لگژری گاڑیوں کے ٹیکس چور سرمایہ کاروں کیخلاف کارروائی

پہلے مرحلے میں ریکوری کیلیے این ٹی این نہ رکھنے والوں کوہدف بنایا جائے گا

پھرسرمایہ کاری چھپاکرٹیکس بچانے والوں پرہاتھ ڈالاجائیگا،بات گرفتاریوں تک جاسکتی ہے،ذرائع۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے گزشتہ 3 سال کے دوران بی ایم ڈبلیو اورمرسیڈیز بینزسمیت دیگر پرتعیش گاڑیوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایف بی آر نے 3سال کے دوران 50، 50اور اسے بھی زائد بی ایم ڈبلیو و مرسیڈیز بینز اور لینڈ کروزر و پجیرو سمیت دیگر پرتعیش گاڑیوں میں اربوںروپے کی سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے بارے میں تمام تفصیلات اور ثبوتوں پر مبنی معلومات پر مشتمل سی ڈیز ڈائریکٹریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو بھجوادی ہیں اور جن لوگوں کی طرف سے ٹیکس چوری کی گئی ہے انہیں نوٹس بھی جاری کرنا شروع کردیے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی طرف سے 3 سال کے دوران لگژری گاڑیوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنیوالوں ٕ کے خلاف 2 مراحل میں کارروائی کی جائے گی۔




پہلے مرحلے میں ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے جن کی طرف سے ٹیکس دینا تو دور کی بات ہے ان کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر(این ٹی این) تک نہیں ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں ان امیر ترین لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جن کے پاس نیشنل ٹیکس نمبرز بھی ہیں اور وہ ٹیکس گوشوارے بھی جمع کرارہے ہیں لیکن ان کی طرف سے جمع کرائے جانے والے ٹیکس گوشواروں میں ان لگژری گاڑیوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے بارے میں ظاہر نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیاکہ لگژری گاڑیوں میں کی جانے والی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے ذرائع آمدنی کیا ہیں اور یہ رقم انہوں نے کیسے حاصل کی ہے۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ این ٹی این نہ رکھنے کے باجود 3 سال کے دوران بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز بینزسمیت دیگر پرتعیش گاڑیوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں سے ٹیکس واجبات جرمانوں کے ساتھ وصول کیے جائیں گے اور نان کمپلائنس پر ان سرمایہ کاروں کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کی جائے گی جس کے تحت ان کے بینک اکاونٹس منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ اثاثہ جات ضبط اور انکی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاسکتی ہیں۔
Load Next Story