عوام کی مشکلات مداوے کی منتظر

عوام میں یہ تاثر تقویت پارہا ہے کہ حکومتی وزراء اور ادارے عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں۔

عوام میں یہ تاثر تقویت پارہا ہے کہ حکومتی وزراء اور ادارے عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں۔ فوٹو:فائل

وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں 7.8 ارب روپے کے رمضان پیکیج کی منظوری دے دی ، جس کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے 19اشیا پرسبسڈی دی جائے گی۔ بلاشبہ عوام کے لیے ریلیف پیکیج کااعلان خوش آیند ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ توجہ خراب معاشی صورت حال پر قابوپانے کے لیے دی جا رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان کی معاشی ٹیم آئی ایم ایف سمیت بین الاقوامی اداروں اور دوست ملکوں سے مدد لینے کے علاوہ ملک کے اندرونی وسائل کو بھی بروئے کار لانے کے لیے سرگرداں ہے۔

معیشت میں بہتری لانے کی ان کوششوں کو متعدد عالمی تجزیاتی اداروں نے سراہا ہے ، لیکن ملک میں مہنگائی کی شرح میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے عوام کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ کردیا ہے،موجودہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے تو کررہی ہے مگر عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ملک میں یوٹیلیٹی اسٹورز کی تعداد انتہائی کم ہے ، جب کہ یہ شکایات بھی عام ہیں کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر سامان تسلسل سے فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔

آٹا، چینی، گھی سمیت دیگر روز مرہ کے استعمال کی اشیاء غائب کردی جاتی ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ بازار سے مہنگے داموں اشیاء خورو نوش خریدنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے ۔اشیاء ضروریہ کی قیمتوں پر جو تھوڑا بہت ریلیف ملتا ہے ، اسے مافیا ملی بھگت سے ناکام بنا دیتی ہے ، کیونکہ اسٹورز مالکان کی جانب سے آٹا، چینی، گھی اپنے من پسند افراد اور دکانداروں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ روزبروز بڑھتی بجلی، گیس، پٹرول، ڈالر کی قیمتوں اور اشیائے خورو نوش کی ہوشربا گرانی نے پاکستانی شہریوں کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔

ایک طرف ملک میں معاشی بدحالی کے ڈیرے ہیں، تو دوسری جانب ہر گزرتے دن کے ساتھ روپے کی قدر میں کمی، بجلی، گیس سمیت اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ہونے والی مہنگائی سے غریب اور متوسط طبقے کا جینا دوبھر ہو کررہ گیا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ مسلسل تیسری بار اضافہ عوام کی توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ ہر پندرہ بیس دن بعد غریب عوام کو بجلی کا جھٹکا ضروردیاجاتا ہے جس سے بالواسطہ اور بلا واسطہ مہنگائی بڑھ رہی ہے ،عوام کو میسر تمام ریلیف اور سبسڈی ختم کردی گئی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں بے جا اضافہ کر کے عوام پراضافی بوجھ ڈالا گیا ہے،ادویات کی قیمتیں پانچ سوگنا بڑھ گئی ہیں،ذیابیطس،بلند فشار خون،انجائنا سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا عوام سے علاج کی سہولت چھین لی گئی ہے، ادویات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اوراسپتالوں میں دی جانے والی مفت ادویات کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سن کر غریب اور متوسط آمدنی والے افراد افسردہ اور پریشان ہیں۔ گیس کی قیمت میں مزید ڈھائی سو فیصداضافہ ہوچکاہے، شاہراہوں پر ٹول ٹیکس کی شرح میں اچانک اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ زرعی اجزاء، کھاد کی قیمتوں میں اضافے نے کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، صوبوں کے وسائل روک کر انسانی ترقی کو تباہی سے دوچار کردیاگیا ہے،اسی لاکھ سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے جاچکے ہیں۔

اس سب کے باوجود آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے لیے مسلسل دباؤ ہے اور اس کے سامنے حکومت نے سرتسلم خم کررکھا ہے۔ ملک میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور برآمدات بری طرح متاثرہیں، تاہم سب سے زیادہ توجہ طلب تجزیہ خود آئی ایم ایف کا ہے جو اربوں ڈالر کے قرضوں اور معاشی ومالیاتی مشوروں کے حوالے سے پاکستان کی اس اقتصادی جدوجہد کا ایک سنجیدہ کردار ہے۔ آئی ایم ایف نے ایک جائزہ رپورٹ میں متنبہ کیا ہے کہ تمام تر مثبت اشاریوں کے باوجود پاکستان کو آیندہ برسوں میں بھی مشکلات کا سامنا رہے گا۔ شرح نمو ہدف سے کم ہو سکتی ہے۔ تجارتی و بجٹ کا خسارہ بڑھ سکتا ہے ایف اے ٹی ایف کی ممکنہ بلیک لسٹ سے سرمایہ کاری میں کمی آسکتی ہے۔

