دہشت گردی کے خطرات

دہشتگردی کے ناسور کا پاکستان کی نئی سیاسی صورتحال میں پلٹ آنے کی باتیں ایک سنگین خطرے کی نشاندہی ہے۔

دہشتگردی کے ناسور کا پاکستان کی نئی سیاسی صورتحال میں پلٹ آنے کی باتیں ایک سنگین خطرے کی نشاندہی ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تحریک طالبان پاکستان 'ٹی ٹی پی' دوبارہ متحرک ہو رہی ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور اور کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، ہماری عظیم مسلح افواج اور پولیس نے شہادتیں دے کر دہشت گردی کو شکست دی ہے، پارلیمنٹ کے سامنے دو روز قبل جو ہوا، اس کی مذمت کرتا ہوں، قائدین کو بھی نیوز کانفرنس کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے تھا، وزیر داخلہ اتوار کو فائرنگ سے زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کے لیے پمزآمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

سینیٹ انتخابات کے بعد پیش آنے والے واقعات اور ملکی سیاسی صورتحال میں معنی خیز تبدیلیوں کے خوش آیند اشارے ملنے کے بجائے دہشت گردی کے خدشات اس بات کا عندیا ہیں کہ سیاسی حالات پر ارباب اختیار کو تزویراتی، سیاسی اور سیکیورٹی سیاق وسباق میں سوچ بچار کی ضرورت ہے۔

ان ذرایع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ملک دشمن اور انتہا پسند عناصر دہشتگردی کے ایجنڈے کو پھر سے طالبان اور انتہا پسند عناصر کے ماسٹر مائنڈز سے مربوط کرنے کی سازش کرسکتے ہیں جس کی جانب وزیر داخلہ نے ایک صائب اشارہ کیا ہے، جسے سمجھنے کے لیے ارباب اختیار اور سیکیورٹی پر مامور طاقتوں کو دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈز کے اشتراک اور انتہا پسندی کے مذموم مشترکہ گرینڈ منصوبہ سے نہ صرف محتاط رہنا چاہیے بلکہ خطے میں ٹی ٹی پی کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع دیا گیا تو دیگر انتہا پسند قوتوں کو بھی مہمیز ملنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

لہٰذا اولین کوشش یہی ہونی چاہیے کہ دہشت گردی کے طالبانی خطرہ کا راستہ نہ صرف مکمل طور پر بند ہو بلکہ جن ماسٹرز مائنڈز نے تاریخی اور خطے کی تزویراتی تاریخ سے اگر سبق نہیں سیکھا تو انھیں بتا دیا جائے کہ پاک فوج ابھی ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد کے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ٹی ٹی پی اگر افغانستان امن عمل کو سبوتاژ کرکے پاکستان کی تعمیری کوششوں اور مثبت امن کردار کا صلہ مخاصمت اور دشمنی کی شکل میں دینا چاہتی ہے تو اسے سخت مایوسی ہوگی کیونکہ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے، اگر طالبان نے پھر کوئی شر انگیزی یا دہشت گردی کے پراکسی واقعات سے پاکستان کی سلامتی اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کیں تو پاکستان کا رد عمل اور اسٹرائیک بیک'' ماضی سے زیادہ ہولناک اور عبرت آموز ہوگا۔

وزیر داخلہ کا بیان بلاشبہ حکمرانوں، سیکیورٹی حکام اور قوم کے لیے ایک بروقت ویک اپ کال ہے، پاکستان کی داخلی صورتحال، شمال مغربی سرحدوں پر باڑ کی تعمیر، اسمگلنگ کی روک تھام اور دیگر علاقائی رقابتیں اور جھڑپیں دشمن طاقتوں کے عزائم اور بد نیتی کی غماز ہیں، بھارت چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے بظاہر اپنی اقتصادی سرگرمیوں کا عندیا دے رہا ہے اور دوسری جانب اقوام متحدہ نے پاک بھارت مذاکرات کے آغاز کے امکانات کی سمت مثبت پیش قدمی کے لیے ہمسایہ ملکوں کو خیرسگالی اور مثبت سفارت کاری کا گرین سگنل دے دیا ہے مگر جن ملفوف خطرات کا حوالہ شیخ رشید نے حال ہی میں دیا ہے۔

ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، جس میں انھوں نے ملک کے پانچ بڑے شہروں اسلام آباد، پنڈی، لاہور، پشاور اور کراچی میں طالبان کے پھر سے دہشتگردی کے لیے متحرک ہونے کے تھریٹ الرٹ سے قوم کو آگاہ کیا ہے اسے کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان دشمن قوتوں کے دہشتگردی کے عزائم ملک و قوم اور مسلح افواج سے ڈھکے چھپے نہیں، اس لیے بھارت کی مداخلت، کنٹرول لائن اور جموں و کشمیر کی صورتحال، کشمیریوں کو درپیش غیر انسانی حالات، شمال مغربی سرحد کا ڈھل مل بندوبست ،خطے کے درد انگیز سیناریو کے لیے حکومتی سیکیورٹی کا موثر ہونا وقت کا تقاضا ہے۔

دہشتگردی کے ناسور کا پاکستان کی نئی سیاسی صورتحال میں پلٹ آنے کی باتیں ایک سنگین خطرے کی نشاندہی ہے، جس میں معاملات اور مسائل کا جائزہ لینے کی ضرورت دوچند ہو جاتی ہے، سیاسی و دفاعی مبصرین نے بھی تبدیل شدہ صورتحال کے پیش نظر فعال حکمت عملی اور ڈپلومیسی کی ناگزیریت اور سیکیورٹی معاملات پر نتیجہ خیز سوچ بچار کو اہم قرار دیا ہے۔


ادھر سیکیورٹی حکام کو بلوچستان، شمال مغربی سرحدی پٹی جب کہ جنوبی و شمالی وزیرستان میں انتہا پسند عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم موثر اور مربوط حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جن طاقتوں نے ماضی میں ملک کو دہشتگردی اور مسائل کی دلدل میں پھنسایا تھا ان کے ماسٹر مائنڈز سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے، ان کے منصوبے خطرناک، ملکی سلامتی اور عوام کی زندگیوں کو پھر کسی مشکل میں ڈالنے کی سازش بن سکتے ہیں، لازم ہے کہ امن وامان کے مسائل پیدا کرنے کے لیے طالبان کو کوئی اسٹرٹیجک بہانہ نہیں ملنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے دہشتگردی کے حوالے سے کہا کہ ملزمان قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے، جلد حراست میں ہوں گے، انھوں نے کہا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پاک فوج نے کل بھی 5دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ انشا اللہ دہشت گرد آیندہ بھی شکست کھائیں گے اور ملک میں امن اور سکون کی فضا قائم ہوگی، پولیس اور ایف سی اور پاک فوج کے جوان اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ہماری زندگی آسان بناتے ہیں، انھوں نے کہا کہ نیکٹا اور دیگر اداروں نے اطلاع دی ہے کہ دو افراد راولپنڈی اور اسلام آباد میں ایکٹیو ہیں، اب ہم ایگل اسکواڈ چلائیں گے۔

جدید گاڑیاں پولیس کو دی جائیں گی جس کے لیے ایک ارب روپے مانگا ہے۔ یہ رقم مل جائے تو ریڈ زون والے باقی ناکے بھی ختم کر دیں گے۔ وزیر داخلہ دیگر معاملات پر بے شک اقدامات کریں مگر اس وقت انھیں اسمگلنگ اور شمال مغربی سرحد پر باڑ کی نگرانی اور انتہا پسندوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جب کہ اسمگلنگ کے نئے سرحدی زونز دہشتگردی کی نرسریاں بننے کے خطرے سے دوچار ہیں، ان کو کسی طور پنپنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔

