کورونا کی تیسری لہر احتیاط لازم
ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہرکا آغاز ہوچکا ہے جس میں برطانیہ سے آیا وائرس زیادہ نمایاں ہے
کورونا کی وجہ سے اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی کساد بازاری مزید سنگین اور طویل ہو سکتی ہے فوٹو: فائل
ملک بھر میں کورونا وائرس سے گزشتہ روز مزید 45 افراد جاںبحق ، جب کہ 2 ہزار 348 متاثر ہوئے ہیں۔ مجموعی اموات 13 ہزار485 اور مجموعی کیسوں کی تعداد 6 لاکھ 3ہزار201 ہو گئی ہے۔
پنجاب حکومت نے پورے صوبے میں کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات شام چھ بجے بندکرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ صوبے کے 7 سب سے زیادہ کیسز والے شہروں میں لاک ڈاؤن لگا کر عوام کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہرکا آغاز ہوچکا ہے جس میں برطانیہ سے آیا وائرس زیادہ نمایاں ہے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیلتا اور اموات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ سنگین صورتحال ہمارے قومی طرز تغافل کے نتیجے میں وجود میں آرہی ہے۔ سرکاری اور عوامی سطح پر ہم نے بحیثیت قوم جس طرح ایس او پیزکو نظرانداز کرنے کی روش اپنائی، اس نے ہمیں آج یہ دن دکھائے ہیں، ہم خطرے کی لائن عبورکرچکے ہیں۔
پرہجوم عوامی مقامات، اسپتال، سرکاری ونجی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیرکو یکسر نظر اندازکردیا گیا ہے، جب کہ ہمارے قومی وسیاسی رہنما بھی ماسک پہننا اپنے اوپر لازم نہیں سمجھتے، جوشخص ماسک پہنے نظر آئے ہم اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ لاپرواہی اور بے احتیاطی کے نتیجے میں ہمیں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، جوکہ ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا اور ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مزید کئی گنا اضافہ ہوجائے گا ۔
دوسری جانب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے، جب نئے بجٹ میں چھ سے سات سو ارب کے ٹیکس لگائے جائیں گے،70 کے قریب ٹیکس رعایتیںحکومت واپس لینے لگی ہے، ریونیو زیادہ کرنے سے حکومت کوکوئی بہت بڑا فائدہ نہیںہوگا لیکن آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے اسے قبول کرلیاگیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ 2020میں گلوبل اکانومی 3 فیصد تک سکڑ گئی ہے۔ کورونا کی وجہ سے 2020 اور 2021 میں گلوبل جی ڈی پی کو 9ہزار ارب (9 ٹریلین) ڈالرزکا نقصان ہو سکتا ہے۔
کورونا وباء نے جہاں دنیا بھرکی معیشت کو زبردست دھچکا لگایا ہے وہیں تعلیم کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق کورونا کی وجہ سے 900 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے۔ کورونا وائرس کے آتے ہی کئی ممالک نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں بند کردی ہیں۔کورونا وائرس کے خطرے نے پاکستان میں نظامِ تعلیم کو خاصا متاثرکیا ہے، یوں تو اس وبائی بیماری سے پہلے ہی پاکستان میں نظام تعلیم کو رسائی، معیار اور انتظامات میں کافی مشکلات کا سامنا تھا۔
اس وبائی مرض سے پہلے ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کا تخمینہ2 کروڑ 28 لاکھ تھا ،جو ابتدائی یا ثانوی تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں،چونکہ بچے اسکول میں پہنچ نہیں سکتے اس لیے اسکولوں کو بچوں تک تعلیم پہنچانے کے لیے متبادل طریقے ڈھونڈنے ہوں گے تاکہ تعلیمی عمل اور علمی معیار متاثر نہ ہو۔
اس وقت گوگل کلاس روم سے لے کر واٹس ایپ اور فیس بک گروپس تک مختلف طریقہ کار استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ہمیں اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اب ہمیں ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اپنے انداز اور معیارات کو تبدیل کرنا ہوگا، لیکن ایک مشکل یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ابھی تک انٹرنیٹ کی سہولت تمام جگہوں پر بآسانی دستیاب نہیں ہے، کمپویٹرز اور موبائلز بہت زیادہ مہنگے ہوچکے ہیں، جن کا حصول غریب طبقے کے لیے تقریباً ناممکن ہے ۔
