کورونا سے منسلک المیے
کورونا وائرس سے مجموعی اموات 13 ہزار 518 اور مصدقہ متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار 825 ہو گئی ہے۔
کورونا وائرس سے مجموعی اموات 13 ہزار 518 اور مصدقہ متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار 825 ہو گئی ہے۔ فوٹو: فائل
ملک میں کورونا وبا کی تیسری لہر نے شدت اختیارکرلی ہے۔ ایک ہی دن میں کورونا وائرس کے باعث مزید 33 افراد جان کی بازی ہارگئے جب کہ 2 ہزار 624 کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
کورونا وائرس سے مجموعی اموات 13 ہزار 518 اور مصدقہ متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار 825 ہو گئی ہے۔5لاکھ 70 ہزار 763 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت فعال کیسز 21ہزار 544ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے اعداد وشمار کے مطابق پنجاب میں1لاکھ85 ہزار468 اور سندھ میں 2لاکھ61 ہزار410 مریض ہیں۔
بلوچستان میں19 ہزار 220، اسلام آباد میں47 ہزار 710، خیبر پختونخوا میں76ہزار 104، آزاد کشمیر میں10 ہزار 952 ، گلگت بلتستان میں 4961 مریض ہیں۔ ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرکے مطابق پنجاب میں کورونا کے ریکارڈ 1653نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں 973، فیصل آباد96 ، گوجرانوالہ 81 اور سیالکوٹ میں 76کیسز رپورٹ ہوئے۔ کورونا سے مزید21 ہلاکتیں، کل اموات 5752 ہوچکی ہیں۔
عالمی کورونا صورتحال کا منظر نامہ عوامی اضطراب کی بھی نشاندہی کررہا ہے، کورونا کے خلاف مزاحمت اور اس سے نمٹنے کی نفسیاتی حد بھی مختلف ممالک میں عوامی پیمانہ صبر سے متصادم بتائی جاتی ہے، برازیل میں عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق حکومتی پابندیوں، بھوک اور بیروزگاری سے تنگ آکر ہنگامہ آرائی پر مجبور ہوگئے۔ اس بے چینی اور اشتعال کا سبب بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور غربت بتائی گئی۔
ملک میں بھی کورونا کی غیر معمولی لہر سے معاشی ہیجان میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی، غربت، بیروزگاری اور معاشی مصائب کے شکار عوام کو کورونا سے نمٹنے میں شدید مسائل کا سامنا ہے، پنجاب اور دیگر شہروں کے کاروباری طبقہ اور تاجر تنظیموں نے بھی لاک ڈاؤن، اسمارٹ لاک ڈاؤن، بھاری بھرکم جرمانوں، قید، سزاؤں ا ور دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کو معاشی قتل قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ روزکورونا کے5 مریض انتقال کر گئے۔232 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ اموات 4458 اور متاثرین 2 لاکھ 61410 ہو چکے ہیں۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق ایک ہفتے میں مزید 94 متاثرین کے ساتھ وبا کا شکار ہونے والے افسروں اور اہلکاروں کی تعداد چھ ہزار 250 ہوگئی ہے۔
وبا کی وجہ سے قومی اسمبلی کی تمام سرگرمیاں جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے دفاتر کو دو دن 16 مارچ تک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ ، پبلک اکاؤنٹس اور خصوصی کمیٹیوں کے ہونے والے اجلاس منسوخ کردیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخلہ کے لیے ماسک کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کورونا کے خدشہ کے سبب پارلیمانی کیلنڈر کے مطابق قومی اسمبلی کا 19مارچ سے شروع ہونے والا اجلاس آگے جاسکتا ہے۔ دوسری جانب اسمارٹ لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے حکومتی فیصلوں کو تاجروں نے ماننے سے انکارکردیا۔
