پولیس کو نفری اور آلات کی کمی کا سامنا ہےآئی جی سندھ

اسٹریٹ کرائم جاری ہیں،تاجر رہنما ندیم خان ،ایس ایم منیر،فرخ مظہر و دیگر

10ہزار نئی بھرتیوں کی اجازت ملی ہے جس میں کچھ وقت لگے گا،شاہد ندیم بلوچ۔ فوٹو: فائل

آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے کہا کہ پولیس کو نفری اور آلات کی کمی کا سامنا ہے،کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تاجروں و صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شہر میں 23ہزار کے لگ بھگ نفری موجود ہے۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ 10ہزار نئی بھرتیوں کی اجازت ملی ہے جس میں کچھ وقت لگے گا اور محکمہ پولیس کو آٹھ ماہ تک نفری اور آلات کی کمی کا سامنا رہے گا،ہمیں اس وقت بلٹ پروف جیکٹس کی شدید قلت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے،آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ اور ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایم منیر ، فرخ مظہر،زبیر چھایا اور ندیم خان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے باوجود شہر میں اسٹریٹ کرائمز کا سلسلہ جاری ہے جس میں شہریوں کو نقدی اور موبائل فون سے محروم ہونا پڑتا ہے، صنعتکاروں نے اس ضمن میں تجویز پیش کی کہ پولیس اہلکاروں کو ناکے کے بجائے گشت کے نظام میں بہتری لانی ہوگی۔




تا کہ اسٹریٹ کرائمز پر قابو پایا جاسکے،انھوں نے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے سی پی ایل سی اور خاص طور پر احمد چنائے کی کارکردگی کو سراہا،صنعتکاروں نے پولیس افسران سے درخواست کی کہ کورنگی کے صنعتی علاقے میں اسٹریٹ کرائمز اور تجاوزات کے مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور اس ضمن میں ایکش لیا جائے،صنعتکاروں نے کورنگی صنعتی علاقے سے متصل مہران ٹاؤن اور بلال کالونی میں بھی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا،کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر فرخ مظہر کا کہنا تھا کہ کراچی میں غیر ملکی سرمایہ کار آنے سے گھبراتے ہیں جبکہ یہاں سے صنعتوں کی منتقلی کا سلسلہ بھی جاری ہے،انہوں نے پولیس سے کورنگی کے داخلی و خارجی راستوں پو چیک پوسٹ کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔
Load Next Story