گزشتہ سال 2020کے دوران کووڈ۔19کی عالمی وبا کے باعث اکثر ممالک کی معیشتوں کو دباؤ کا سامنا تھا جب کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم اور وبا کے باعث فراہم کی گئی مالی معاونت سے بھی عالمی سطح پر معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے موجودہ عالمی وبا کو انسانی تاریخ کا گریٹ لاک ڈاؤن قرار دیا ہے۔
اس سے عالمی معیشت اور قومی معیشتیں بھی انتہائی سست روی کا شکار ہوئیں۔ عالمی سطح پرکروڑوں افراد بے روزگار ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 90 کروڑ افراد اس وباء کے اثرات کی وجہ سے اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے سروس انڈسٹری اور مینو فیکچرنگ انڈسٹری بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 60 فیصد سروس انڈسٹری یا تو بند ہو چکی ہے یا اس نے اپنی سروسز محدود کردی ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن، رئیل اسٹیٹ، ٹریول اور ٹورازم کے شعبے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ آن لائن سروسز میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے لیکن اس سے سروس انڈسٹری کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ کورونا کے بعد بھی سروس انڈسٹری کی فوری بحالی کے امکانات نہیں کیونکہ صارفین پہلے کی طرح اخراجات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ کورونا کی وجہ سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری بھی بڑے بحران کا شکار ہے۔ امریکا سے یورپ اور ایشیا تک کارخانے یا تو عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں یا انھوں نے طلب نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پیداوار کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک سے پاکستانی بے روزگار ہوکر وطن واپس پہنچ چکے ہیں ، جس سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔
پاکستانیوں کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے کئی لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ افراد اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اس مہلک وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سماجی دوری کو ضروری قرار دیا گیا ہے، لیکن ہم تو قطعی طور پر سماجی دوری پر عمل نہیں کررہے ہیں، ہر جگہ پر انسانوں کا جم غفیر ہے جو ہمیں نظر آرہا ہے، یعنی ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی اور اپنے پیاروں کی موت کے اسباب پیدا کررہے ہیں۔کورونا کوکنٹرول کرنے کے لیے جو لاک ڈاؤن چین میں شروع ہوا تھا، وہ پورے کرہ ارض پر پھیل گیا۔ معاشی وتجارتی تعلقات اور ہرقسم کے روابط محدود ہوکر رہ گئے۔ ڈیجیٹل ذرایع سے کاموں کو ترجیح دی جانے لگی۔ معاشی پہیہ رک جانے کی وجہ سے دنیا کی بہت سی انڈسٹریز تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں۔ صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ سوائے چند کے ہرکاروبار پر بحران آنے لگا۔ کیا یہ حقائق بھی ہماری بند آنکھیں کھولنے کے لیے ناکافی ہیں؟
پاکستان میں وائرس کے تیسری لہر کی اہم وجہ سرحدی بارڈر، ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان انفیکشن کنٹرول سوسائٹی کے جاری اعداد وشمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک میں جاری مختلف تقریبات میں ایس او پیزکی خلاف ورزی جاری ہے، لوگ ہاتھ ملانے اور سماجی دوری برقرار نہیں رکھ رہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اس وقت برطانیہ، جنوبی افریقہ سمیت کیٹگری سی ممالک سے پاکستان آنے والے وہ مسافروں جن میں کوویڈ19 کی علامات پائی گئی تھیں ان مریضوں کے نمونے این آئی ایچ اسلام آباد بھیجے گئے ہیں جب کہ صوبائی محکمہ صحت سندھ نے صوبے بھر سے ضلع اسپتالوں اور صحت کے مراکز سے بستروں کی تعداد بھی طلب کرلی ہے۔ پاکستانی عوام کورونا وائرس سے اتنے پریشان نہیں جتنا کہ ملاقاتیں کم ہونے پر ہیں جب کہ کورونا انفیکشن نے کروڑوں انسانوں کا جینا دوبھرکردیا ہے۔ دنیا بھرکے نوجوان، بوڑھے، بچے اس کے خطرات کے باعث نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔
