مہنگائی اور عوام کی حالت زار

نچلے اور متوسط طبقے کے پاس اب گذر بسر کا سامان نہیں رہا ہے۔

حکومتی سطح پرایک ایسی مربوط معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔ فوٹو؛ فائل

DUBAI:
ملک بھر میں مہنگائی کا سونامی آچکا ہے، برائیلرمرغی کے گوشت اور چینی نے مہنگائی کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ چینی کی قیمت 107روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے ،لاہور میں مرغی کا گوشت فی کلو 344روپے جب کہ کراچی میں دودھ ایک سو تیس روپے فی لیٹر اور پانچ سو روپے فی کلو مرغی کا گوشت مل رہا ہے۔

نچلے اور متوسط طبقے کے پاس اب گذر بسر کا سامان نہیں رہا ہے، یہ سب مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اضافے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں جب کہ دوسری جانب وفاقی کابینہ نے آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ایک سو چالیس ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کی منظوری دیدی ہے جو اس سال جولائی سے نافذ العمل ہونگے۔

سال رواں بعض شعبوں کو ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے سے 1.4ٹریلین روپے الگ اکٹھے کیے جائیں گے، مرے پر سو درے کے مصداق نیپرا نے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں جنوری کے لیے بجلی کی قیمت میں 89 پیسے فی یونٹ اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

اس ساری صورتحال کا تجزیہ کریں تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ روپیہ ڈالرکی محکومیت کا شکار ہے،اس معاشی افراتفری میں اشیا کی قیمتوں کا کنٹرول میں رہنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز بلیک مارکیٹنگ اور رسد میں رکاوٹ بھی مہنگائی کا باعث ہوتی ہے۔

بے دریغ لیے گئے غیر ملکی قرضہ جات بھی معیشتیں کمزورکرتے ہیں ، حکومتی اخراجات اور معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے بے تحاشا نوٹ چھاپنے سے بھی افراط زر پھیلتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کر دیا ہے۔ کوئی دن جاتا ہو گا جب حکومت کی طرف سے کسی نہ کسی ضروری چیزکی قیمت میں اضافے کا اعلان نہ ہوتا ہو جو عوام کی تکلیف میں مزید اضافہ کا سبب نہ بنتا ہو۔ آٹا، چاول، دال، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی شے بھی اب عوام کی دسترس میں نہ رہی ہے۔

غریب لوگوں کی ایک تعداد غربت سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ آج جتنے پیسے گھر میں آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے، جس حساب سے مہنگائی ہو رہی ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ دال چاول کھانا بھی بہت مشکل بن جائے گا۔ غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی، متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

یہ سب وہ عوامل ہیں جو ملک میں مہنگائی کا سبب بنتے ہیں ،مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے نہ صرف حکومت بے بس نظر آرہی ہے بلکہ اس کے ماتحت پرائس کنٹرول کمیٹی کے ممبران میں اتنی اہلیت ہی نہیں کہ وہ حکومت کوکوئی مشورہ دے سکیں کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کوکیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں حد درجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نہ صرف عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے بلکہ کاروبار پر بھی منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح اس حکومت میں آدھی رہ گئی ہے، جس کی اہم وجہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ حکومت کا شاید اس طرف دھیان نہیں یا وہ دھیان دینا نہیں چاہتے۔اس ساری صورتحال میں اس وقت بھی حکومتی پلاننگ کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی شرائط منوانے کے لیے پاکستان کو دیے جانے والے چھ ارب ڈالرکے قرضہ پروگرام کو روک رکھا تھا، اس کے لیے عالمی ادارے نے شرائط عائد کررکھی تھیں کہ بجلی کی قیمتیں بڑھائی جائیں جس کی وزیراعظم ایک سال سے مزاحمت کرتے آرہے تھے، لیکن اب بیل آؤٹ پیکیج کی بحالی کے لیے تیس دیگر شرائط کے ساتھ یہ دو مطالبات بھی پورے کردیے گئے ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 80 قسم کے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ پاکستان میں ڈالرکی قیمت تقریباً 160 روپے کے آس پاس ہے، لیکن گزرے سال میں ڈالر کی قیمت 170 کے قریب بھی پہنچی تھی۔

ڈالرکی قیمت میں بے ترتیب اتار چڑھاؤ کی وجہ آئی ایم ایف سے کیا جانے والا معاہدہ ہے۔ اس کے مطابق اسٹیٹ بینک ڈالرکوکنٹرول نہیں کرے گا ، طلب اور رسد کی بنیاد پر مارکیٹ خود ہی قیمت کا تعین کرے گی، لیکن ایک سال میں جو اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے ماضی میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں۔


