سینیٹ کا اجلاسالطاف حسین کے بیانات پر پیپلز پارٹی اور متحدہ کے ارکان میں جھڑپ
لندن میں بیٹھا شخص ملک توڑنے کی بات کر رہا ہے، برطانیہ نوٹس لے،کریم خواجہ، یہ بکواس ہے، عبدالحسیب
اسپیکر نے ایم کیو ایم کے ارکان کو بولنے کی اجازت نہیں دی جس پر ارکان نے بائیکاٹ کردیا۔ فوٹو: فائل
سینیٹ میں الطاف حسین کے بیان پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے ارکان میں شدید جھڑپ ہوئی، پیپلزپارٹی کے ارکان کی جانب سے تنقید کے جواب میں بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے کریم احمد خواجہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ لندن میں بیٹھا دہری شہریت کا حامل شخص سندھ اور پاکستان توڑنے کی باتیں کر رہا ہے، برطانوی حکومت اس کا نوٹس لے، سندھ پاکستان کی ضمانت ہے ، پاکستان کے حق میں پہلی قرارداد سندھ نے پاس کی ۔
یہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ اس پر ایم کیو ایم کے عبدالحسیب خان اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ بکواس نکتہ اعتراض ہے جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ بکواس غیر پارلیمانی لفظ ہے۔ پیپلزپارٹی کے سعید غنی اور اے این پی کے حاجی عدیل نے کہا کہ بکواس لفظ کو کارروائی سے حذف کرایا جائے تاہم چیئرمین نے انھیں کہا کہ یہ لفظ مائیک پر نہیں بولا گیا۔ ایم کیوایم کے ارکان نے اس معاملے پر مزید بات کرنا چاہی تاہم چیئرمین نے انہیں کہا کہ نکتہ اعتراض پر بحث نہیں کی جاسکتی ہے ، اس کیلئے تحریک التوا لے آئیں جس پر ایم کیوایم کے ارکان نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے (ن) لیگ کے مشاہد اللہ نے کہا کہ مشرف کیخلاف کارروائی12اکتوبر سے کی جاتی تو مطالبہ کیا جاتا کہ ضیاکے دور سے کارروائی کی جائے اور اگر ضیاکے دور سے کی جاتی تو کہتے کہ یحییٰ کے دور سے کرو، اصل مقصد مشرف کو بچانا ہے، لال مسجد کی بچیوں کو مار کر لندن میں فلیٹ خریدے گئے، آج اسپتال میں بیٹھ کر وہی فلیٹ بیچے جا رہے ہیں، یہ کیساہارٹ اٹیک ہے کہ اسپتال میں بیٹھ کر پراپرٹی ڈیلنگ کی جا رہی ہے۔
مشاہداللہ نے کہا کہ آصف زرداری کہہ رہے ہیں کہ بلا دودھ پی گیا، بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں نواز شریف قدم بڑھاؤ اور خورشید شاہ کہہ رہے ہیں کہ احتساب 12اکتوبرسے شروع کیاجائے، یہ عجیب سی بات ہے، پی پی کے موقف میں تضاد ہے۔ اس پر ڈپٹی چیئرمین صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی پالیسی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جاری کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پارلیمنٹ میں جو کچھ کہتے ہیں وہ پیپلزپارٹی کی پالیسی نہیں، فرحت اللہ بابر نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان دونوں اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک میں ان کے دشمنوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سرحد پر نگرانی کا نظام قائم کرے۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایاجائے اور اس کیلیے قانون سازی کی جائے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کویہ اختیار دیا جائے کہ ریاست کیخلاف سرگرمیوں میں ملوث عسکریت پسندوں کو حراست میں لے سکیں ۔گمشدہ افرادکے معاملے پر قانون بنایاجائے جس کی سفارش لاپتہ افرادکمیشن اورسینیٹ نے بھی کی ہے۔
ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس معاملے کو بہت اچھالاگیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے لیکن کم عملی کے باعث بہت سے ارکان نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل نہیںکیا ، اب بھی12 فیصد ارکان کے پاس این ٹی این نمبر نہیں ، ایف بی آر ایسے تمام ارکان کو31 جنوری تک این ٹی این نمبرجاری کریگا اور وزارت خزانہ تمام ارکان کی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات 15فروری تک شائع کر دے گی۔ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر خزانہ نے ارکان کی ساکھ بچانے کیلیے یہ احسن اقدام کیا ہے۔ دریں اثناء اے این پی کے حاجی عدیل نے اسٹیٹ بینک کے ہیڈکوارٹرزکو کراچی سے اسلام آباد منتقل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال ایوان میں زیربحث لانے کی تحریک پیش کی۔ حاجی عدیل نے کہا کہ ملک کا مرکزی بینک اسلام آباد میں ہونا دارالحکومت کا حق ہے۔
ایم کیو ایم کے طاہر حسین مشہدی نے کہاکہ کراچی منی پاکستان اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے، اسٹیٹ بینک کی منتقلی کا کوئی جواز نہیں، ہم اس تحریک کو سختی سے مستردکرتے ہیں، افراسیاب خٹک نے کہا کہ کراچی ہم سب کا شہرہے لیکن وفاقی اداروں کا مرکز وفاقی دارالحکومت میں ہونا چاہیے۔ (ن) لیگ کے ایم حمزہ نے کہا کہ کراچی تجارتی مرکز ہے، اس لیے بینکوں کے مرکزی دفاتر وہاں ہیں، اسٹیٹ بینک کا ہیڈکوارٹرزکراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ ایوان میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق دستور میں22 ویں ترمیم کا بل بھی پیش کردیا گیا ۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق صغریٰ امام کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ سپریم وہائیکورٹس کے ججز60 دن میں دہری شہریت چھوڑنے کے پابندہوں گے اور شہریت چھوڑنے کے بعد انھیں اس کا تحریری بیان جمع کرانا ہوگا،حکومت کی طرف سے مخالفت نہ کرنے پر چیئرمین نیئرحسین بخاری نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیا جبکہ سول سرونٹس ترمیمی بل پر غورکردیاگیا۔ بعدازاں اجلاس کل بدھ کی سہ پہر تین بجے تک کیلیے ملتوی کردیا گیا۔
یہ کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ اس پر ایم کیو ایم کے عبدالحسیب خان اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ بکواس نکتہ اعتراض ہے جس پر پیپلزپارٹی کے ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ بکواس غیر پارلیمانی لفظ ہے۔ پیپلزپارٹی کے سعید غنی اور اے این پی کے حاجی عدیل نے کہا کہ بکواس لفظ کو کارروائی سے حذف کرایا جائے تاہم چیئرمین نے انھیں کہا کہ یہ لفظ مائیک پر نہیں بولا گیا۔ ایم کیوایم کے ارکان نے اس معاملے پر مزید بات کرنا چاہی تاہم چیئرمین نے انہیں کہا کہ نکتہ اعتراض پر بحث نہیں کی جاسکتی ہے ، اس کیلئے تحریک التوا لے آئیں جس پر ایم کیوایم کے ارکان نے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے (ن) لیگ کے مشاہد اللہ نے کہا کہ مشرف کیخلاف کارروائی12اکتوبر سے کی جاتی تو مطالبہ کیا جاتا کہ ضیاکے دور سے کارروائی کی جائے اور اگر ضیاکے دور سے کی جاتی تو کہتے کہ یحییٰ کے دور سے کرو، اصل مقصد مشرف کو بچانا ہے، لال مسجد کی بچیوں کو مار کر لندن میں فلیٹ خریدے گئے، آج اسپتال میں بیٹھ کر وہی فلیٹ بیچے جا رہے ہیں، یہ کیساہارٹ اٹیک ہے کہ اسپتال میں بیٹھ کر پراپرٹی ڈیلنگ کی جا رہی ہے۔