لاہور کے علاقے گلبرگ میں ریسٹورنٹس، ہوٹل مالکان اور ملازمین نے احتجاج کیا۔ مظاہرین مین بلیووارڈ سے لبرٹی گول چکر کی جانب مارچ کرتے پہنچ گئے۔ چیئرمین پاکستان ریسٹورنٹ کمیونٹی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم اسلام آباد کا رخ کریں گے، ہوٹلوں میں آؤٹ ڈور سروسز بحال کی جائیں۔ ایک تو چھ بجے کام بند کرنے کا کہا جا رہا ہے اور آؤٹ ڈور بھی بندکرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ریسٹورنٹ بند ہونے سے ہم بیروزگار ہو جائیں گے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں آٹھ مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ مارکیٹوں کے اوقات کار رات دس بجے سے کم کر کے8 یا 9 بجے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بارے میں باہمی مشاورت شروع کردی گئی ہے۔
کورونا کیسوں میں اضافے کی وجہ سے کوٹلی آزاد کشمیر میں 15 مارچ سے 28 مارچ تک مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ اجتماعات پر پابندی، تعلیمی ادارے، اندرون اور بیرون ضلع تمام ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔ ایک بیان میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 60 سال اور زائد عمر افراد سے گزارش ہے کہ ویکسین کے لیے رجسٹریشن کرائیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 11کروڑ 97 لاکھ،55 ہزار449 ہو گئی، اموات26لاکھ،51 ہزار، 442ہوگئی ہیں۔ ورلڈ میٹر کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 6کروڑ، 78لاکھ،14ہزار72 مریض صحت یاب بھی ہوگئے ہیں۔
امریکا 2کروڑ، 93لاکھ، 99ہزار مصدقہ کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ برازیل1کروڑ، 14لاکھ، 39ہزار کیسز کے ساتھ دوسرے اور بھارت1کروڑ،13لاکھ، 33ہزار کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے حج2021 کے لیے پاکستان کو حج کا معمول کا کوٹہ ملنے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں اور قوی امکان یہ ہے کہ اس سال بھی محدود حج کرایا جا ئے گا۔
حج آپریشن کے لیے سعودی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان ہر سال دسمبر میں حج ایگریمنٹ پر دستخط کیے جاتے ہیں لیکن مارچ کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک حج ایگریمنٹ نہیں ہو سکا، وقت گزرنے کے ساتھ حج کوٹہ کے چانسز ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ سعودی حکومت نے ابھی تک با ضابطہ طور پر حج کوٹہ دینے سے انکار نہیں کیا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے چانسز ختم ہوتے جا رہے ہیں، حج 2020میں بھی سعودی حکومت کی پالیسی یہی تھی کہ انکار نہیں کیا اورکوٹہ دیا بھی نہیں۔ ابھی تک سعودی حکومت نے اپنی حج پالیسی کا ہی اعلان نہیں کیا۔
کورونا وباء کے ساتھ مہنگائی بھی ایک اضافی اذیت بن چکی ہے، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق کراچی میں چینی سب سے مہنگی ہوگئی ہے اور اس کی قیمت 105 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ ملک کے 6 شہروں میں فی کلو چینی 100 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں چینی 105 روپے، کوئٹہ، بہاولپور، سیالکوٹ، ملتان اور پشاور میں 100 روپے کلو فروخت کی جارہی ہے، حیدرآباد میں 98 سے 100 روپے اور فیصل آباد میں 98 روپے کلو مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ خضدار97، سرگودھا 96، سکھر 98، لاڑکانہ95 اور بنوں میں چینی 95 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 98 روپے 50پیسے پر پہنچ گئی ہے۔ مرغی کے گوشت کی قیمت پانچ سو روپے ہوگئی ہے، سوال یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ قریب آرہا ہے، کورونا کے باعث شہریوں کے اعصاب مضمحل ہورہے ہیں، غریب، بیروزگار اور کم آمدنی والے مہنگائی کے خوف سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ان کی داد رسی اور ریلیف کی ذمے داری جن وزارتوں اور محکموں کی ہے ان سے داد رسی کی عوام کو کوئی توقع نہیں، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6روپے تک اضافے کی سمری اوگرا نے ارسال کردی، ارباب اختیار ادراک کریں کہ عوام مہنگائی کا بوجھ کیسے برداشت کر پائیں گے۔
