بات وفاقی سیکریٹری برائے اوورسیز پاکستانیزوافرادی قوت منیر قریشی نے پیر کو پی ایچ ایم اے ہاؤس میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پرپاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین ایم جاوید بلوانی نے برآمدی صنعتوں کو ڈزنی ورلڈ اور جی ایس پی پلس سے متعلق کنونشنز کے چیلنجزپر اظہار خیال کیا جبکہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں عرفان باوانی،جمال رشید،مزمل حسین،نقی باڑی،اقبال لاکھانی،خواجہ عثمان، کامران چاندنہ،محمدشفیع اور دیگر بھی موجودتھے۔ منیر قریشی نے کہا کہ ڈزنی ورلڈ کے بیٹر ورک پروگرام کو وقتی طور پرموخر کرنے کے سلسلے میں وزارت افرادی قوت نے آئی ایل او سمیت ملکی وغیرملکی اداروں سے رابطے شروع کردیے ہیں اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی ایل او کی وساطت سے ڈزنی ورلڈسے کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظربیٹرورک پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں رعایت دی جائے اور پروگرام کو کم از کم اتنے عرصے کیلیے موخر کیا جائے کہ برآمدی صنعتیں متعلقہ کنونشنز پر عملدرآمدکرسکیں۔ اگرڈزنی ورلڈ سمیت بڑے امپورٹرز نے پاکستان کے برآمدی آرڈرز روک لیے تو بے روزگاری بڑھے گی اور خدشہ ہے کہ بے روزگارافراد انتہاپسندوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ منیر قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان کا گورننس انڈیکس میں19 نمبر ہے جبکہ عالمی معیار کم ازکم 25 نمبر ہونا چاہیے،بیٹر ورک پروگرام کی ضرورت ان ممالک میں پڑتی ہے جہاں گورننگ کا معیارکم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور میانمار نے بیٹرورک پروگرام کوالیفائی کرلیا ہے تاہم پاکستان،چین اور بھارت نے اس بارے میں تاخیر سے درخواست دائر کی ہے، ہم نے آئی ایل او سے کہہ دیا ہے کہ ہمیں دیگر ممالک کے ساتھ قطار میں نہ لگائیں اور حالات کے مطابق ریلیف فراہم کریں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ 27 میں سے 8 بنیادی کنونشنز پرترجیحی بنیاد پرعملدرآمد کیا جائے اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور صنعتی انجمنیں اپنا کردار ادا کریں۔ منیر قریشی نے مزید کہا کہ بیٹرورک پروگرام آئی ایس او 1000 سرٹیفکیشن کی طرح ہے جس سے صرف سرٹیفائڈ انڈسٹریز ہی برآمدآرڈرز حاصل کرسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹرورک پروگرام کے تحت آئی ایل اوکی معائنہ ٹیمیں صنعتوں کا دورہ کرکے انکی اہلیت کا تعین کریں گی۔ وزارت افرادی قوت متعلقہ حکومتی اداروں سے رابطے کررہی ہے جبکہ نجی شعبے سے بھی مشاورت کی جارہی ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں صنعتکاروں نے بلیک میلنگ کے باعث لیبر قوانین کی مخالفت کی مگر اب یہ وقت کی اہم ضرورت ہے،پنجاب میں اس بارے میں ماڈل لیبر پروگرام پر عمل کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں دیگر صوبوں میں بھی کام ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں وزارت افرادی قوت کراچی کے 2 انسٹی ٹیوٹ سمیت پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس قائم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ18 ویں ترمیم کے بعد کئی معاملات صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں چلے گئے ہیں لہٰذا صوبوں سے بھی روابط جاری ہیں۔ قبل ازیں پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین ایم جاوید بلوانی نے ڈزنی ورلڈ اور جی ایس پی پلس سے متعلق چیلنجزپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری مزدوروں کو تمام ترسہولتیں فراہم کرنے اور متعلقہ لیبر قوانین پرعملدرآمد کیلیے آمادہ ہے تاہم لیبر قوانین کو اتنا سہل کیا جائے کہ صنعتکار ان پر بخوشی عمل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں میں لیبر یونین بن جاتی ہیں جن میں سیاسی جماعتیں ملوث ہوتی ہیں اور کئی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام صنعتی علاقوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پرجدید ترین فائر اسٹیشنزقائم ہونے چاہیئں تاکہ علی انٹرپرائز جیسا سانحہ دوبارہ جنم نہ لے سکے۔ انہوں نے کہاکہ جی ایس پی پلس درجہ کے تسلسل کیلیے لازمی27 کنونشنز پر عملدرآمدناگزیر ہے جس کیلیے حکومت اور نجی شعبے کو تیزی سے کام کرنا چاہیے۔
