پاک بھارت نئی ویزا پالیسی
مہمان وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات مثبت رہی ہے۔
مہمان وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات مثبت رہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا اسلام آباد کے تین روزہ سرکاری دورے پر پہنچنا باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ بھارتی مہمان کے ساتھ بھارتی میڈیا کے اراکین کی بھی ایک بڑی تعداد پاکستان آئی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان پہنچ کر یہ کہا کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے خیرسگالی کا پیغام لے کر آئے ہیں اور ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت، پاکستان کو ایک پر امن، خوشحال اور مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے ، نیز دونوں ملکوں کی یکساں خواہش ہے، جنوب مشرقی ایشیاء کا پورا خطہ دہشتگردی اور تشدد سے پاک ہو تا کہ اس خطے کے غربت، جہالت اور طرح طرح کے خطرناک امراض کا شکار عام لوگ بھی سکھ کا سانس لے سکیں اور قدرت کی بے پایاں نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ان کی یہ باتیں نئی تو نہیں ہیں لیکن ان میں نئے عزم کی جھلک ضرور موجود ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے اس حوصلہ افزا بیان سے بہت کچھ عیاں ہوگیا تھا کہ ان کے اس دورے سے نئی تبدیلیوں کا سفر شروع ہوگا۔ ادھرپاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی اس امید کے چراغ کو مزید روشن کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھارت کو مختلف انداز سے دیکھتا ہے، وہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کا خواہاں ہے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے معاملے میں پاکستان نے اپنے کئی روایتی موقف ترک کردیے ہیں۔
ان بیانات سے ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ کا اس بار پاکستان آنا، محض دورہ برائے دورہ نہیں ہوگا بلکہ کچھ عملی اقدامات اور فیصلے بھی ہوں گے۔ ایس ایم کرشنا یہ بھی کہہ چکے تھے کہ دونوں ملکوں کی قیادت نے اپنے وزائے خارجہ کو بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا اختیار دیدیا ہے۔ یہ بھی ایک نئی بات تھی ورنہ ماضی میں وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات ہوں یا خارجہ سیکریٹریوں کی بات چیت، ان کا ایجنڈا طے شدہ ہوتا تھا اور دونوں فریق اپنے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں جاتے تھے۔
مذاکرات کے اختتام پر یہ روایتی اعلانات سامنے آتے کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کررہی ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو احساس ہو چکا ہے کہ جنوبی ایشیا کے عوام جنگوں اور تنازعات سے تنگ آگئے ہیں ۔میڈیا نے بھی بہت سے حقائق کو آشکار کردیا ہے، اب بھارت اور پاکستان کے فہمیدہ حلقوں کو کسی حد تک یہ معلوم ہوچکا ہے کہ دونوں ملکوں میں انتہا پسندوں کا ایک طاقتور گروپ نہیں چاہتا کہ عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں۔
اس قسم کی ذہنیت پاکستان اور بھارت میں گزشتہ چھ دہائیوں سے خاصی طاقت ور چلی آ رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو جنگیں ہوئی ہیں وہ بھی اسی ذہنیت کی وجہ سے ہوئیں۔ اب عالمی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں نے انتہا پسندوں کو بڑی حد تک بے نقاب کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ان کے باہمی تنازعات کی وجہ سے پورے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
جو خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہوتے پورے جنوبی ایشیا میں معاشی سرگرمیاں پوری رفتار سے جاری نہیں رہ سکتیں۔ یہی وہ احساس ہے جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بتدریج معاملات بہتر ہو رہے ہیں۔ ایس ایم کرشنا نے جمعے کو کہا کہ ہم مرحلہ وار آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تاہم ایک ہی وقت میں تمام مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ یہ البتہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہم مثبت سمت پر آگے بڑھ رہے ہیں جس کے پیش نظر امید کی جا سکتی ہے کہ تمام متنازعہ مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔
مہمان وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات مثبت رہی ہے۔ یہ بھی ایک مثبت پیش رفت تھی۔یہ بالکل درست ہے کہ سب کچھ ایک ہی روز میں نہیں ہوسکتا تاہم تبدیلیاں خوشگوار ہوں تو امید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسے پیچیدہ تنازعات ہیں جو فوری طور پر حل نہیں ہو سکتے لیکن ان کے حل کی طرف سفر کا آغاز ضرور ہو سکتا ہے۔ اب دونوں ملکوں نے اپنے شہریوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ روابط بڑھانے کے لیے سفری سہولیات میں آسانی پیدا کرنے کی جانب قدم اٹھایا ہے۔
یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان آٹھ اقسام کے ویزے جاری کرنے کا معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔ ماضی کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اسے بریک تھرو قرار دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا کے اطلاعات کے مطابق ویزوں کی اقسام میں اول نمبر پر 36 گھنٹے کا سفارتی ویزا پھر غیرسفارتی ٹرانزٹ وزٹ کا ویزا جب کہ 5 مقامات کے لیے 6 ماہ کا سیاحتی ویزا بھی شامل ہے۔ تاجروں' میڈیا' سول سوسائٹی اور عوام کو بھی ویزا جاری کیا جائے گا۔ غیرسفارتی درجے میں سفارت خانوں کے اسٹاف کو ویزوں کا اجراہو گا۔
5 سو پاکستانیوں کو اجمیر شریف کے عرس پر جانے کی اجازت ہو گی جب کہ بھارتی سکھ اپنے مذہبی تہواروں پر پاکستان آ سکیں گے۔ بزرگ شہریوں کو بھی ویزا پالیسی میں خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب 65 برس سے زائد عمر کے شہریوں کو پنجاب کی سرحد واہگہ اور اٹاری پر ہی ویزا جاری کردیا جائے گا اور اس ویزے کی مدت پینتالیس دن ہوگی تاہم اس میں توسیع نہیں ہو گی۔ بزرگ شہری اور بارہ سال سے کم عمر بچے پولیس رپورٹ سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔فنکاروں کو ٹرپل اینٹری ویزا جاری کیا جائے گا۔تاجروں ایک سال کے لیے دس شہروں کا ویزا جاری کیا جائے گا۔دس افراد کے لیے گروپ سیاحتی ویزا بھی جاری کیا جائے گا۔واہگہ اور اٹاری کے علاوہ بھی داخلی اور خارجی راستے ہوں گے۔ممبئی کراچی فیری سروس شروع کی جائے گی۔
اسلام آباد اور دہلی کے درمیان فضائی سروس شروع کی جائے گی۔ یہ انتہائی خوش کن تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں ایسے لاکھوں شہری ہیں جن کی دونوں ممالک میں عزیزداریاں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے کے ملک میں جانے کے لیے اجازت ناموں کے حصول میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب ان مشکلات میں خاصی کمی ہو جائے گی۔ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطے بحال ہونے سے جہاں دونوں ملکوں کے عوام میں غلط فہمیاں دور ہوں گی وہاں تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔
پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو اس معاملے میں مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ سندھ میں کھوکھراپار اور موناباؤ سرحد سے بھی آنے جانے کی سہولت دی جائے۔ اس سے کراچی، سکھر اور حیدرآباد سمیت سارے سندھ کے عوام کو فائدہ ہو گا۔ کراچی میں بھی بھارتی ویزا آفس قائم ہونا چاہئے۔ بہرحال پاکستان اور بھارت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں انھیں سراہا جانا چاہیے اور مستقبل میں مزید اقدامات کی امید رکھنی چاہئے۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے پاکستان پہنچ کر یہ کہا کہ وہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے خیرسگالی کا پیغام لے کر آئے ہیں اور ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت، پاکستان کو ایک پر امن، خوشحال اور مستحکم ملک کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے ، نیز دونوں ملکوں کی یکساں خواہش ہے، جنوب مشرقی ایشیاء کا پورا خطہ دہشتگردی اور تشدد سے پاک ہو تا کہ اس خطے کے غربت، جہالت اور طرح طرح کے خطرناک امراض کا شکار عام لوگ بھی سکھ کا سانس لے سکیں اور قدرت کی بے پایاں نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
ان کی یہ باتیں نئی تو نہیں ہیں لیکن ان میں نئے عزم کی جھلک ضرور موجود ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے اس حوصلہ افزا بیان سے بہت کچھ عیاں ہوگیا تھا کہ ان کے اس دورے سے نئی تبدیلیوں کا سفر شروع ہوگا۔ ادھرپاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی اس امید کے چراغ کو مزید روشن کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھارت کو مختلف انداز سے دیکھتا ہے، وہ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کا خواہاں ہے، انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے معاملے میں پاکستان نے اپنے کئی روایتی موقف ترک کردیے ہیں۔