کورونا کی وجہ سے اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی کساد بازاری مزید سنگین اور طویل ہو سکتی ہے اور اس سے نکلنا اور بھی زیادہ مشکل۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آف انٹرنیشنل فنانس کارمین ایم رین ہارٹ کی رائے یہ ہے کہ کورونا وائرس نے عالمگیریت کے تابوت میں ایک اورکیل ٹھونک دی ہے۔ اقتصادی کساد بازاری مزید گہری اور طویل ہو گی اور 1930 کے عشرے والے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ دنیا کو 1930کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑے عالمی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ییل Yaleیونیورسٹی کے نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات رابرٹ جے شیلر Robert J Shillerکا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے جنگ جیسے حالات پیدا کردیے ہیں، حالات میں تبدیلی کا دروازہ کھل گیا ہے۔887 1 کی امریکن سول وار کے بعد امریکا ایک مختلف ملک بن کرابھرا تھا۔ اس آفت نے پورے ملک کو ایک کردیا۔ 1918 کے اسپینش فلو کے بعد یورپ میں نیشنل ہیلتھ سروس NHS کی بنیاد پڑی۔ عالمی جنگ عظیم دوم کے بعد سوشل ویلفیئر اسٹیٹ اور سوشل سیکیورٹی جیسے اداروں کو تقویت ملی۔1918 کے اسپینش فلوکے بعد بھی دنیا باقی رہی ہے۔
اس نازک اور سنگین صورتحال کا احساس ہمیں بحیثیت پاکستانی قوم کرنا ہے ۔ مصیبتیں، ناگہانی آفات اور وبائیں انسانوں کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔ کوئی ان سے کندن کی طرح بن کے نکلتا ہے، کوئی بس گزارہ کرتا ہے توکوئی مزید مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھرجاتا ہے۔ کورونا وائرس ایک اجتماعی آفت ہے۔ اس آفت سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کے، ہوش و حواس اور عمدہ حکمت عملی استعمال کرکے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔امید ہے کہ اس وبا کے بعد دنیا پہلے سے بہتر مقام بن سکے گی۔ بس ہمارے عوام کو چاہیے کہ تمام احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں، تعمیری اور مثبت سوچ اپنائیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ یہ کام اگر سب مل کرکریں گے تو پوری امید ہے کہ پاکستانی قوم اس مشکل سے جلد نجات پائے گی۔
پنجاب حکومت نے پورے صوبے میں کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات شام چھ بجے بندکرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ صوبے کے 7 سب سے زیادہ کیسز والے شہروں میں لاک ڈاؤن لگا کر عوام کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہرکا آغاز ہوچکا ہے جس میں برطانیہ سے آیا وائرس زیادہ نمایاں ہے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیلتا اور اموات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ سنگین صورتحال ہمارے قومی طرز تغافل کے نتیجے میں وجود میں آرہی ہے۔ سرکاری اور عوامی سطح پر ہم نے بحیثیت قوم جس طرح ایس او پیزکو نظرانداز کرنے کی روش اپنائی، اس نے ہمیں آج یہ دن دکھائے ہیں، ہم خطرے کی لائن عبورکرچکے ہیں۔
پرہجوم عوامی مقامات، اسپتال، سرکاری ونجی دفاتر اور تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیرکو یکسر نظر اندازکردیا گیا ہے، جب کہ ہمارے قومی وسیاسی رہنما بھی ماسک پہننا اپنے اوپر لازم نہیں سمجھتے، جوشخص ماسک پہنے نظر آئے ہم اس کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ لاپرواہی اور بے احتیاطی کے نتیجے میں ہمیں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، جوکہ ملکی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا اور ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مزید کئی گنا اضافہ ہوجائے گا ۔
دوسری جانب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے، جب نئے بجٹ میں چھ سے سات سو ارب کے ٹیکس لگائے جائیں گے،70 کے قریب ٹیکس رعایتیںحکومت واپس لینے لگی ہے، ریونیو زیادہ کرنے سے حکومت کوکوئی بہت بڑا فائدہ نہیںہوگا لیکن آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے اسے قبول کرلیاگیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ 2020میں گلوبل اکانومی 3 فیصد تک سکڑ گئی ہے۔ کورونا کی وجہ سے 2020 اور 2021 میں گلوبل جی ڈی پی کو 9ہزار ارب (9 ٹریلین) ڈالرزکا نقصان ہو سکتا ہے۔
