ایمنسٹی اسکیم ٹیکس چوروں کے تحفظ کیلیے ہے شمائل داؤد
ایسے اقدامات سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھتی تو کئی سال پہلے یہ کام ہو گیا ہوتا،صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس
چوروںکوتحفظ رواج بن چکا،تمام چیمبرزسے مشاورت کے بعدحکمت عملی کا اعلان کرینگے۔ فوٹو: فائل
راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر شمائل دائود آرائیں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم صرف ٹیکس چوروں کو تحفظ دینے کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔
راولپنڈی چیمبر ملک کے تمام چیمبرز کے ساتھ مشاورت کے بعد جلد ہی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز راولپنڈی چیمبر کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مہذب معاشروں میں ٹیکس گزاروں کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں مگر ہمارے ملک میں ادارہ ایف بی آر ٹیکس گزاروں کو ڈرا دھمکا کر اور مختلف قسم کے نوٹسسز بھیج کر پریشان کر رہا ہے یہ وہ ٹیکس گزار ہیں جنکا سالانہ ٹیکس لاکھوں میں ہوتا ہے اور دوسری طرف چوروں پر عنایت کی بھر مار جارہی ہے جس کا نقصان ملک کی معیشت کو ہو رہاہے، بغیر تحقیق اور دوسری پارٹی کو سنے بغیر نوٹسسز دینا قطعاً جمہوری عمل نہیں۔
ادارے کو اب جمہور ی طور طریقے سیکھنا ہوں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بورڈ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے اپنے دعوئوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا اور اب سٹھیا گیا ہے کہ کس طرح ٹیکس ہدف کو پورا کیا جائے، اگر ایسے اقدامات سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھتی تو کئی سال پہلے یہ کام ہو گیا ہوتا، ان اقدامات سے یہ شرح(حکومتی ہدف)15فیصد کے بجائے 8فیصد (موجودہ) سے بھی گر جائے گی، کاروباری برادری مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت ٹیکس گزاروں کو سہولتیں فراہم کرے اور انہیں مراعات دے تا کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت پر اعتماد بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نااہلی کی انتہا ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ ٹیکس گزاروں کو مختلف قسم کی سہولتیں فراہم کی جاتیں جسے دیکھ کو ٹیکس چور بھی ٹیکس نیٹ میں آنے پر مجبور ہو جاتے مگر ہمارے ہاں چوروں کو تحفظ دینا شاید رواج بن چکا ہے، راولپنڈی چیمبر اس حوالے سے ملک کے تمام چیمبرز کے ساتھ رابطے کر رہا ہے اور مشاورت کے بعد جلد ہی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گا جو پورے ملک کی کاروباری برادری کا مشترکہ فیصلہ ہو گا۔
راولپنڈی چیمبر ملک کے تمام چیمبرز کے ساتھ مشاورت کے بعد جلد ہی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز راولپنڈی چیمبر کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مہذب معاشروں میں ٹیکس گزاروں کو سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں مگر ہمارے ملک میں ادارہ ایف بی آر ٹیکس گزاروں کو ڈرا دھمکا کر اور مختلف قسم کے نوٹسسز بھیج کر پریشان کر رہا ہے یہ وہ ٹیکس گزار ہیں جنکا سالانہ ٹیکس لاکھوں میں ہوتا ہے اور دوسری طرف چوروں پر عنایت کی بھر مار جارہی ہے جس کا نقصان ملک کی معیشت کو ہو رہاہے، بغیر تحقیق اور دوسری پارٹی کو سنے بغیر نوٹسسز دینا قطعاً جمہوری عمل نہیں۔
ادارے کو اب جمہور ی طور طریقے سیکھنا ہوں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بورڈ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے اپنے دعوئوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا اور اب سٹھیا گیا ہے کہ کس طرح ٹیکس ہدف کو پورا کیا جائے، اگر ایسے اقدامات سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھتی تو کئی سال پہلے یہ کام ہو گیا ہوتا، ان اقدامات سے یہ شرح(حکومتی ہدف)15فیصد کے بجائے 8فیصد (موجودہ) سے بھی گر جائے گی، کاروباری برادری مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت ٹیکس گزاروں کو سہولتیں فراہم کرے اور انہیں مراعات دے تا کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت پر اعتماد بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نااہلی کی انتہا ہے، چاہیے تو یہ تھا کہ ٹیکس گزاروں کو مختلف قسم کی سہولتیں فراہم کی جاتیں جسے دیکھ کو ٹیکس چور بھی ٹیکس نیٹ میں آنے پر مجبور ہو جاتے مگر ہمارے ہاں چوروں کو تحفظ دینا شاید رواج بن چکا ہے، راولپنڈی چیمبر اس حوالے سے ملک کے تمام چیمبرز کے ساتھ رابطے کر رہا ہے اور مشاورت کے بعد جلد ہی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کرے گا جو پورے ملک کی کاروباری برادری کا مشترکہ فیصلہ ہو گا۔