اوگرا کی جانب سے ارسال کی گئی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور لائٹ ڈیزل میں 6، 6 روپے فی لیٹر جب کہ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ساڑھے 4 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت و منظوری کے بعد وزارت خزانہ کرے گی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کورونا لہر میں شدت کا ایک سبب کورونا وبا سے آل آؤٹ نمٹنے کے عوامی بے اعتباری کا بھی ہے۔ کاروباری اور تجارتی حلقے میڈیا پر علی الاعلان مہنگائی پر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، خواتین، بزرگ افراد اور نوجوان کورونا کی حقیقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں، وہ کورونا کی اچانک واپسی کو بھی سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہیں، وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ذمے دار حکام صرف فائلوں کا پیٹ بھرتے اور رپورٹیں جاری کرتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماسک اور صابن سے ہاتھ دھونے کی خوب تشہیر تو ہوتی ہے مگر وزارت صحت ملک کے غریب علاقوں میں ماسک اور صابن کی عوام تک مفت سپلائی کو یقینی بنانے میں سرگرم نہیں ہے، مارکیٹوں میں عوام کو ماسک سے بیزار بتانے والے پولیس اہلکار خود ماسک لگائے ہوئے نظر نہیں آتے، مارکیٹ میں بیشتر لوگ پابندیوں سے آزاد ہوکر خرید و فروخت کرتے ہیں، کہیں بھی مچھر اسپرے نظر نہیں آتا، کچرے کو ٹھکانے لگانے میں انتظامیہ کی اجتماعی ناکامی اب کسی تعارف کی محتاج نہیں، پنجاب میں کچرے کے انبار لگے ہیں، اور سیاسی پولرائزیشن اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اس سے قبل کورونا لہر پر پابندیوں کے حوالے سے غربت زدہ طبقات کی مالی امداد اور معاشی وسائل کی فراہمی کے لیے متعدد ٹاسک فارس اور ٹائیگر فورس کو فعال بنانے کے دعوے کیے گئے، وفاقی اور صوبائی سطح پر راشن کی رضاکارانہ فراہمی اور عوام کے روزگار کے تحفظ و تسلسل پر اقدامات جمود کے شکار ہوگئے ہیں، کچھ روز قبل اسٹیٹ بینک نے پنشن اسکیم کے بایو میٹرک نظام کی سال میں دو بار یعنی مارچ اور ستمبر میں کرانے کو لازمی قرار دیا، تاہم اب اس عمل کو موخر کردیا گیا ہے، اس طرح بے شمار معاشی، اقتصادی اور انتظامی اقدامات نامعلوم وجوہ کے باعث ملتوی کیے جاچکے ہیں، کسی کمیشن، کمیٹی ٹاسک فورس اور ٹائیگر فورس کی افادیت اور مقصدیت کا فائدہ غریب عوام کو نہیں پہنچا، یہی ایک المیہ ہے۔
کورونا وائرس سے مجموعی اموات 13 ہزار 518 اور مصدقہ متاثرین کی تعداد 6 لاکھ 5 ہزار 825 ہو گئی ہے۔5لاکھ 70 ہزار 763 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت فعال کیسز 21ہزار 544ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے اعداد وشمار کے مطابق پنجاب میں1لاکھ85 ہزار468 اور سندھ میں 2لاکھ61 ہزار410 مریض ہیں۔
بلوچستان میں19 ہزار 220، اسلام آباد میں47 ہزار 710، خیبر پختونخوا میں76ہزار 104، آزاد کشمیر میں10 ہزار 952 ، گلگت بلتستان میں 4961 مریض ہیں۔ ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئرکے مطابق پنجاب میں کورونا کے ریکارڈ 1653نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں 973، فیصل آباد96 ، گوجرانوالہ 81 اور سیالکوٹ میں 76کیسز رپورٹ ہوئے۔ کورونا سے مزید21 ہلاکتیں، کل اموات 5752 ہوچکی ہیں۔
عالمی کورونا صورتحال کا منظر نامہ عوامی اضطراب کی بھی نشاندہی کررہا ہے، کورونا کے خلاف مزاحمت اور اس سے نمٹنے کی نفسیاتی حد بھی مختلف ممالک میں عوامی پیمانہ صبر سے متصادم بتائی جاتی ہے، برازیل میں عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق حکومتی پابندیوں، بھوک اور بیروزگاری سے تنگ آکر ہنگامہ آرائی پر مجبور ہوگئے۔ اس بے چینی اور اشتعال کا سبب بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور غربت بتائی گئی۔
ملک میں بھی کورونا کی غیر معمولی لہر سے معاشی ہیجان میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی، غربت، بیروزگاری اور معاشی مصائب کے شکار عوام کو کورونا سے نمٹنے میں شدید مسائل کا سامنا ہے، پنجاب اور دیگر شہروں کے کاروباری طبقہ اور تاجر تنظیموں نے بھی لاک ڈاؤن، اسمارٹ لاک ڈاؤن، بھاری بھرکم جرمانوں، قید، سزاؤں ا ور دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کو معاشی قتل قرار دیا ہے۔
