سینیٹ الیکشن کی دھاندلی میں سیکریٹری سینیٹ بھی ملوث ہے پیپلز پارٹی

سیکریٹری نے نام کے اوپر مہر لگنے والے ووٹ کو درست قرار دیا تھا جس کے گواہ میں، فاروق نائیک اور گیلانی ہیں

سیکریٹری نے نام کے اوپر مہر لگنے والے ووٹ کو درست قرار دیا تھا جس کے گواہ میں، فاروق نائیک اور گیلانی ہیں (فوٹو: فائل)

پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں دھاندلی میں سیکریٹری سینیٹ بھی ملوث ہیں انہیں برطرف کیا جائے، ہم نے سیکریٹری سے پوچھا تھا کہ اگر نام کے اوپر مہر لگے تو وہ ووٹ ٹھیک ہوگا یا نہیں؟ تو سیکرٹری نے اسے درست قرار دیا تھا۔


سعید غنی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منصوبہ تھا جس کے ذریعے اس نااہل اور نالائق حکومت نے اپنے ووٹرز کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی، اس حوالے سے اپنے ووٹرز کو انہوں نے ضرور آگاہ بھی کیا ہوگا۔



انہوں نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک پولنگ ایجنٹ تھے انہوں نے سیکریٹری سینیٹ سے رابطہ کیا اس کے بعد ہم سیکریٹری سینیٹ کے پاس گئے کیونکہ ہمیں ان کی بددیانتی کا یقین تھا، ہم نے اپنے خدشات سیکریٹری سینیٹ کے سامنے رکھے، سیکرٹری سے پوچھا کہ اگر نام کے اوپر مہر لگے تو وہ ووٹ ٹھیک ہوگا یا نہیں؟ تو سیکرٹری نے اسے درست قرار دیا اس کے گواہ فاروق ایچ نائیک، علی حیدر گیلانی اور میں ہوں۔


سعید غنی نے کہا کہ اب خود سیکرٹری کہتے ہیں کہ مجھے پریذائیڈنگ آفیسر اوور رول کررہے ہیں، سیکرٹری سینیٹ جو کہ اس وقت ہیڈ تھے انہوں نے ہاتھ کھڑے کردیے، اس دھاندلی میں سیکریٹری سینیٹ بھی ملوث ہیں، انہیں بھی برطرف کیا جانا چاہیے۔


وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سات ارکان نے اپنے ووٹ خود خراب کیے، ایک ووٹر جس نے ووٹ خراب کیا میں اسے نہیں جانتا اگر کسی کی نیت ووٹ خراب کرنے کی ہوتی تو پھر وہ یا تو مہر نہ لگاتے یا پھر باکس کے باہر یا اندر ڈبل مہر لگاتا۔

Load Next Story