ماضی میں ڈالرکی قیمت میں بڑا اضافہ تو ہوتا رہا ہے لیکن تقریباً 12 روپے کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے، اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کے سخت قوانین نے ڈالرکو 170 روپے کی سطح سے نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سخت سزاؤں کی بدولت جعلی منی چینجرز نے کاروبار بند کردیے ہیں اور بیرونِ ملک پاکستانی قانونی راستے کے ذریعے رقم پاکستان بھجوانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ایک اہم وجہ کورونا وائرس بھی ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف ملا ہے۔ پاکستان جی20 ممالک سے بھی تقریباً 80 کروڑ ڈالر قرضوں کی ادائیگیوں میں وقت لینے میں کامیاب ہوگیا ہے،گوکہ آج بھی ڈالرکی قیمت زیادہ ہے لیکن ڈالرکوکنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومتی کاوشیں بہتر دکھائی دیتی ہیں۔

برآمدات کسی بھی ملک کی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ کاروبارکا دور ہے اورکارپوریٹ سیکٹر ہی اصل حکمران ہے۔ آج کے ترقی یافتہ ممالک وہ ہیں جن کے تاجر خوشحال ہیں، اگر آپ دنیا کو اپنی چیزیں بیچ نہیں سکتے تو آپ چاہے بے پناہ ذخائر کے مالک ہی کیوں نہ ہوں آپ معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوسکتے۔ کورونا وائرس کی ابتدا میں گزرے برس ایشیا کے دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں معاشی سرگرمیاں کم عرصے تک بند رہی ہیں۔ ہندوستان اور چین میں ہونے والے نقصان کا فائدہ پاکستان نے اٹھایا ہے۔

ٹیکسٹائل کے شعبے کے بیشتر آرڈر چین اور ہندوستان سے کٹ کر پاکستان کو ملے ہیں، لیکن برآمدات میں مطلوبہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے ، اس وقت پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منڈی کے اثرات نمایاں نظر آرہے ہیں ، جس سے انڈیکس 45000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی ہے۔ مندی کے سبب 82فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جب کہ سرمایہ کاروں کے مزید ایک کھرب 52ارب 2کروڑ71لاکھ 33ہزار 701روپے ڈوب گئے ۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے کورونا کے سماجی و اقتصادی اثرات کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران لاک ڈاؤن سے 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کے روزگار متاثر ہوئے اور 2 کروڑ 6 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے، 66 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی ہوئی، اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ، زراعت، ہول سیل، ٹرانسپورٹ، تعمیرات ودیگر شعبے کورونا سے بری طرح متاثر ہوئے جب کہ تعمیرات سے منسلک 80 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔

ادارہ شماریات کے مطابق مینوفیکچرنگ سے 70 فیصد، ٹرانسپورٹیشن سے منسلک 67 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ دیہی علاقوں کی 49 فیصد آبادی کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے، اس کے علاوہ ملک بھر سے 57 فیصد شہری آبادی کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سارے عوامل کے یکجا ہونے اور آئے روز عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تین طرح کے فوری اقدام کرنے چاہیئیں۔ حکومت کس طرح عام شہریوں کی اقتصادی قوت کو بڑھائے تاکہ عوام کے پاس مالی وسائل زیادہ ہوں،گھریلو صنعت کاری کو فروغ دیا جائے تاکہ فوری طور پر بے روزگاری کو قابو میں لایا جاسکے اور معیشت کو بھی تقویت ملے۔ مہنگائی کے اثرات نے جہاں صنعتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں، وہیں لاقانونیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

جمہوریت کا حسن تو یہ ہے کہ وسائل کی تقسیم اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے مگر پاکستان میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ غیر منصفانہ تقسیم کے باعث معاشرے میں غربت، بے چینی، مایوسی، افراتفری پھیلی ہے اور بے روزگاری کے باعث چوری، قتل، دھوکا دہی، ریپ کیسز اور دیگر جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ مالیاتی مشیرکے پاس سوائے آئی ایم ایف سے خوشخبری ملنے کا مژدہ دینے کے اور کوئی بات عوام کے مفاد کی نہیں۔ جیسے کہ اس وقت ملک میں جہاں مزدور اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے ، وہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اور پروفیشنل افراد بھی بے روزگار ہیں یعنی روزگار کے مواقعے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں ،یہ ملکی معیشت کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن رہا ہے۔

حکومتی سطح پرایک ایسی مربوط معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس سے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں، اس ضمن میں نئے صنعتی یونٹوں کا قیام بھی ضروری ہے ، عوام کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ حالات روز بروز سنگین ہوتے جارہے ہیں، حکومت نے اس کا احساس نہ کیا اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز نہ کیا تو بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوں گے جو حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے سخت مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔
Load Next Story