ہمارے ذہن میں سندھ کی تقسیم کا کوئی خیال نہیں وسیم اختر

علاقائی مسائل اور تکالیف کی بنیاد پر سندھ کی تقسیم نہیں ہو سکتی، شازیہ مری

اگر ملک کے وسیع تر مفاد میں پیپلزپارٹی اور ق لیگ مل کر چل سکتی ہیں تو ہم نے کون ساغلط کیا ہے۔ فوٹو: فائل

ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کا موقف غلط نہیںہے اگر ہم کسی کوغلط لگ رہے ہیںتو میزپر بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خان زادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ الطاف بھائی لیڈر ہیں ان کی بات کا غلط مطلب سمجھا گیا، ایازلطیف پلیجو ہمارے بھائی ہیں وہ سندھ میں رہنے والے ہیں ان سے اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ان سے ہماری لڑائی کوئی نہیں ہے جب ہم نے سمجھا کہ الطاف بھائی کی تقریر کاغلط مطلب لیا گیا ہے اور اس کے ردعمل میں ہڑتال کے دوران کوئی بدمزگی ہوسکتی ہے جس سے حالات اور خراب ہوں تو ہم نے پہل کی اور ان کو ہڑتال کی کال واپس لینے پر راضی کرلیا،اگر ملک کے وسیع تر مفاد میں پیپلزپارٹی اور ق لیگ مل کر چل سکتی ہیں تو ہم نے کون ساغلط کیا ہے۔




الطاف حسین کی مثال کو غلط انداز میں لیا گیا الطاف بھائی نے کہا کہ اگر آپ ہم کو پسند نہیں کرتے تو ہمیں سندھ ٹو بنادیا جائے ہمارے ذہن میں سندھ کی تقسیم کا کوئی خیال نہیں، ہم سندھ کے انتظامی اختیارات کی غلط تقسیم کا حل چاہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ عوام کو مختلف علاقوں میں مسائل ہو سکتے ہیں تکالیف ہوسکتی ہیں لیکن ان تکالیف کی بنیاد پر سندھ کی تقسیم نہیں ہوسکتی، نوازلیگ نے آج پھر کالاباغ ڈیم پر سیاست شروع کردی ہے، سندھ کے حوالے سے سب کو مذاکرات کی میزپر بیٹھنا چاہیے۔ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہڑتال کی کال کی واپسی کے لیے پہل کی تو یہ اچھی بات ہے، سندھ میں اصل مسئلہ غریب آدمی اور اشرافیہ کے درمیان ہے،جہاں کہیں بھی یہ معاملہ زیادہ سراٹھاتا ہے تو اختلافات بڑھتے ہیں ۔
Load Next Story