مشاہداللہ نے کہا کہ آصف زرداری کہہ رہے ہیں کہ بلا دودھ پی گیا، بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں نواز شریف قدم بڑھاؤ اور خورشید شاہ کہہ رہے ہیں کہ احتساب 12اکتوبرسے شروع کیاجائے، یہ عجیب سی بات ہے، پی پی کے موقف میں تضاد ہے۔ اس پر ڈپٹی چیئرمین صابر علی بلوچ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی پالیسی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جاری کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پارلیمنٹ میں جو کچھ کہتے ہیں وہ پیپلزپارٹی کی پالیسی نہیں، فرحت اللہ بابر نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان دونوں اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک میں ان کے دشمنوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سرحد پر نگرانی کا نظام قائم کرے۔ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایاجائے اور اس کیلیے قانون سازی کی جائے اور سیکیورٹی ایجنسیوں کویہ اختیار دیا جائے کہ ریاست کیخلاف سرگرمیوں میں ملوث عسکریت پسندوں کو حراست میں لے سکیں ۔گمشدہ افرادکے معاملے پر قانون بنایاجائے جس کی سفارش لاپتہ افرادکمیشن اورسینیٹ نے بھی کی ہے۔
ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ٹیکس کی عدم ادائیگی کے معاملے پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اس معاملے کو بہت اچھالاگیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے لیکن کم عملی کے باعث بہت سے ارکان نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل نہیںکیا ، اب بھی12 فیصد ارکان کے پاس این ٹی این نمبر نہیں ، ایف بی آر ایسے تمام ارکان کو31 جنوری تک این ٹی این نمبرجاری کریگا اور وزارت خزانہ تمام ارکان کی ٹیکس ادائیگی کی تفصیلات 15فروری تک شائع کر دے گی۔ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر خزانہ نے ارکان کی ساکھ بچانے کیلیے یہ احسن اقدام کیا ہے۔ دریں اثناء اے این پی کے حاجی عدیل نے اسٹیٹ بینک کے ہیڈکوارٹرزکو کراچی سے اسلام آباد منتقل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال ایوان میں زیربحث لانے کی تحریک پیش کی۔ حاجی عدیل نے کہا کہ ملک کا مرکزی بینک اسلام آباد میں ہونا دارالحکومت کا حق ہے۔
ایم کیو ایم کے طاہر حسین مشہدی نے کہاکہ کراچی منی پاکستان اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے، اسٹیٹ بینک کی منتقلی کا کوئی جواز نہیں، ہم اس تحریک کو سختی سے مستردکرتے ہیں، افراسیاب خٹک نے کہا کہ کراچی ہم سب کا شہرہے لیکن وفاقی اداروں کا مرکز وفاقی دارالحکومت میں ہونا چاہیے۔ (ن) لیگ کے ایم حمزہ نے کہا کہ کراچی تجارتی مرکز ہے، اس لیے بینکوں کے مرکزی دفاتر وہاں ہیں، اسٹیٹ بینک کا ہیڈکوارٹرزکراچی میں ہی رہنا چاہیے۔ ایوان میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار سے متعلق دستور میں22 ویں ترمیم کا بل بھی پیش کردیا گیا ۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق صغریٰ امام کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ سپریم وہائیکورٹس کے ججز60 دن میں دہری شہریت چھوڑنے کے پابندہوں گے اور شہریت چھوڑنے کے بعد انھیں اس کا تحریری بیان جمع کرانا ہوگا،حکومت کی طرف سے مخالفت نہ کرنے پر چیئرمین نیئرحسین بخاری نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیا جبکہ سول سرونٹس ترمیمی بل پر غورکردیاگیا۔ بعدازاں اجلاس کل بدھ کی سہ پہر تین بجے تک کیلیے ملتوی کردیا گیا۔