جالب کے اہلخانہ کسمپرسی کا شکار وزیراعلیٰ تعزیت کیلیے نہ جاسکے

وزیراعلیٰ پنجاب کا تقریباً ہر عوامی خطاب جالب کے شعر سے شروع ہوتا ہے یا اس پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا تقریباً ہر عوامی خطاب جالب کے شعر سے شروع ہوتا ہے یا اس پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

KARACHI:
کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے ایک خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے اور حبیب جالب کے حوالے سے بھی یہ کہنا بے جا نہ ہو گا ممتاز بیگم نہ ہوتیں تو جالب وہ سب کچھ حاصل نہ کر پاتے جو انھوں نے حاصل کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی جبیب جالب سے بہت متاثر ہیں اور ان کا تقریباً ہر عوامی خطاب جالب کے شعر سے شروع ہوتا ہے یا اس پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ تاہم وہ جالب کی اہلیہ کے انتقال پر ان کے گھر والوں سے تعزیت کیلیے پانچ منٹ تک نہ نکال سکے۔ اگرچہ انھوں نے میڈیا پر تعزیت کا اظہار ضرور کیا۔ حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ جالب نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کوئی عام خاتون نہیں تھیں وہ جالب کی استاد تھیں۔ ان کے بہت سی پنجابی گیت انہی کے لکھے ہوئے یا پھر ان کے تصحیح کردہ تھے۔ وہ پرائمری پاس تھیں لیکن پنجابی شاعری کا بہت ذوق رکھتی تھیں۔ عوامی اور انقلابی شاعر کا گھر اس کے مکینوں کی کسمپرسی اور تنگدستی کی داستان بیان کرتا ہے۔ حبیب جالب نے پسماندگان میں اہلیہ اور آٹھ بچے چھوڑے تھے۔ ایک بیٹی کا چند سال پہلے انتقال ہو گیا۔ چار بیٹیاں اور ایک بیٹا اس گھر میں ساتھ رہتے ہیں جس میں ان کی والدہ ممتاز بیگم نے جان جان آفریں کے سپرد کی۔ بڑا بیٹا ناصر جالب اختلافات کے باعث الگ ہو گیا تھا۔ بڑی بیٹی طاہرہ جالب ڈرائیونگ سکول چلاتی ہے جبکہ چھوٹے بیٹے یاسر نے مرغی کے گوشت والی چھوٹی سی دکان بنا رکھی ہے جہاں سے وہ روزانہ چار سو روپے تک کما لیتا ہے۔




طاہرہ اور یاسر نے مزید کہا کہ ہمیں لگتا ہے جیسے جالب پاکستان کے شاعر نہیں تھے کیونکہ جس صوبے کا وزیراعلیٰ ان کے شعر پڑھنے کا دلدادہ ہو اس صوبے میں کوئی ایک سڑک، لائبریری یا ہسپتال تک اس شاعر کے نام سے منسوب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم وہ نظم ہی نصاب میں شامل کروا دیں جو وہ اکثر اپنے جلسوں میں پڑھتے ہیں۔ ہماری والدہ کی خواہش تھی کہ پنجاب میں کچھ نہ کچھ جالب کے نام سے منسوب ہوتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ طاہرہ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ جالب میوزیم بنائیں اور لوگوں کو بتا سکیں کہ کس طرح ان کی والدہ نے ان کے والد کو متاثر کیا۔ طاہرہ نے بتایا کہ ان کے پاس ان کے والد کی شیروانی، جوتے، عینکیں، اور اس طرح کی اور کافی ساری چیزیں اور ان کی نایاب تصاویر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کے بینظیر بھٹو سے قریبی مراسم تھے اور وہ سابق صدر آصف زرداری کے مشکور ہیں جنہوں نے راجہ ریاض کو ان کے گھر بھیجا جنہوں نے ان کا خصوصی پیغام ہم تک پہنچایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ گھر جس میں وہ رہائش پزیر ہیں چوہدری شجاعت کی کوششوں سے ان کو ملا کیونکہ اس گھر کے حوالے سے ایل ڈی اے کے ساتھ کچھ مسائل تھے۔
Load Next Story