ایک بیان میں وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ روزکورونا کے5 مریض انتقال کر گئے۔232 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ اموات 4458 اور متاثرین 2 لاکھ 61410 ہو چکے ہیں۔ ترجمان سندھ پولیس کے مطابق ایک ہفتے میں مزید 94 متاثرین کے ساتھ وبا کا شکار ہونے والے افسروں اور اہلکاروں کی تعداد چھ ہزار 250 ہوگئی ہے۔
وبا کی وجہ سے قومی اسمبلی کی تمام سرگرمیاں جزوی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے دفاتر کو دو دن 16 مارچ تک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ ، پبلک اکاؤنٹس اور خصوصی کمیٹیوں کے ہونے والے اجلاس منسوخ کردیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخلہ کے لیے ماسک کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کورونا کے خدشہ کے سبب پارلیمانی کیلنڈر کے مطابق قومی اسمبلی کا 19مارچ سے شروع ہونے والا اجلاس آگے جاسکتا ہے۔ دوسری جانب اسمارٹ لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے حکومتی فیصلوں کو تاجروں نے ماننے سے انکارکردیا۔
لاہور کے علاقے گلبرگ میں ریسٹورنٹس، ہوٹل مالکان اور ملازمین نے احتجاج کیا۔ مظاہرین مین بلیووارڈ سے لبرٹی گول چکر کی جانب مارچ کرتے پہنچ گئے۔ چیئرمین پاکستان ریسٹورنٹ کمیونٹی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم اسلام آباد کا رخ کریں گے، ہوٹلوں میں آؤٹ ڈور سروسز بحال کی جائیں۔ ایک تو چھ بجے کام بند کرنے کا کہا جا رہا ہے اور آؤٹ ڈور بھی بندکرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ریسٹورنٹ بند ہونے سے ہم بیروزگار ہو جائیں گے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں آٹھ مقامات پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ مارکیٹوں کے اوقات کار رات دس بجے سے کم کر کے8 یا 9 بجے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بارے میں باہمی مشاورت شروع کردی گئی ہے۔
کورونا کیسوں میں اضافے کی وجہ سے کوٹلی آزاد کشمیر میں 15 مارچ سے 28 مارچ تک مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ اجتماعات پر پابندی، تعلیمی ادارے، اندرون اور بیرون ضلع تمام ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔ ایک بیان میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ 60 سال اور زائد عمر افراد سے گزارش ہے کہ ویکسین کے لیے رجسٹریشن کرائیں۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 11کروڑ 97 لاکھ،55 ہزار449 ہو گئی، اموات26لاکھ،51 ہزار، 442ہوگئی ہیں۔ ورلڈ میٹر کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 6کروڑ، 78لاکھ،14ہزار72 مریض صحت یاب بھی ہوگئے ہیں۔
امریکا 2کروڑ، 93لاکھ، 99ہزار مصدقہ کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ برازیل1کروڑ، 14لاکھ، 39ہزار کیسز کے ساتھ دوسرے اور بھارت1کروڑ،13لاکھ، 33ہزار کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے حج2021 کے لیے پاکستان کو حج کا معمول کا کوٹہ ملنے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں اور قوی امکان یہ ہے کہ اس سال بھی محدود حج کرایا جا ئے گا۔
حج آپریشن کے لیے سعودی حکومت اور پاکستان کی حکومت کے درمیان ہر سال دسمبر میں حج ایگریمنٹ پر دستخط کیے جاتے ہیں لیکن مارچ کے دو ہفتے گزرنے کے باوجود ابھی تک حج ایگریمنٹ نہیں ہو سکا، وقت گزرنے کے ساتھ حج کوٹہ کے چانسز ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ سعودی حکومت نے ابھی تک با ضابطہ طور پر حج کوٹہ دینے سے انکار نہیں کیا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے چانسز ختم ہوتے جا رہے ہیں، حج 2020میں بھی سعودی حکومت کی پالیسی یہی تھی کہ انکار نہیں کیا اورکوٹہ دیا بھی نہیں۔ ابھی تک سعودی حکومت نے اپنی حج پالیسی کا ہی اعلان نہیں کیا۔
