طالبان سے مذاکرات کی کوششیں بکھری ہوئی ہیں فضل الرحمن
وزیرستان میں آپریشن بدقسمتی ہوگی، مشرف کے بیرون ملک جانے کا تعین کچھ اورلوگ کرینگے
آئین توڑنے کا مقدمہ 12 اکتوبر سے شروع کیا جاسکتا ہے، سربراہ جے یوآئی۔ فوٹو: فائل
جے یوآئی ف کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہاہے کہ 18ویںترمیم کے بعد 17ویں ترمیم مکمل ختم ہوچکی اس لیے 12 اکتوبر1999 سے آئین توڑنے کامقدمہ شروع کیا جاسکتا ہے۔
طالبان سے مذاکرات کی کوششیں بکھری ہوئی ہیں اگرمارچ میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ہواتویہ بدقسمتی ہوگی ایک طرف امریکا نیٹوسپلائی کی بندش پرپاکستان کی امدادبندکرنے کی دھمکی دیتا ہے تودوسری طرف خیبرپختونخواکونیٹوسپلائی بندکرنے پر ڈالروں کی بارش کردی جاتی ہے۔ان خیالات کااظہارانھوں نے میڈیاسے گفتگو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ پہلے کراچی کی بات ہوتی تھی اب پشاور تک پورانظام زندگی،کاروبار اسکا شکار ہوئے ہیں،پرویزمشرف کامعاملہ عدالت نے طے کرنا ہے،اس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیںتاہم 3 نومبر کا اقدام جزوی اقدام تھاجس میں پارلیمنٹ،نظام،وزیراعظم اور سوائے چندشقوں کے آئین موجود تھا جبکہ 12 اکتوبر کو جمہوریت اور نظام و آئین کی بساط لپیٹ دی گئی تھی،مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ہم دنیاکے ساتھ تصادم نہیں چاہتے لیکن اپنی خودمختاری اور آزادی کو برقراررکھناچاہتے ہیں اور اس کیلیے سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جنرل مشرف کے معاملے پرمیڈیا ایک حصارمیں چلاگیاجس پر افسوس ہے اس حصار سے نہ ہی یہ معاملہ ہم نے طے کرناہے یہ معاملہ عدلیہ طے کرے گی، صوبے میں حکومت کہیں نظرنہیں آ رہی اورصوبہ این جی اوز کے سرپر چل رہاہے،نیٹو سپلائی روکنے کااقدام ہم نے بھی اٹھایا تھا لیکن اب امریکادھمکی دے رہاہے کہ امداد روک دینگے لیکن جو سپلائی روک رہاہے اسے لاکھوں ڈالراور یوروکی امداددی جارہی ہے اوروفاق کی حکومت کوامدادروکنے کی بات ہوتی ہے اس سازش کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔آئی این پی کے مطابق فضل الرحمن نے کہا کہ ملک اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ٹکراو کامتحمل نہیں ہو سکتا،پرویزمشرف کی بیماری کاتعین ڈاکٹر جبکہ بیرون ملک جانے کا تعین کچھ اور لوگ کرینگے۔
طالبان سے مذاکرات کی کوششیں بکھری ہوئی ہیں اگرمارچ میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ہواتویہ بدقسمتی ہوگی ایک طرف امریکا نیٹوسپلائی کی بندش پرپاکستان کی امدادبندکرنے کی دھمکی دیتا ہے تودوسری طرف خیبرپختونخواکونیٹوسپلائی بندکرنے پر ڈالروں کی بارش کردی جاتی ہے۔ان خیالات کااظہارانھوں نے میڈیاسے گفتگو میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ پہلے کراچی کی بات ہوتی تھی اب پشاور تک پورانظام زندگی،کاروبار اسکا شکار ہوئے ہیں،پرویزمشرف کامعاملہ عدالت نے طے کرنا ہے،اس میں مجھے کوئی دلچسپی نہیںتاہم 3 نومبر کا اقدام جزوی اقدام تھاجس میں پارلیمنٹ،نظام،وزیراعظم اور سوائے چندشقوں کے آئین موجود تھا جبکہ 12 اکتوبر کو جمہوریت اور نظام و آئین کی بساط لپیٹ دی گئی تھی،مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ہم دنیاکے ساتھ تصادم نہیں چاہتے لیکن اپنی خودمختاری اور آزادی کو برقراررکھناچاہتے ہیں اور اس کیلیے سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جنرل مشرف کے معاملے پرمیڈیا ایک حصارمیں چلاگیاجس پر افسوس ہے اس حصار سے نہ ہی یہ معاملہ ہم نے طے کرناہے یہ معاملہ عدلیہ طے کرے گی، صوبے میں حکومت کہیں نظرنہیں آ رہی اورصوبہ این جی اوز کے سرپر چل رہاہے،نیٹو سپلائی روکنے کااقدام ہم نے بھی اٹھایا تھا لیکن اب امریکادھمکی دے رہاہے کہ امداد روک دینگے لیکن جو سپلائی روک رہاہے اسے لاکھوں ڈالراور یوروکی امداددی جارہی ہے اوروفاق کی حکومت کوامدادروکنے کی بات ہوتی ہے اس سازش کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔آئی این پی کے مطابق فضل الرحمن نے کہا کہ ملک اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ٹکراو کامتحمل نہیں ہو سکتا،پرویزمشرف کی بیماری کاتعین ڈاکٹر جبکہ بیرون ملک جانے کا تعین کچھ اور لوگ کرینگے۔