سندھ کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاؤلہ نے نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی آزادانہ نقل و حمل سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کے کئی ارکان کابلی/ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں، وہ پیر کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے تحریری و ضمنی سوالوں کے جواب دے رہے تھے، مکیش کمار چاؤلہ کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکل کی رجسٹریشن پر صرف ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، لائف ٹائم ٹیکس صرف ایک ہزار روپے ہے، موٹرسائیکل غریب کی سواری ہے۔

بائیکر اگر اس کا استعمال کمرشل بھی کرتا ہے تو بھی الگ ٹیکس نہیں، نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کے حوالے سے ایک سوال پر کہ کسی دوسرے صوبے کی گاڑی کس طرح اس صوبے میں رجسٹرڈ ہو سکتی ہے، کیا یہ ممکن ہے کہ دوسرے صوبے کی گاڑی وہاں سے چوری کرکے یہاں نئے نمبر سے رجسٹرڈ کرائی جائے کے جواب میں مکیش چاؤلہ نے بتایا کہ یہ ممکن نہیں کہ دوسرے صوبے کی گاڑی یہاں دوبارہ رجسٹرڈ ہو، اگر اس صوبے سے این او سی اور تمام تفصیلات دی جائیں تو یہاں پر رجسٹریشن ممکن ہے۔

کراچی سے کشمور تک ہر شخص جہاں چاہے اپنی گاڑی رجسٹرڈ کرا سکتا ہے، وقفہ سوال کے آخر میں ایوان میں زبردست شور شرابہ شروع ہو گیا اور حکومتی و پی ٹی آئی ارکان ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے جس پر اسپیکر نے اجلاس دس منٹ کے لیے موخر کردیا، وقفے کے بعد اجلاس شروع ہوا تو مکیش کمار چاؤلہ نے ارکان کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ دو ہزار سترہ کے بعد کوئی سرکاری لینڈ کروزر نہیں خریدی گئی۔ تاہم وزیر آبکاری اس حقیقت سے ضرور واقف ہونگے کہ خیبر پختونخوا میں سوات، طورخم اور بلوچستان میں بھی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، لگژری لینڈ کروزر چلتی ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے یہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ملک کے دیگر شہروں میں پہنچ جاتی ہیں۔

ان کی اسمبلنگ، مرمت اور رنگ و روغن، سیٹ کورز، ڈینٹنگ، پینٹنگ اور وائرنگ کا سارا کام خیبر پختونخوا، فاٹا، اور بلوچستان میں ہوتا ہے، واضح رہے وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تاثر اب مٹ جائے گا کہ یہاں دو پاکستان ہیں، انھوں نے کہا کہ صرف ایک پاکستان ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاسی، معاشی، کاروباری اور تجارتی سطح پر انصاف کے حصول اور یکساں مواقع کی دستیابی کے حوالے سے پاکستان آج بھی غریب اور امیر میں بٹا ہوا ہے، وزیر اعظم کو اگر غریب اور امیر کا پاکستان ایک کرنا ہے تو انھیں سیاسی نظام میں انصاف، میرٹ، شفافیت اور وسائل کی تقسیم کے خواب کو حقیقت بنانا ہوگا، دوسرا مسئلہ اسمگلنگ کا ہے۔

یہ خوش آیند بات ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحد پر باڑ اور تجارتی اور کاروباری مارکیٹیں تعمیر کی جا رہی ہیں، عوام کو روزگار کے مواقع ان کے قریبی علاقوں میں مل رہے ہیں لیکن کاروباری سہولتوں کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور کرمنل عناصر کی سرگرمیوں پر چیک رکھنا بھی ضروری ہے، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی علاقے میں دہشتگردی کی وارداتوں میں اچانک تیزی خالی از علت نہیں ہے، ارباب اختیار ہائی الرٹ رہیں کہ آنے والے دن ہماری سیکیورٹی فورسز کے لیے آزمائش کے ہیں۔
Load Next Story