کورونا وباء کے ساتھ مہنگائی بھی ایک اضافی اذیت بن چکی ہے، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق کراچی میں چینی سب سے مہنگی ہوگئی ہے اور اس کی قیمت 105 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ ملک کے 6 شہروں میں فی کلو چینی 100 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں چینی 105 روپے، کوئٹہ، بہاولپور، سیالکوٹ، ملتان اور پشاور میں 100 روپے کلو فروخت کی جارہی ہے، حیدرآباد میں 98 سے 100 روپے اور فیصل آباد میں 98 روپے کلو مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ خضدار97، سرگودھا 96، سکھر 98، لاڑکانہ95 اور بنوں میں چینی 95 روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 98 روپے 50پیسے پر پہنچ گئی ہے۔ مرغی کے گوشت کی قیمت پانچ سو روپے ہوگئی ہے، سوال یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ قریب آرہا ہے، کورونا کے باعث شہریوں کے اعصاب مضمحل ہورہے ہیں، غریب، بیروزگار اور کم آمدنی والے مہنگائی کے خوف سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، ان کی داد رسی اور ریلیف کی ذمے داری جن وزارتوں اور محکموں کی ہے ان سے داد رسی کی عوام کو کوئی توقع نہیں، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6روپے تک اضافے کی سمری اوگرا نے ارسال کردی، ارباب اختیار ادراک کریں کہ عوام مہنگائی کا بوجھ کیسے برداشت کر پائیں گے۔
اوگرا کی جانب سے ارسال کی گئی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور لائٹ ڈیزل میں 6، 6 روپے فی لیٹر جب کہ مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ساڑھے 4 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاہم پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت و منظوری کے بعد وزارت خزانہ کرے گی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کورونا لہر میں شدت کا ایک سبب کورونا وبا سے آل آؤٹ نمٹنے کے عوامی بے اعتباری کا بھی ہے۔ کاروباری اور تجارتی حلقے میڈیا پر علی الاعلان مہنگائی پر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، خواتین، بزرگ افراد اور نوجوان کورونا کی حقیقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں، وہ کورونا کی اچانک واپسی کو بھی سیاسی مسئلہ قرار دیتے ہیں، وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ذمے دار حکام صرف فائلوں کا پیٹ بھرتے اور رپورٹیں جاری کرتے ہیں۔
سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماسک اور صابن سے ہاتھ دھونے کی خوب تشہیر تو ہوتی ہے مگر وزارت صحت ملک کے غریب علاقوں میں ماسک اور صابن کی عوام تک مفت سپلائی کو یقینی بنانے میں سرگرم نہیں ہے، مارکیٹوں میں عوام کو ماسک سے بیزار بتانے والے پولیس اہلکار خود ماسک لگائے ہوئے نظر نہیں آتے، مارکیٹ میں بیشتر لوگ پابندیوں سے آزاد ہوکر خرید و فروخت کرتے ہیں، کہیں بھی مچھر اسپرے نظر نہیں آتا، کچرے کو ٹھکانے لگانے میں انتظامیہ کی اجتماعی ناکامی اب کسی تعارف کی محتاج نہیں، پنجاب میں کچرے کے انبار لگے ہیں، اور سیاسی پولرائزیشن اس سے کہیں زیادہ ہے۔
اس سے قبل کورونا لہر پر پابندیوں کے حوالے سے غربت زدہ طبقات کی مالی امداد اور معاشی وسائل کی فراہمی کے لیے متعدد ٹاسک فارس اور ٹائیگر فورس کو فعال بنانے کے دعوے کیے گئے، وفاقی اور صوبائی سطح پر راشن کی رضاکارانہ فراہمی اور عوام کے روزگار کے تحفظ و تسلسل پر اقدامات جمود کے شکار ہوگئے ہیں، کچھ روز قبل اسٹیٹ بینک نے پنشن اسکیم کے بایو میٹرک نظام کی سال میں دو بار یعنی مارچ اور ستمبر میں کرانے کو لازمی قرار دیا، تاہم اب اس عمل کو موخر کردیا گیا ہے، اس طرح بے شمار معاشی، اقتصادی اور انتظامی اقدامات نامعلوم وجوہ کے باعث ملتوی کیے جاچکے ہیں، کسی کمیشن، کمیٹی ٹاسک فورس اور ٹائیگر فورس کی افادیت اور مقصدیت کا فائدہ غریب عوام کو نہیں پہنچا، یہی ایک المیہ ہے۔