کرپشن پر 14 سال قید ہوگی پختونخوا اسمبلی میں احتساب بل منظور وزرا اور ممبران کی مراعات میں اضافے کا آرڈی
سینئر وزیر سراج الحق نے سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے ہمراہ بل 2014 ایوان میں پیش کیا
احتساب عدالتوں کیخلاف اپیل پشاور ہائیکورٹ میں 20روز کے اندر کی جاسکے گی۔ فوٹو : اے پی پی /فائل
SHIKARPUR:
خیبرپختونخوااسمبلی نے صوبہ میں آزاد احتساب کمیشن کے قیام کے بل کی منظوری دیدی ہے جبکہ وزراء اوراراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلیے آرڈیننس پیش کردیاگیا ہے۔
خیبرپختونخو ااسمبلی میں منگل کے روز سینئرصوبائی وزیر سراج الحق نے سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے ہمراہ احتساب کمیشن بل 2014 ء کو ایوان میں منظوری کیلئے پیش کیا جس کی متفقہ طور پر منظوری دیدی گئی۔مذکورہ بل کے ایکٹ کے بننے کے ایک ماہ کے اندر احتساب عدالتیں بنائی جائیں گی جن کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کریگی۔بل کے تحت کرپشن کے الزامات کے تحت کسی بھی شخص کو 14 سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی اور جرمانہ کی عدم ادائیگی پر مذکورہ شخص کی اراضی یا جائیداد فروخت کرتے ہوئے اسکی وصولی کی جا سکے گی ،احتساب عدالتیں توہین عدالت پر کسی بھی شخص کو چھ ماہ تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا سنا سکے گی جبکہ کسی بھی ایسے شخص جسے سزا سنادی جائے وہ کوئی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکے گا ۔جب کسی بھی عدالت میں مقدمات کی تعداد 50 سے زائد ہوجائے گی تو حکومت نئی عدالت کا قیام عمل میں لائیگی۔
احتساب عدالتوں کیخلاف اپیل پشاور ہائیکورٹ میں بیس دنوں کے اندر کی جاسکے گی ۔اسمبلی میں صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے صوبائی وزراء کے ہائوس رینٹ کو 40 ہزار سے بڑھا کر 55 ہزار روپے کرنے سے متعلق آرڈیننس بھی پیش کیا جس پراپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر ہنگامہ شروع کردیاجس پر وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے تجویز دی کہ حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو دیگر تینوں اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ دے اس کی روشنی میں ارکان کی تنخواہیں اور مراعات بھی دیگر اسمبلیوں کے ارکان کے برابر کردی جائیں گی،ایوان نے اس تجویز کی منظوری دے دی ۔سینئر وزیر سراج الحق نے صوبہ میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس کے قیام سے متعلق آرڈیننس بھی منظوری کے لیے پیش کیا جو صوبہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کریگا۔
خیبرپختونخوااسمبلی نے صوبہ میں آزاد احتساب کمیشن کے قیام کے بل کی منظوری دیدی ہے جبکہ وزراء اوراراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیلیے آرڈیننس پیش کردیاگیا ہے۔
خیبرپختونخو ااسمبلی میں منگل کے روز سینئرصوبائی وزیر سراج الحق نے سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ کے ہمراہ احتساب کمیشن بل 2014 ء کو ایوان میں منظوری کیلئے پیش کیا جس کی متفقہ طور پر منظوری دیدی گئی۔مذکورہ بل کے ایکٹ کے بننے کے ایک ماہ کے اندر احتساب عدالتیں بنائی جائیں گی جن کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کریگی۔بل کے تحت کرپشن کے الزامات کے تحت کسی بھی شخص کو 14 سال تک قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی اور جرمانہ کی عدم ادائیگی پر مذکورہ شخص کی اراضی یا جائیداد فروخت کرتے ہوئے اسکی وصولی کی جا سکے گی ،احتساب عدالتیں توہین عدالت پر کسی بھی شخص کو چھ ماہ تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا سنا سکے گی جبکہ کسی بھی ایسے شخص جسے سزا سنادی جائے وہ کوئی بھی عوامی عہدہ نہیں رکھ سکے گا ۔جب کسی بھی عدالت میں مقدمات کی تعداد 50 سے زائد ہوجائے گی تو حکومت نئی عدالت کا قیام عمل میں لائیگی۔
احتساب عدالتوں کیخلاف اپیل پشاور ہائیکورٹ میں بیس دنوں کے اندر کی جاسکے گی ۔اسمبلی میں صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے صوبائی وزراء کے ہائوس رینٹ کو 40 ہزار سے بڑھا کر 55 ہزار روپے کرنے سے متعلق آرڈیننس بھی پیش کیا جس پراپوزیشن ارکان نے کھڑے ہوکر ہنگامہ شروع کردیاجس پر وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے تجویز دی کہ حکومت اور اپوزیشن ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو دیگر تینوں اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رپورٹ دے اس کی روشنی میں ارکان کی تنخواہیں اور مراعات بھی دیگر اسمبلیوں کے ارکان کے برابر کردی جائیں گی،ایوان نے اس تجویز کی منظوری دے دی ۔سینئر وزیر سراج الحق نے صوبہ میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس کے قیام سے متعلق آرڈیننس بھی منظوری کے لیے پیش کیا جو صوبہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کریگا۔