یہ بات وفاقی سیکریٹری برائے اوورسیز پاکستانیزوافرادی قوت منیر قریشی نے پیر کو پی ایچ ایم اے ہاؤس میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سے خطاب کے دوران کہی۔ اس موقع پرپاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین ایم جاوید بلوانی نے برآمدی صنعتوں کو ڈزنی ورلڈ اور جی ایس پی پلس سے متعلق کنونشنز کے چیلنجزپر اظہار خیال کیا جبکہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں عرفان باوانی،جمال رشید،مزمل حسین،نقی باڑی،اقبال لاکھانی،خواجہ عثمان، کامران چاندنہ،محمدشفیع اور دیگر بھی موجودتھے۔ منیر قریشی نے کہا کہ ڈزنی ورلڈ کے بیٹر ورک پروگرام کو وقتی طور پرموخر کرنے کے سلسلے میں وزارت افرادی قوت نے آئی ایل او سمیت ملکی وغیرملکی اداروں سے رابطے شروع کردیے ہیں اور اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی ایل او کی وساطت سے ڈزنی ورلڈسے کہہ دیا ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظربیٹرورک پروگرام پر عملدرآمد کے سلسلے میں رعایت دی جائے اور پروگرام کو کم از کم اتنے عرصے کیلیے موخر کیا جائے کہ برآمدی صنعتیں متعلقہ کنونشنز پر عملدرآمدکرسکیں۔ اگرڈزنی ورلڈ سمیت بڑے امپورٹرز نے پاکستان کے برآمدی آرڈرز روک لیے تو بے روزگاری بڑھے گی اور خدشہ ہے کہ بے روزگارافراد انتہاپسندوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے۔ منیر قریشی نے مزید کہا کہ پاکستان کا گورننس انڈیکس میں19 نمبر ہے جبکہ عالمی معیار کم ازکم 25 نمبر ہونا چاہیے،بیٹر ورک پروگرام کی ضرورت ان ممالک میں پڑتی ہے جہاں گورننگ کا معیارکم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور میانمار نے بیٹرورک پروگرام کوالیفائی کرلیا ہے تاہم پاکستان،چین اور بھارت نے اس بارے میں تاخیر سے درخواست دائر کی ہے، ہم نے آئی ایل او سے کہہ دیا ہے کہ ہمیں دیگر ممالک کے ساتھ قطار میں نہ لگائیں اور حالات کے مطابق ریلیف فراہم کریں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ 27 میں سے 8 بنیادی کنونشنز پرترجیحی بنیاد پرعملدرآمد کیا جائے اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور صنعتی انجمنیں اپنا کردار ادا کریں۔ منیر قریشی نے مزید کہا کہ بیٹرورک پروگرام آئی ایس او 1000 سرٹیفکیشن کی طرح ہے جس سے صرف سرٹیفائڈ انڈسٹریز ہی برآمدآرڈرز حاصل کرسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیٹرورک پروگرام کے تحت آئی ایل اوکی معائنہ ٹیمیں صنعتوں کا دورہ کرکے انکی اہلیت کا تعین کریں گی۔ وزارت افرادی قوت متعلقہ حکومتی اداروں سے رابطے کررہی ہے جبکہ نجی شعبے سے بھی مشاورت کی جارہی ہیں۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں صنعتکاروں نے بلیک میلنگ کے باعث لیبر قوانین کی مخالفت کی مگر اب یہ وقت کی اہم ضرورت ہے،پنجاب میں اس بارے میں ماڈل لیبر پروگرام پر عمل کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں دیگر صوبوں میں بھی کام ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں وزارت افرادی قوت کراچی کے 2 انسٹی ٹیوٹ سمیت پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس قائم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ18 ویں ترمیم کے بعد کئی معاملات صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں چلے گئے ہیں لہٰذا صوبوں سے بھی روابط جاری ہیں۔ قبل ازیں پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین ایم جاوید بلوانی نے ڈزنی ورلڈ اور جی ایس پی پلس سے متعلق چیلنجزپر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری مزدوروں کو تمام ترسہولتیں فراہم کرنے اور متعلقہ لیبر قوانین پرعملدرآمد کیلیے آمادہ ہے تاہم لیبر قوانین کو اتنا سہل کیا جائے کہ صنعتکار ان پر بخوشی عمل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں میں لیبر یونین بن جاتی ہیں جن میں سیاسی جماعتیں ملوث ہوتی ہیں اور کئی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام صنعتی علاقوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پرجدید ترین فائر اسٹیشنزقائم ہونے چاہیئں تاکہ علی انٹرپرائز جیسا سانحہ دوبارہ جنم نہ لے سکے۔ انہوں نے کہاکہ جی ایس پی پلس درجہ کے تسلسل کیلیے لازمی27 کنونشنز پر عملدرآمدناگزیر ہے جس کیلیے حکومت اور نجی شعبے کو تیزی سے کام کرنا چاہیے۔