ہوائی اڈوں پر کسٹم اے این ایف کے ساتھ جانچ پڑتال کیلیے تیار نہیں کمانڈنٹ برگیڈیئر
کسٹم افسر ابتدا میں سامان کی جانچ کرتا ہے ، اے این ایف عملہ بھی وہی کام پھر کرتا ہے ،مسافر مشتعل ہوجاتے ہیں۔
وی بوک نظام سے جانچ تیز ہو سکتی ہے،چھوٹا دفتربھی نہیں دیاجارہا، اے این ایف کمانڈنٹ کا تاجروں سے خطاب۔ فوٹو : فائل
کمانڈنٹ برگیڈیئر سید وقار حیدر رضوی نے کہا ہے کہ اگر وی بوک سسٹم تک این ایف کو رسائی دی جائے تو اے این ایف کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو تیز کیا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے کسٹم حکام اس تک رسائی دینے سے گریزاں ہیں۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کے کمانڈنٹ برگیڈیئر سید وقار حیدر رضوی نے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پراجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اگر وی بوک سسٹم تک این ایف کو رسائی دی جائے تو اے این ایف کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو تیز کیا جاسکتا ہے جس کا مطالبہ پچھلے3 سال سے کیا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے کسٹم حکام اس تک رسائی دینے سے گریزاں ہیں اگر ہمیں وی بوک تک رسائی دے دی جائے تو اس سے ہمارے لیے امور آسان ہوجائیں گے اور تاجر برادری کو درپیش شکایات کو کم کیا جاسکے گا، کے سی سی آئی کو بھی یہ معاملہ اعلیٰ حکام کے پاس اٹھانا چاہیے تاکہ اے این ایف کو وی بوک کی رسائی مل سکے جو یقینی طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے سازگار ثابت ہوگا۔
انھوں نے ہوائی اڈوں پر اے این ایف اور کسٹم اتھارٹی کی جانچ پڑتال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسٹم حکام ابتدا میں سامان کی جانچ پڑتال کا کام انجام دیتی ہے جبکہ آخر میں اے این ایف کا عملہ بھی ایئر پورٹ پر وہی کام پھر انجام دیتا ہے جس سے بیشتر مسافر مشتعل ہوجاتے ہیں کیونکہ انھیں دوبارہ اسی طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے، لہٰذا ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ کسٹم حکام کو اے این ایف حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر جانچ پڑتال کی درخواست کی جائے تاکہ مسافروں کی مشکلات کو کم کیا جاسکے لیکن کسٹم حکام نے اے این ایف کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی،وہ جانچ پڑتال کیلیے تیار نہیں۔
انھوں نے اے این ایف عملے کی عدم دستیابی کی وجہ سے جانچ پڑتال میں تاخیر سے متعلق شرکاکے خدشات کے جواب میں کہا کہ ٹرمینل آپریٹرز اور پورٹ حکام اے این ایف کو چھوٹا دفتر بھی قائم کرنے کے لیے جگہ دینے پر رضامند نہیں جو تاخیر کی بنیادی وجہ ہے، اے این ایف پاکستان بھر میں صرف3 ہزار اہلکاروں پر مشتمل افرادی قوت کے ساتھ محدود دستیاب وسائل میں اپنی بہترین خدمات کی فراہمی کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔
کمانڈنٹ اے این ایف نے ناقص ریپیکنگ پر کے سی سی آئی کے ممبران کے اظہار تشویش پر کہاکہ تمام اسٹیک ہولڈرزسمیت تاجروں، پورٹ اتھارٹیز، کسٹمز، اے این ایف اور پاکستان کوسٹ گارڈ حکام کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا تاکہ جانچ پڑتال کے بعد ناقص ریپیکنگ کی وجہ سے زیربحث آنے والے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاسکے اور حل نکالا جائے۔
اے این ایف سامان کی جانچ پڑتال میں تاخیر کی وجہ سے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کا ادراک رکھتی ہے اور کم سے کم کنٹینر کی جانچ کرکے شکایات کو کم کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، انھوں نے کے سی سی آئی کو ایک فوکل پرسن دینے کا مشورہ دیا۔
