سندھ تحفظ پاکستان آرڈیننس پر عملدرآمد کیلیے تیار بعض قانونی ایشوز حل کرنیکی نشاندہی
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس،کراچی وحیدرآباد سمیت صوبے بھرکی جیلوں کی سیکیورٹی موثر کرنے کافیصلہ
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی
وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی زیرصدارت تحفظ پاکستان آرڈیننس سے متعلق اجلاس میں حکومت سندھ نے تحفظ پاکستان آرڈیننس (پی پی او) پر عملدرآمدکیلیے وفاقی حکومت سے مکمل تعاون پر رضامندی ظاہرکردی اورتحفظ پاکستان آرڈیننس میں بعض قانونی ایشوز کے حل کرنے کی طرف نشاندہی کی ہے کیونکہ پراسیکیوشن صوبائی حکومت کی بنیادی ذمے داری ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علیشاہ کی زیر صدارت منگل کووزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں کیاگیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سید ممتازعلیشاہ،آئی جی سندھ پولیس شاہدندیم بلوچ،سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت،سیکریٹری قانون میرمحمدشیخ ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالدجاوید،آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن، پراسیکیوٹرجنرل ودیگرافسران نے شرکت کی۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سیدممتاز علی شاہ نے اجلاس میں بتایاکہ وفاقی حکومت تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت سنگین مقدمے چلانے کیلیے حکومت سندھ کے تعاون سے صوبہ سندھ میں اسپیشل کورٹس کاقیام چاہتی ہے اوراس ضمن میں وفاقی حکومت نے کورٹس کی تعداد،مقام، گواہوں اورپراسیکیوشن عملداروں اورججز کی مربوط اورجامع سیکیورٹی کی تفصیلات دینے سے متعلق درخواست دی ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈووکیٹ جنرل کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے قانونی ایشوزکے حل کی شرط پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے موبائل فون ودیگرکمیونیکیشن ذرائع کے ذریعے قیدیوں کی جیل سے باہرجرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے واقعات کاسخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو فوری طورسزایافتہ51خطرناک قیدیوں کو شہرسے باہرمنتقل کرنے اورجرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث دیگر ایسے قیدی جن کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں انکوکراچی سے باہرجیلوں میںان کے مقدمات کے ساتھ منتقل کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ نے اجلاس میں بتایا کہ500ایسے قیدیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات کو ایک مہینے کے اندرسینٹرل جیل اورلانڈھی جیل میں جیمرز کی تنصیب کویقینی بنانے کے احکامات دیے جن کے لیے88ملین روپے پہلے ہی جاری کردیے گئے ہیں۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علیشاہ کی زیر صدارت منگل کووزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں کیاگیا۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سید ممتازعلیشاہ،آئی جی سندھ پولیس شاہدندیم بلوچ،سیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت،سیکریٹری قانون میرمحمدشیخ ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالدجاوید،آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن، پراسیکیوٹرجنرل ودیگرافسران نے شرکت کی۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سیدممتاز علی شاہ نے اجلاس میں بتایاکہ وفاقی حکومت تحفظ پاکستان آرڈیننس کے تحت سنگین مقدمے چلانے کیلیے حکومت سندھ کے تعاون سے صوبہ سندھ میں اسپیشل کورٹس کاقیام چاہتی ہے اوراس ضمن میں وفاقی حکومت نے کورٹس کی تعداد،مقام، گواہوں اورپراسیکیوشن عملداروں اورججز کی مربوط اورجامع سیکیورٹی کی تفصیلات دینے سے متعلق درخواست دی ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈووکیٹ جنرل کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے قانونی ایشوزکے حل کی شرط پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے موبائل فون ودیگرکمیونیکیشن ذرائع کے ذریعے قیدیوں کی جیل سے باہرجرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے واقعات کاسخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ کو فوری طورسزایافتہ51خطرناک قیدیوں کو شہرسے باہرمنتقل کرنے اورجرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث دیگر ایسے قیدی جن کے کیس عدالتوں میں چل رہے ہیں انکوکراچی سے باہرجیلوں میںان کے مقدمات کے ساتھ منتقل کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ایڈیشنل چیف سکریٹری داخلہ نے اجلاس میں بتایا کہ500ایسے قیدیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کیخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی جیل خانہ جات کو ایک مہینے کے اندرسینٹرل جیل اورلانڈھی جیل میں جیمرز کی تنصیب کویقینی بنانے کے احکامات دیے جن کے لیے88ملین روپے پہلے ہی جاری کردیے گئے ہیں۔