مشرف دور میں مسئلہ کشمیر90 فیصد حل ہو گیا تھاخورشید قصوری
فوج مشرف کے معاملے کو اچھا نہیں سمجھ رہی، امتیاز عالم، مشرف کا دل ہی انکا ویزا بنے گا،ایاز خان
دونوں اطراف سے انتخابات کا طریقہ بھی طے ہو چکا تھا۔ فوٹو : فائل
سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ پرویزمشرف کے دور میں مسئلہ کشمیر نوے فی صد حل ہو چکا تھا۔ صرف سیاچن اورسرکریک پر دستخط ہونا باقی تھے۔
ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''اچھا لگے برا لگے'' میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا دونوں ملکوں میں کشمیر کے مسئلے کے حل پر بہت پیش رفت ہوچکی تھی دونوں اطراف سے انتخابات کا طریقہ بھی طے ہو چکا تھا۔ کشمیر سے بھارت اپنی افواج کو واپس بلانے پر بھی تیار ہو گیا تھایہ بھی طے ہوگیا تھا کہ ایل او سی پر صرف شناختی کارڈ دکھا کر سفر کیا جا سکے گا۔ سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا کہ اب بھی ملک میں فوج کی بالادستی ہے، فوج مشرف کے معاملے کو ادارے کے طور پر اچھا نہیں سمجھ رہی۔ مشرف سے بہت سے اعلیٰ فوجی افسران نے ہسپتال میں ملاقات کی ہے اور کورکمانڈرز کی میٹنگ میں بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مشرف دوران سروس اپنے ساتھیوں کے مسائل حل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صورتحال نازک بن گئی ہے اور کیس سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ مشرف کے معاملے میں ابھی ٹرائل کورٹ کو بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا، ٹرائل کورٹ تو یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ 12 اکتوبر کو زیر بحث لایا جائے یا نہیں۔ مشرف کے معاملے میں شاہ عبداللہ اور النہیان فیملی بہت متحرک ہیں، شہزادہ سعودالفیصل اس ایجنڈے پر نہیں آ رہے مگر چائے کی میز پر بات ہو سکتی ہے۔
نوازشریف اور پرویزمشرف کا تنازعہ کارگل سے ہے۔ کارگل کے معاملے پر ایک آڈیو ٹیپ ریکارڈ کی گئی جو آر کے مشرا نے مجھے سنائی یہ ٹیپ واجپائی تک پہنچی جس میں جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو تھی، یہ ٹیپ واجپائی نے نواز شریف کو سنائی جس کے بعد نوازشریف نے واجپائی سے وعدہ کیا کہ وہ فوجیں واپس بلوائیں گے اورپھر ان کو امریکہ جانا پڑا، امریکی جنرل زینی آئے انہوں نے مشرف کو ان کا سارا پلان بتایا جس کو سن کر مشرف دم بخود ہوگئے پھر نواز شریف نے واجپائی سے وعدہ لیا کہ پاکستانی فوج کو واپسی کا راستہ دیا جائے، واجپائی کے کہنے پر پاکستانی فوج کو واپسی کا راستہ ملا۔
پرویزمشرف کارگل پر تو ناکام ہوئے مگرکشمیر پر کامیاب ہوگئے تھے۔ سینئر ایڈیٹر روزنامہ ''ایکسپریس'' ایاز خان نے کہا کہ بہت عجیب سا لگتا ہے کہ ایک عوام کا منتخب نمائندہ وزیراعظم جس نے ملک کا آئین بنایا اس کو پھانسی دیدی گئی اور ایک ڈکٹیٹر جس نے آئین کو توڑا وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ جمہوریت مضبوط ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ پوائنٹ سکورنگ کے لئے کیا جارہا ہے یہ بھی اہم ہے کہ اس سارے معاملے میں وزیراعظم کہاں ہیں، افتخار چودھری ان کو پھنسا گئے وہ تو پھنسنا نہیں چاہتے تھے، وزیراعظم افتخار چودھری کی ریٹائرمنٹ کے آخری دنوں میں بہت پریشان تھے۔ مشرف کا دل ہی انکا ویزا بنے گا اور وہ باہر چلے جائیںگے۔ نوازشریف اور مشرف کے درمیان جھگڑا کارگل سے شروع ہوا تھا جو ابھی تک چل رہا ہے۔
لال مسجد کے خلاف آپریشن پر میڈیا مشرف سے یہی پوچھتا تھا کہ رٹ آف گورنمنٹ کہاں ہے تووہ کہتے تھے کہ ایکبار میں نے آپریشن کر دیا تو پھر سارے میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور واقعی ابھی تک ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کار منیزے جہانگیر نے کہا کہ کارگل ایشو کی وجہ سے پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا خاتمہ کیا، پرویزمشرف کے دور میں کشمیر کا مسئلہ حل کے قریب تھا اور اس پر کچھ کشمیری راضی بھی تھے اور کچھ ناراض بھی تھے۔ مشرف کیس موجودہ جمہوری حکومت کیلئے الجھن بن گیا ہے۔
ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''اچھا لگے برا لگے'' میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا دونوں ملکوں میں کشمیر کے مسئلے کے حل پر بہت پیش رفت ہوچکی تھی دونوں اطراف سے انتخابات کا طریقہ بھی طے ہو چکا تھا۔ کشمیر سے بھارت اپنی افواج کو واپس بلانے پر بھی تیار ہو گیا تھایہ بھی طے ہوگیا تھا کہ ایل او سی پر صرف شناختی کارڈ دکھا کر سفر کیا جا سکے گا۔ سینئر تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا کہ اب بھی ملک میں فوج کی بالادستی ہے، فوج مشرف کے معاملے کو ادارے کے طور پر اچھا نہیں سمجھ رہی۔ مشرف سے بہت سے اعلیٰ فوجی افسران نے ہسپتال میں ملاقات کی ہے اور کورکمانڈرز کی میٹنگ میں بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مشرف دوران سروس اپنے ساتھیوں کے مسائل حل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صورتحال نازک بن گئی ہے اور کیس سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ مشرف کے معاملے میں ابھی ٹرائل کورٹ کو بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا، ٹرائل کورٹ تو یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ 12 اکتوبر کو زیر بحث لایا جائے یا نہیں۔ مشرف کے معاملے میں شاہ عبداللہ اور النہیان فیملی بہت متحرک ہیں، شہزادہ سعودالفیصل اس ایجنڈے پر نہیں آ رہے مگر چائے کی میز پر بات ہو سکتی ہے۔
نوازشریف اور پرویزمشرف کا تنازعہ کارگل سے ہے۔ کارگل کے معاملے پر ایک آڈیو ٹیپ ریکارڈ کی گئی جو آر کے مشرا نے مجھے سنائی یہ ٹیپ واجپائی تک پہنچی جس میں جنرل مشرف اور جنرل عزیز کی گفتگو تھی، یہ ٹیپ واجپائی نے نواز شریف کو سنائی جس کے بعد نوازشریف نے واجپائی سے وعدہ کیا کہ وہ فوجیں واپس بلوائیں گے اورپھر ان کو امریکہ جانا پڑا، امریکی جنرل زینی آئے انہوں نے مشرف کو ان کا سارا پلان بتایا جس کو سن کر مشرف دم بخود ہوگئے پھر نواز شریف نے واجپائی سے وعدہ لیا کہ پاکستانی فوج کو واپسی کا راستہ دیا جائے، واجپائی کے کہنے پر پاکستانی فوج کو واپسی کا راستہ ملا۔
پرویزمشرف کارگل پر تو ناکام ہوئے مگرکشمیر پر کامیاب ہوگئے تھے۔ سینئر ایڈیٹر روزنامہ ''ایکسپریس'' ایاز خان نے کہا کہ بہت عجیب سا لگتا ہے کہ ایک عوام کا منتخب نمائندہ وزیراعظم جس نے ملک کا آئین بنایا اس کو پھانسی دیدی گئی اور ایک ڈکٹیٹر جس نے آئین کو توڑا وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے کہ جمہوریت مضبوط ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ پوائنٹ سکورنگ کے لئے کیا جارہا ہے یہ بھی اہم ہے کہ اس سارے معاملے میں وزیراعظم کہاں ہیں، افتخار چودھری ان کو پھنسا گئے وہ تو پھنسنا نہیں چاہتے تھے، وزیراعظم افتخار چودھری کی ریٹائرمنٹ کے آخری دنوں میں بہت پریشان تھے۔ مشرف کا دل ہی انکا ویزا بنے گا اور وہ باہر چلے جائیںگے۔ نوازشریف اور مشرف کے درمیان جھگڑا کارگل سے شروع ہوا تھا جو ابھی تک چل رہا ہے۔
لال مسجد کے خلاف آپریشن پر میڈیا مشرف سے یہی پوچھتا تھا کہ رٹ آف گورنمنٹ کہاں ہے تووہ کہتے تھے کہ ایکبار میں نے آپریشن کر دیا تو پھر سارے میرے پیچھے پڑ جائیں گے اور واقعی ابھی تک ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کار منیزے جہانگیر نے کہا کہ کارگل ایشو کی وجہ سے پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا خاتمہ کیا، پرویزمشرف کے دور میں کشمیر کا مسئلہ حل کے قریب تھا اور اس پر کچھ کشمیری راضی بھی تھے اور کچھ ناراض بھی تھے۔ مشرف کیس موجودہ جمہوری حکومت کیلئے الجھن بن گیا ہے۔