شارق وہرہ نے زور دیا کہ اے این ایف کو اپنے تاثر کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی اور تاجر برادری کو مکمل طور پر سہولت فراہم کرنا ہوگی جیسا کہ بہت سے معاملات میں اے این ایف پر رکاوٹیں پیدا کرنے اور کلیئرنس کے طریقہ کار میں تاخیر کا الزام عائد کیا جاتاہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کے کمانڈنٹ برگیڈیئر سید وقار حیدر رضوی نے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پراجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اگر وی بوک سسٹم تک این ایف کو رسائی دی جائے تو اے این ایف کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو تیز کیا جاسکتا ہے جس کا مطالبہ پچھلے3 سال سے کیا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے کسٹم حکام اس تک رسائی دینے سے گریزاں ہیں اگر ہمیں وی بوک تک رسائی دے دی جائے تو اس سے ہمارے لیے امور آسان ہوجائیں گے اور تاجر برادری کو درپیش شکایات کو کم کیا جاسکے گا، کے سی سی آئی کو بھی یہ معاملہ اعلیٰ حکام کے پاس اٹھانا چاہیے تاکہ اے این ایف کو وی بوک کی رسائی مل سکے جو یقینی طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے سازگار ثابت ہوگا۔
انھوں نے ہوائی اڈوں پر اے این ایف اور کسٹم اتھارٹی کی جانچ پڑتال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسٹم حکام ابتدا میں سامان کی جانچ پڑتال کا کام انجام دیتی ہے جبکہ آخر میں اے این ایف کا عملہ بھی ایئر پورٹ پر وہی کام پھر انجام دیتا ہے جس سے بیشتر مسافر مشتعل ہوجاتے ہیں کیونکہ انھیں دوبارہ اسی طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے، لہٰذا ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ کسٹم حکام کو اے این ایف حکام کے ساتھ مشترکہ طور پر جانچ پڑتال کی درخواست کی جائے تاکہ مسافروں کی مشکلات کو کم کیا جاسکے لیکن کسٹم حکام نے اے این ایف کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی،وہ جانچ پڑتال کیلیے تیار نہیں۔
انھوں نے اے این ایف عملے کی عدم دستیابی کی وجہ سے جانچ پڑتال میں تاخیر سے متعلق شرکاکے خدشات کے جواب میں کہا کہ ٹرمینل آپریٹرز اور پورٹ حکام اے این ایف کو چھوٹا دفتر بھی قائم کرنے کے لیے جگہ دینے پر رضامند نہیں جو تاخیر کی بنیادی وجہ ہے، اے این ایف پاکستان بھر میں صرف3 ہزار اہلکاروں پر مشتمل افرادی قوت کے ساتھ محدود دستیاب وسائل میں اپنی بہترین خدمات کی فراہمی کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔
کمانڈنٹ اے این ایف نے ناقص ریپیکنگ پر کے سی سی آئی کے ممبران کے اظہار تشویش پر کہاکہ تمام اسٹیک ہولڈرزسمیت تاجروں، پورٹ اتھارٹیز، کسٹمز، اے این ایف اور پاکستان کوسٹ گارڈ حکام کو ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا تاکہ جانچ پڑتال کے بعد ناقص ریپیکنگ کی وجہ سے زیربحث آنے والے مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاسکے اور حل نکالا جائے۔
اے این ایف سامان کی جانچ پڑتال میں تاخیر کی وجہ سے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو درپیش مشکلات کا ادراک رکھتی ہے اور کم سے کم کنٹینر کی جانچ کرکے شکایات کو کم کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، انھوں نے کے سی سی آئی کو ایک فوکل پرسن دینے کا مشورہ دیا۔
شارق وہرہ نے زور دیا کہ اے این ایف کو اپنے تاثر کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی اور تاجر برادری کو مکمل طور پر سہولت فراہم کرنا ہوگی جیسا کہ بہت سے معاملات میں اے این ایف پر رکاوٹیں پیدا کرنے اور کلیئرنس کے طریقہ کار میں تاخیر کا الزام عائد کیا جاتاہے۔