مشتبہ پائلٹ لائسنسز اجرا اسکینڈل مرکزی ملزم گرفتار
ملزم نے دیگرملزمان کے ساتھ مل کرمشتبہ لائسنزاجرا میں1 کروڑ 55 لاکھ روپے وصول کیے۔
ملزم نے دیگرملزمان کے ساتھ مل کرمشتبہ لائسنزاجرا میں1 کروڑ 55 لاکھ روپے وصول کیے۔ (فوٹو، فائل)
مشتبہ پائلٹ لائسنسز اجرا اسکینڈل میں اہم پیش رفت، ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتارسید عدیل آفتاب نامی ملزم سی اے اے لائسنسنگ برانچ میں اسسٹنٹ ہے،ملزم نے دیگرملزمان کے ساتھ مل کرمشتبہ لائسنزاجرا میں1 کروڑ 55 لاکھ روپے وصول کیے،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹرلائسنسنگ محمد اعظم کوبھی نئے مقدے میں نامزد کرلیا گیا،پائلٹ محمد اعظم اور پائلٹ عمار کو جعلی طریقے سے امتحان میں پاس کرایا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے عامرفاروقی کے مطابق محمد اعظم نے ترقی کے لیے خود کو بھی امتحان میں پاس کیا، عمارنامی ایک پائلٹ بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیاہے،مجموعی طور پر 8 ملزمان نئی ایف آئی آر میں نامزد کئے گئے ہیں، مرکزی ملزم عدیل اسکینڈل میں پہلے سے درج 3 مقدمات میں بھی نامزد ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے روف شیخ کے مطابق محمد عمارنامی پائلٹ کو عالمی مزدور ڈے کی چھٹی کے دن امتحان میں بٹھا کر پاس کرایا گیا جبکہ پائلٹ محمد اعظم کو سی اے اے افسران نے دفتری وقت کے بعد پائلٹ لائسنس امتحان میں بٹھاکر پاس کرایا،جعلی طریقے سے پاس کرانے کے پیسے سی اے اے ملازم عدیل آفتاب گلستان جوہر کی نجی بینک اوران کی اہلیہ غزالہ عدیل کے اکائونٹ میں ڈلوائے جاتے۔
بینک اکائونٹ نمبرکے ذریعے اس مد میں ہونے والی ٹرانزیکشن سے شواہد ملے ہیں، پائلٹس کو پاس کرانے کے پیسے فرنٹ مین جمیل کے ذریعے منتقل ہوتے تھے،نئے مقدمے میں سی اے اے لائسنس برانچ کے ایڈیشنل ڈاریکٹر محمد اعظم، فیصل منصور انصاری، آصف الحق، عبدالرئیس کو شامل کیا گیا ہے۔
مقدمے میں خالد جاوید، پائلٹ محمد عمار، پرائیوٹ پرسن جمیل سمیت دیگر کو شامل تفتیش کرلیا گیا،جعلی لائسنس پائلٹس معاملے میں سی اے اے افسران اور پائلٹس کے خلاف یہ چوتھا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتارسید عدیل آفتاب نامی ملزم سی اے اے لائسنسنگ برانچ میں اسسٹنٹ ہے،ملزم نے دیگرملزمان کے ساتھ مل کرمشتبہ لائسنزاجرا میں1 کروڑ 55 لاکھ روپے وصول کیے،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹرلائسنسنگ محمد اعظم کوبھی نئے مقدے میں نامزد کرلیا گیا،پائلٹ محمد اعظم اور پائلٹ عمار کو جعلی طریقے سے امتحان میں پاس کرایا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے عامرفاروقی کے مطابق محمد اعظم نے ترقی کے لیے خود کو بھی امتحان میں پاس کیا، عمارنامی ایک پائلٹ بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیاہے،مجموعی طور پر 8 ملزمان نئی ایف آئی آر میں نامزد کئے گئے ہیں، مرکزی ملزم عدیل اسکینڈل میں پہلے سے درج 3 مقدمات میں بھی نامزد ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے روف شیخ کے مطابق محمد عمارنامی پائلٹ کو عالمی مزدور ڈے کی چھٹی کے دن امتحان میں بٹھا کر پاس کرایا گیا جبکہ پائلٹ محمد اعظم کو سی اے اے افسران نے دفتری وقت کے بعد پائلٹ لائسنس امتحان میں بٹھاکر پاس کرایا،جعلی طریقے سے پاس کرانے کے پیسے سی اے اے ملازم عدیل آفتاب گلستان جوہر کی نجی بینک اوران کی اہلیہ غزالہ عدیل کے اکائونٹ میں ڈلوائے جاتے۔
بینک اکائونٹ نمبرکے ذریعے اس مد میں ہونے والی ٹرانزیکشن سے شواہد ملے ہیں، پائلٹس کو پاس کرانے کے پیسے فرنٹ مین جمیل کے ذریعے منتقل ہوتے تھے،نئے مقدمے میں سی اے اے لائسنس برانچ کے ایڈیشنل ڈاریکٹر محمد اعظم، فیصل منصور انصاری، آصف الحق، عبدالرئیس کو شامل کیا گیا ہے۔
مقدمے میں خالد جاوید، پائلٹ محمد عمار، پرائیوٹ پرسن جمیل سمیت دیگر کو شامل تفتیش کرلیا گیا،جعلی لائسنس پائلٹس معاملے میں سی اے اے افسران اور پائلٹس کے خلاف یہ چوتھا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