ادارہ جاتی اصلاحات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔آئی ایم ایف کے خدشات اور مشوروں کے تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت اقتصادی محاذ پر ملک کے تمام علاقوں، طبقوں اور صنعتوں کی یکساں ترقی کے تقاضوں سے پوری طرح باخبر ہے مگر عوام کو لاعلم ہی رکھنا چاہتی ہے۔ ہمارے ہاں ادارے سمجھتے ہیں کہ عوام اس قابل نہیں کہ ان کے سامنے کسی اضافے کی وجہ بتائی جائے یا انھیں قائل کیا جائے کہ اضافہ ناگزیر تھا۔ اسی لیے عوام اپنے آپ کو حکومت میں شریک محسوس نہیں کرتے۔ حکومت اور عوام کے مابین جو ایک بیگانگی پائی جاتی ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے۔


حکومتی ادارے بند دفتروں میں بیٹھے ایسے فیصلے کرتے رہتے ہیں جن سے عوام متاثر ہوتے ہیں،لیکن وہ کبھی وجہ بتانے یا ان فیصلوں کے ضروری ہونے کی وجوہات عوام کے ساتھ شیئر نہیں کرتے۔ انھیں احساس نہیں دلاتے کہ حکومت انھیں اہم حصہ سمجھتی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں حکمران اور عوام ریاست میں دو الگ الگ دھاروں کی طرح رہتے ہیںجو باہم کبھی نہیں ملتے۔ عوام حکومت سازی کا ذریعہ ضرور ہیں، کہ اس کے بغیر چارہ نہیں، مگر ہمارے ہاں جمہوریت کی روح کو ماننے کی بجائے اسے صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔نتیجتاً ملکی آبادی کا بیشتر حصہ خط غربت کے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہے، دوسری جانب بیروزگاری بھی برق رفتاری سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ان سنگین حالات میں برسر اقتدار شخصیات کو غریب و متوسط طبقے کے مسائل کا ادراک ہوناچاہیے، اور مہنگائی کی بجائے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے عملی اقدامات کرنا چاہیے تاکہ غریب و متوسط طبقہ سکھ کا سانس لے سکے۔

ملک میں کورونا کی تیسری لہرسے ایک ہی دن میں مزید 62 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جب کہ ریکارڈ چار ہزار دس نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کورونا وبا کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے مزید آٹھ اضلاع میں اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

کورونا کی وباء قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے، انسداد کورونا کے نام پر حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے، اگرچہ اس مہم کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات سر اٹھا رہے ہیں، نیز بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں یومیہ تیس ہزار افراد کی ویکسی نیشن کوئی خاص معنی نہیں رکھتے خصوصاً ایسی صورتحال میں جب کہ اس مرض کے حوالے سے آئے دن نت نئے انکشافات ہو رہے ہیں، دنیا بھر میں اس کی ایک سے زائد اقسام دریافت کی جا چکی ہیں جن میں سے بعض کورونا کی ویکسین کو بھی مات دے رہی ہیں۔

ہماری حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر کامیابیوں کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں ۔ ادھر حال یہ ہے کہ عوام کی ایک واضح اکثریت آج بھی سرے سے اس وائرس کا وجود ہی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے چہ جائیکہ وہ حکومت کی اپیلوں یا کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کریں۔ حکمرانوں، اشرافیہ اور نوکر شاہی سے لے کر عام آدمی تک کے ہاتھوں ہم نے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں بکھرتی دیکھی ہیں۔اس وقت ملک کئی شہرو ں میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ خطرے کی حدود کو چھورہا ہے، ہم ایک بار پھرمکمل لاک ڈاؤن والی صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں ،اسکول بند ہورہے ہیں ، کاروباری مراکز کے اوقات کار محدود کردیے گئے ہیں۔جس پر تاجر برادری سراپا احتجاج ہے ، کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے عوام کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ان حالات میں ہمیں غریبوں، ناداروں کی مدد اپنا اولین فرض سمجھنا چاہیے کورونا کی گزشتہ لہر کے دوران مخیر حضرات نے سیکڑوں محنت کشوں،ناداروں کو ان کی دہلیز پر راشن فراہم کیا تھا،موجودہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی بے لوث خدمت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے ،قوم انفرادی اور اجتماعی فیاضی کا مظاہرہ کرے ، انسان دوستی زندہ قوم کا شعار ہوتی ہے، اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کوخیر کی دعوت دیتا ہے ، اگر ہم بحیثیت قوم ان نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے کورونا وبا کی تیسری لہر کا مقابلہ کریں تو نتائج بہتر نکل سکتے ہیں ۔

کورونا وبا، سیاسی عدم استحکام اور عوام میں پائے جانے والے احساس عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حکومت اپوزیشن کو دبانے کے لیے رات دن منصوبہ بندی میں مصروف ہے،جب کہ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آئے دن بجلی اور پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں بلکہ آٹے، گھی اور اس طرح کی روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی آخر کیوں مسلسل اضافہ ہی کیا جا رہا ہے،عام آدمی کو لاحق تشویش اور پریشانی ناقابل بیان حد تک بڑھ رہی ہے۔

عوام میں یہ تاثر تقویت پارہا ہے کہ حکومتی وزراء اور ادارے عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہیں۔حکومت کو سنجیدگی اور بردباری سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
Load Next Story