دبئی ٹیسٹٹیم مینجمنٹ کا خرم منظور کو ڈراپ کرنے پر غور
شان مسعود کو موقع ملنے کا امکان،راحت کی جگہ عبدالرحمان یا طلحہ کھیلیں گے
ہوبارٹ ٹیسٹ میں ڈیبیو پر77رنز کی اننگز کھیلی جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک زیر غور نہیں لایا گیا۔ فوٹو:فائل
ناکامیوں کا سلسلہ دراز ہونے کے بعد ٹیم مینجمنٹ خرم منظور کو ڈراپ کرنے پر غور کرنے لگی،دبئی ٹیسٹ میں نوجوان اوپنر شان مسعود کو موقع ملنے کا امکان روشن ہوگیا، راحت علی کی جگہ عبدالرحمان یا محمد طلحہٰ کو آزمانے کا فیصلہ وکٹ دیکھ کر کیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق خرم منظور نے 2010 میں آسٹریلیا کیخلاف ہوبارٹ ٹیسٹ میں ڈیبیو پر77رنز کی اننگز کھیلی جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک زیر غور نہیں لایا گیا، ستمبر 2013میں ان کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی، اوپنر نے میزبان زمبابوے کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 16رنز اسکور کرنے کے بعد دوسرے میچ کی پہلی اننگز میں51اور دوسری میں54 رنز بنائے۔ یو اے ای میں جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں خرم نے146کی فتح گر اننگز کھیلی لیکن اس کے بعد ناکامیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا، اسی میچ کی دوسری باری میں وہ4پر آؤٹ ہوگئے، دوسرے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں انھیں کھاتہ کھولنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔
سری لنکا کے کیخلاف حالیہ سیریز کی پہلی اننگز میں وہ سست روی کے باعث21 پر رن آؤٹ ہوئے،دوسری باری میں ان کی ثابت قدمی پاکستانی مہم مضبوط بنا سکتی تھی لیکن انھوں نے 8رنز پر وکٹ قربان کردی۔ ذرائع کے مطابق بورڈ حکام تکنیکی خامیاں زیر بحث آنے کے بعد ٹور سلیکشن کمیٹی کو خرم منظورکو دبئی ٹیسٹ سے ڈراپ کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں،انکی جگہ نوجوان اوپنر شان مسعود کو شامل کرکے احمد شہزاد کیساتھ لیفٹ رائٹ کمبی نیشن سے بہتر نتائج کی توقعات وابستہ کی جائیں گی۔ دوسری طرف پیسر راحت علی نے دورئہ جنوبی افریقہ کے پہلے ٹیسٹ میں غیر متاثر کارکردگی دکھائی اور کوئی وکٹ نہ حاصل کرسکے۔
ڈراپ کرکے آخری میچ میں موقع دیا گیا تو اننگز میں 6 شکار کیے، دورئہ زمبابوے میں انجرڈ محمد عرفان کی جگہ شامل ہوئے، یو اے ای میں پروٹیز سے سیریز کے لیے انھیں طویل قامت پیسر کیلیے جگہ خالی کرنا پڑی،عرفان کی نئی انجری نے انھیں ایک بار پھر آئی لینڈرز کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی کا موقع فراہم کیا لیکن وہ اس کا خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے، ابوظبی میں راحت نے پہلی اننگز میں41 اور دوسری میں 92 رنز دیے لیکن ایک بھی وکٹ اپنے نام کے آگے درج نہ کرا سکے، اب ان کی جگہ اسپنر عبدالرحمان یا نوجوان فاسٹ بولر محمد طلحٰہ میں سے کسی ایک کو آزمانے کا فیصلہ وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا، سری لنکن بیٹنگ کی لیفٹ آرم سلو بولر کو کھیلنے میں دشواری کے پیش نظر عبدالرحمان مضبوط امیدوار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خرم منظور نے 2010 میں آسٹریلیا کیخلاف ہوبارٹ ٹیسٹ میں ڈیبیو پر77رنز کی اننگز کھیلی جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک زیر غور نہیں لایا گیا، ستمبر 2013میں ان کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی، اوپنر نے میزبان زمبابوے کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 16رنز اسکور کرنے کے بعد دوسرے میچ کی پہلی اننگز میں51اور دوسری میں54 رنز بنائے۔ یو اے ای میں جنوبی افریقہ کیخلاف پہلے ٹیسٹ میں خرم نے146کی فتح گر اننگز کھیلی لیکن اس کے بعد ناکامیوں کا سلسلہ دراز ہوگیا، اسی میچ کی دوسری باری میں وہ4پر آؤٹ ہوگئے، دوسرے ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں انھیں کھاتہ کھولنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔
سری لنکا کے کیخلاف حالیہ سیریز کی پہلی اننگز میں وہ سست روی کے باعث21 پر رن آؤٹ ہوئے،دوسری باری میں ان کی ثابت قدمی پاکستانی مہم مضبوط بنا سکتی تھی لیکن انھوں نے 8رنز پر وکٹ قربان کردی۔ ذرائع کے مطابق بورڈ حکام تکنیکی خامیاں زیر بحث آنے کے بعد ٹور سلیکشن کمیٹی کو خرم منظورکو دبئی ٹیسٹ سے ڈراپ کرنے کا اشارہ دے چکے ہیں،انکی جگہ نوجوان اوپنر شان مسعود کو شامل کرکے احمد شہزاد کیساتھ لیفٹ رائٹ کمبی نیشن سے بہتر نتائج کی توقعات وابستہ کی جائیں گی۔ دوسری طرف پیسر راحت علی نے دورئہ جنوبی افریقہ کے پہلے ٹیسٹ میں غیر متاثر کارکردگی دکھائی اور کوئی وکٹ نہ حاصل کرسکے۔
ڈراپ کرکے آخری میچ میں موقع دیا گیا تو اننگز میں 6 شکار کیے، دورئہ زمبابوے میں انجرڈ محمد عرفان کی جگہ شامل ہوئے، یو اے ای میں پروٹیز سے سیریز کے لیے انھیں طویل قامت پیسر کیلیے جگہ خالی کرنا پڑی،عرفان کی نئی انجری نے انھیں ایک بار پھر آئی لینڈرز کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی کا موقع فراہم کیا لیکن وہ اس کا خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے، ابوظبی میں راحت نے پہلی اننگز میں41 اور دوسری میں 92 رنز دیے لیکن ایک بھی وکٹ اپنے نام کے آگے درج نہ کرا سکے، اب ان کی جگہ اسپنر عبدالرحمان یا نوجوان فاسٹ بولر محمد طلحٰہ میں سے کسی ایک کو آزمانے کا فیصلہ وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا، سری لنکن بیٹنگ کی لیفٹ آرم سلو بولر کو کھیلنے میں دشواری کے پیش نظر عبدالرحمان مضبوط امیدوار ہیں۔