کورونا وباء نے جہاں دنیا بھرکی معیشت کو زبردست دھچکا لگایا ہے وہیں تعلیم کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق کورونا کی وجہ سے 900 ملین بچے اسکول نہیں جا رہے۔ کورونا وائرس کے آتے ہی کئی ممالک نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں بند کردی ہیں۔کورونا وائرس کے خطرے نے پاکستان میں نظامِ تعلیم کو خاصا متاثرکیا ہے، یوں تو اس وبائی بیماری سے پہلے ہی پاکستان میں نظام تعلیم کو رسائی، معیار اور انتظامات میں کافی مشکلات کا سامنا تھا۔
اس وبائی مرض سے پہلے ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کا تخمینہ2 کروڑ 28 لاکھ تھا ،جو ابتدائی یا ثانوی تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں،چونکہ بچے اسکول میں پہنچ نہیں سکتے اس لیے اسکولوں کو بچوں تک تعلیم پہنچانے کے لیے متبادل طریقے ڈھونڈنے ہوں گے تاکہ تعلیمی عمل اور علمی معیار متاثر نہ ہو۔
اس وقت گوگل کلاس روم سے لے کر واٹس ایپ اور فیس بک گروپس تک مختلف طریقہ کار استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ہمیں اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اب ہمیں ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اپنے انداز اور معیارات کو تبدیل کرنا ہوگا، لیکن ایک مشکل یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ابھی تک انٹرنیٹ کی سہولت تمام جگہوں پر بآسانی دستیاب نہیں ہے، کمپویٹرز اور موبائلز بہت زیادہ مہنگے ہوچکے ہیں، جن کا حصول غریب طبقے کے لیے تقریباً ناممکن ہے ۔
گزشتہ سال 2020کے دوران کووڈ۔19کی عالمی وبا کے باعث اکثر ممالک کی معیشتوں کو دباؤ کا سامنا تھا جب کہ قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم اور وبا کے باعث فراہم کی گئی مالی معاونت سے بھی عالمی سطح پر معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے موجودہ عالمی وبا کو انسانی تاریخ کا گریٹ لاک ڈاؤن قرار دیا ہے۔
اس سے عالمی معیشت اور قومی معیشتیں بھی انتہائی سست روی کا شکار ہوئیں۔ عالمی سطح پرکروڑوں افراد بے روزگار ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 90 کروڑ افراد اس وباء کے اثرات کی وجہ سے اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے سروس انڈسٹری اور مینو فیکچرنگ انڈسٹری بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 60 فیصد سروس انڈسٹری یا تو بند ہو چکی ہے یا اس نے اپنی سروسز محدود کردی ہیں۔
ٹرانسپورٹیشن، رئیل اسٹیٹ، ٹریول اور ٹورازم کے شعبے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ آن لائن سروسز میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے لیکن اس سے سروس انڈسٹری کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ کورونا کے بعد بھی سروس انڈسٹری کی فوری بحالی کے امکانات نہیں کیونکہ صارفین پہلے کی طرح اخراجات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ کورونا کی وجہ سے مینوفیکچرنگ انڈسٹری بھی بڑے بحران کا شکار ہے۔ امریکا سے یورپ اور ایشیا تک کارخانے یا تو عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں یا انھوں نے طلب نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پیداوار کم کردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک سے پاکستانی بے روزگار ہوکر وطن واپس پہنچ چکے ہیں ، جس سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ۔
