مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس یمن سے آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کا شکار

وفاقی وزیر تجارت نے یمنی انویسٹرز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

وسط مدت میں ملکی معاشی نموکی شرح6 سے 7فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں، وفاقی وزیر تجارت نے یمنی انویسٹرز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔ فوٹو: اے پی پی

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا ہے کہ پاکستان یمنی مارکیٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی بڑی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

2010-11 میں پاک یمن تجار ت میں 67 فیصد اضافہ ہوا، باہمی تجارت کا حجم مزید بڑھائیں گے، ہم مستقبل میں یمن کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے)، مشترکہ بزنس کونسل اور یمن کے عدن فری زون میں مشترکہ پراجیکٹ لگائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے پاک یمن مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس کی یمنی وزیر صنعت و تجارت ڈاکٹر سالدین علی سالم طالب کے ساتھ مشترکہ طور پر صدارت کرتے ہوئے کیا، یمنی وفد میں نائب وزیر صنعت و تجارت، پاکستان میں متعین یمنی سفیر، یمنی وزارت پلاننگ کے نمائندے اور کراچی میں متعین یمن کے اعزازی کونسل جنرل ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ شامل تھے، پاکستانی وفد میں وزارت صنعت و پیداوار، وزارت تجارت و ٹیکسٹائل انڈسٹری، اکنامک افیئرز ڈویژن، وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل، وزارت تعلیم، وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی، وزارت نیشنل ہیلتھ اینڈ ریگولیشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، کمیونیکیشن، خارجہ، نیسپاک، پاکستان پٹرولیم لمیٹیڈ، ڈیسکون، سمیڈا، نیوٹیک، ایف ڈبلیو او، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے نمائندے شامل تھے۔




وزارتی کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ دونوں ممالک کے حالیہ معاشی تعاون کے پس منظر میں صدیوں پرانے مذہبی اور ثقافتی تعلقات موجود ہیں، پاکستان ان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔ وفاقی وزیر نے یمنی وزیر صنعت و تجارت کو ڈبلیو ٹی او کا 160 واں ممبر ملک بننے پر مبارک باد دی اور کہا کہ اس سے پاکستان کو یمنی منڈیوں تک رسائی حاسل کرنے میں مزید سہولت ہوگی، پاکستان وسطی اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، پاکستان کی آبادی 18 کروڑ سے زائد ہے اور یہ چین اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی منڈیوں کے پڑوس میں واقع ہے، ان خصوصیات کی وجہ سے پاکستان مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں کیلیے ایک اہم مارکیٹ ہے۔ غلام مرتضیٰ جتوئی نے یمنی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ ہور ہا ہے، میڈیم ٹرم پلاننگ کے تحت پاکستان جی ڈی پی نمو کی شرح کو 6 سے 7 فیصد تک لے جانا چاہتا ہے جس میں صنعتی شعبہ اہم کردار ادا کرے گا۔
Load Next Story