ایشیا کپمنتقلی کے معاملے میں پی سی بی تنہائی کا شکار
بھارتی پشت پناہی نے خدشات کے باوجود بنگلہ دیشی میزبانی کو لاحق خطرات ٹال دیے
اقرار اور انکار کے گورکھ دھندوں میں الجھے پی سی بی کیلیے درست راستے کا انتخاب انتہائی مشکل ہوگیا۔فوٹو:فائل
ایشیا کرکٹ کپ کی بنگلہ دیش سے منتقلی کے معاملے میں پی سی بی تنہائی کا شکار ہوگیا، جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔
بھارتی پشت پناہی نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود میزبانی کو لاحق خطرات ٹال دیے،اقرار اور انکار کے گورکھ دھندوں میں الجھے پی سی بی کیلیے درست راستے کا انتخاب انتہائی مشکل ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال خاص طور پر پاکستان مخالف مظاہروں کے پیش نظر پی سی بی کی کوشش تھی کہ ایشیا کپ کسی دوسرے ملک منتقل کردیا جائے، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے اے سی سی کے اجلاس میں اپنا موقف بہترین انداز سے پیش بھی کیا لیکن دال نہ گل سکی، بھارتی کرکٹ بورڈ کی پشت پناہی نے بی سی بی کی میزبانی بچانے میں اہم کردار کیا تو کسی اور ملک کو اختلاف کی جرات نہ ہوئی، سری لنکا نے دبے الفاظ میں کچھ تحفظات ظاہر کیے لیکن عالمی کرکٹ میں پہچان بنانے کیلیے پاکستان کا ممنون افغانستان ایونٹ میں شرکت کا پروانہ حاصل کرنے کیلیے بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔
اے سی سی اجلاس میں کوئی حمایت حاصل نہ کرنے والا پی سی بی صورتحال سے پریشان اور کوئی بھی فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار ہے۔ ایک عہدیدارنے کہاکہ پاکستان ٹیم کیلیے بنگلہ دیش میں شدید سیکیورٹی خطرات ہوں گے، شرکت سے انکار پر مالی مشکلات کا شکار پی سی بی کو بھاری رقم سے بھی ہاتھ دھونا پڑجائیں گے، اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کو میگا ایونٹ میں شرکت کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا، دیگر ممبر ممالک کی کی حمایت نہ ملنے پر پی سی بی مشکل صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔آفیشل نے کہا کہ امید ہے کہ 9فروری کو آئی سی سی میٹنگ میں حکام پاکستان کے حوالے سے صورتحال کی نزاکت سے مناسب آگاہی دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انھوں نے واضح کیا کہ گرین شرٹس کے دستبردار ہونے کی صورت میں بھی ایشیا کپ کا انعقاد کرا دیا جائے گا،افغانستان کو ایونٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی پاکستان کا ممکنہ خلا پُر کرنے کیلیے کیا گیا ہے۔
بھارتی پشت پناہی نے سیکیورٹی خدشات کے باوجود میزبانی کو لاحق خطرات ٹال دیے،اقرار اور انکار کے گورکھ دھندوں میں الجھے پی سی بی کیلیے درست راستے کا انتخاب انتہائی مشکل ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال خاص طور پر پاکستان مخالف مظاہروں کے پیش نظر پی سی بی کی کوشش تھی کہ ایشیا کپ کسی دوسرے ملک منتقل کردیا جائے، چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے اے سی سی کے اجلاس میں اپنا موقف بہترین انداز سے پیش بھی کیا لیکن دال نہ گل سکی، بھارتی کرکٹ بورڈ کی پشت پناہی نے بی سی بی کی میزبانی بچانے میں اہم کردار کیا تو کسی اور ملک کو اختلاف کی جرات نہ ہوئی، سری لنکا نے دبے الفاظ میں کچھ تحفظات ظاہر کیے لیکن عالمی کرکٹ میں پہچان بنانے کیلیے پاکستان کا ممنون افغانستان ایونٹ میں شرکت کا پروانہ حاصل کرنے کیلیے بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔
اے سی سی اجلاس میں کوئی حمایت حاصل نہ کرنے والا پی سی بی صورتحال سے پریشان اور کوئی بھی فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار ہے۔ ایک عہدیدارنے کہاکہ پاکستان ٹیم کیلیے بنگلہ دیش میں شدید سیکیورٹی خطرات ہوں گے، شرکت سے انکار پر مالی مشکلات کا شکار پی سی بی کو بھاری رقم سے بھی ہاتھ دھونا پڑجائیں گے، اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کو میگا ایونٹ میں شرکت کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکے گا، دیگر ممبر ممالک کی کی حمایت نہ ملنے پر پی سی بی مشکل صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے۔آفیشل نے کہا کہ امید ہے کہ 9فروری کو آئی سی سی میٹنگ میں حکام پاکستان کے حوالے سے صورتحال کی نزاکت سے مناسب آگاہی دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔انھوں نے واضح کیا کہ گرین شرٹس کے دستبردار ہونے کی صورت میں بھی ایشیا کپ کا انعقاد کرا دیا جائے گا،افغانستان کو ایونٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی پاکستان کا ممکنہ خلا پُر کرنے کیلیے کیا گیا ہے۔