پاکستانیوں کو یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے کئی لاکھ اموات ہو چکی ہیں۔ تقریباً ایک کروڑ افراد اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اس مہلک وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سماجی دوری کو ضروری قرار دیا گیا ہے، لیکن ہم تو قطعی طور پر سماجی دوری پر عمل نہیں کررہے ہیں، ہر جگہ پر انسانوں کا جم غفیر ہے جو ہمیں نظر آرہا ہے، یعنی ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی اور اپنے پیاروں کی موت کے اسباب پیدا کررہے ہیں۔کورونا کوکنٹرول کرنے کے لیے جو لاک ڈاؤن چین میں شروع ہوا تھا، وہ پورے کرہ ارض پر پھیل گیا۔ معاشی وتجارتی تعلقات اور ہرقسم کے روابط محدود ہوکر رہ گئے۔ ڈیجیٹل ذرایع سے کاموں کو ترجیح دی جانے لگی۔ معاشی پہیہ رک جانے کی وجہ سے دنیا کی بہت سی انڈسٹریز تباہی کے دہانے پر پہنچ گئیں۔ صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ سوائے چند کے ہرکاروبار پر بحران آنے لگا۔ کیا یہ حقائق بھی ہماری بند آنکھیں کھولنے کے لیے ناکافی ہیں؟
پاکستان میں وائرس کے تیسری لہر کی اہم وجہ سرحدی بارڈر، ایئرپورٹس اور بندرگاہوں پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ بتائی جا رہی ہے۔ پاکستان انفیکشن کنٹرول سوسائٹی کے جاری اعداد وشمار میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک میں جاری مختلف تقریبات میں ایس او پیزکی خلاف ورزی جاری ہے، لوگ ہاتھ ملانے اور سماجی دوری برقرار نہیں رکھ رہے، جس کی وجہ سے یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اس وقت برطانیہ، جنوبی افریقہ سمیت کیٹگری سی ممالک سے پاکستان آنے والے وہ مسافروں جن میں کوویڈ19 کی علامات پائی گئی تھیں ان مریضوں کے نمونے این آئی ایچ اسلام آباد بھیجے گئے ہیں جب کہ صوبائی محکمہ صحت سندھ نے صوبے بھر سے ضلع اسپتالوں اور صحت کے مراکز سے بستروں کی تعداد بھی طلب کرلی ہے۔ پاکستانی عوام کورونا وائرس سے اتنے پریشان نہیں جتنا کہ ملاقاتیں کم ہونے پر ہیں جب کہ کورونا انفیکشن نے کروڑوں انسانوں کا جینا دوبھرکردیا ہے۔ دنیا بھرکے نوجوان، بوڑھے، بچے اس کے خطرات کے باعث نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔
کورونا کی وجہ سے اگر حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی کساد بازاری مزید سنگین اور طویل ہو سکتی ہے اور اس سے نکلنا اور بھی زیادہ مشکل۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر آف انٹرنیشنل فنانس کارمین ایم رین ہارٹ کی رائے یہ ہے کہ کورونا وائرس نے عالمگیریت کے تابوت میں ایک اورکیل ٹھونک دی ہے۔ اقتصادی کساد بازاری مزید گہری اور طویل ہو گی اور 1930 کے عشرے والے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ دنیا کو 1930کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑے عالمی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ییل Yaleیونیورسٹی کے نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات رابرٹ جے شیلر Robert J Shillerکا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے جنگ جیسے حالات پیدا کردیے ہیں، حالات میں تبدیلی کا دروازہ کھل گیا ہے۔887 1 کی امریکن سول وار کے بعد امریکا ایک مختلف ملک بن کرابھرا تھا۔ اس آفت نے پورے ملک کو ایک کردیا۔ 1918 کے اسپینش فلو کے بعد یورپ میں نیشنل ہیلتھ سروس NHS کی بنیاد پڑی۔ عالمی جنگ عظیم دوم کے بعد سوشل ویلفیئر اسٹیٹ اور سوشل سیکیورٹی جیسے اداروں کو تقویت ملی۔1918 کے اسپینش فلوکے بعد بھی دنیا باقی رہی ہے۔
اس نازک اور سنگین صورتحال کا احساس ہمیں بحیثیت پاکستانی قوم کرنا ہے ۔ مصیبتیں، ناگہانی آفات اور وبائیں انسانوں کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔ کوئی ان سے کندن کی طرح بن کے نکلتا ہے، کوئی بس گزارہ کرتا ہے توکوئی مزید مصیبتوں اور پریشانیوں میں گھرجاتا ہے۔ کورونا وائرس ایک اجتماعی آفت ہے۔ اس آفت سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کے، ہوش و حواس اور عمدہ حکمت عملی استعمال کرکے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔امید ہے کہ اس وبا کے بعد دنیا پہلے سے بہتر مقام بن سکے گی۔ بس ہمارے عوام کو چاہیے کہ تمام احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں، تعمیری اور مثبت سوچ اپنائیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ یہ کام اگر سب مل کرکریں گے تو پوری امید ہے کہ پاکستانی قوم اس مشکل سے جلد نجات پائے گی۔