ان بیانات سے ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ کا اس بار پاکستان آنا، محض دورہ برائے دورہ نہیں ہوگا بلکہ کچھ عملی اقدامات اور فیصلے بھی ہوں گے۔ ایس ایم کرشنا یہ بھی کہہ چکے تھے کہ دونوں ملکوں کی قیادت نے اپنے وزائے خارجہ کو بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کا اختیار دیدیا ہے۔ یہ بھی ایک نئی بات تھی ورنہ ماضی میں وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات ہوں یا خارجہ سیکریٹریوں کی بات چیت، ان کا ایجنڈا طے شدہ ہوتا تھا اور دونوں فریق اپنے اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں جاتے تھے۔
مذاکرات کے اختتام پر یہ روایتی اعلانات سامنے آتے کہ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی قیادت بدلتے ہوئے حالات کا ادراک کررہی ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو احساس ہو چکا ہے کہ جنوبی ایشیا کے عوام جنگوں اور تنازعات سے تنگ آگئے ہیں ۔میڈیا نے بھی بہت سے حقائق کو آشکار کردیا ہے، اب بھارت اور پاکستان کے فہمیدہ حلقوں کو کسی حد تک یہ معلوم ہوچکا ہے کہ دونوں ملکوں میں انتہا پسندوں کا ایک طاقتور گروپ نہیں چاہتا کہ عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں۔
اس قسم کی ذہنیت پاکستان اور بھارت میں گزشتہ چھ دہائیوں سے خاصی طاقت ور چلی آ رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان جو جنگیں ہوئی ہیں وہ بھی اسی ذہنیت کی وجہ سے ہوئیں۔ اب عالمی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں نے انتہا پسندوں کو بڑی حد تک بے نقاب کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ ان کے باہمی تنازعات کی وجہ سے پورے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
جو خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خوشگوار نہیں ہوتے پورے جنوبی ایشیا میں معاشی سرگرمیاں پوری رفتار سے جاری نہیں رہ سکتیں۔ یہی وہ احساس ہے جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بتدریج معاملات بہتر ہو رہے ہیں۔ ایس ایم کرشنا نے جمعے کو کہا کہ ہم مرحلہ وار آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے تاہم ایک ہی وقت میں تمام مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ یہ البتہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہم مثبت سمت پر آگے بڑھ رہے ہیں جس کے پیش نظر امید کی جا سکتی ہے کہ تمام متنازعہ مسائل کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔
مہمان وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات مثبت رہی ہے۔ یہ بھی ایک مثبت پیش رفت تھی۔یہ بالکل درست ہے کہ سب کچھ ایک ہی روز میں نہیں ہوسکتا تاہم تبدیلیاں خوشگوار ہوں تو امید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایسے پیچیدہ تنازعات ہیں جو فوری طور پر حل نہیں ہو سکتے لیکن ان کے حل کی طرف سفر کا آغاز ضرور ہو سکتا ہے۔ اب دونوں ملکوں نے اپنے شہریوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ روابط بڑھانے کے لیے سفری سہولیات میں آسانی پیدا کرنے کی جانب قدم اٹھایا ہے۔
یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان آٹھ اقسام کے ویزے جاری کرنے کا معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔ ماضی کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اسے بریک تھرو قرار دیا جا سکتا ہے۔ میڈیا کے اطلاعات کے مطابق ویزوں کی اقسام میں اول نمبر پر 36 گھنٹے کا سفارتی ویزا پھر غیرسفارتی ٹرانزٹ وزٹ کا ویزا جب کہ 5 مقامات کے لیے 6 ماہ کا سیاحتی ویزا بھی شامل ہے۔ تاجروں' میڈیا' سول سوسائٹی اور عوام کو بھی ویزا جاری کیا جائے گا۔ غیرسفارتی درجے میں سفارت خانوں کے اسٹاف کو ویزوں کا اجراہو گا۔
5 سو پاکستانیوں کو اجمیر شریف کے عرس پر جانے کی اجازت ہو گی جب کہ بھارتی سکھ اپنے مذہبی تہواروں پر پاکستان آ سکیں گے۔ بزرگ شہریوں کو بھی ویزا پالیسی میں خصوصی رعایت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب 65 برس سے زائد عمر کے شہریوں کو پنجاب کی سرحد واہگہ اور اٹاری پر ہی ویزا جاری کردیا جائے گا اور اس ویزے کی مدت پینتالیس دن ہوگی تاہم اس میں توسیع نہیں ہو گی۔ بزرگ شہری اور بارہ سال سے کم عمر بچے پولیس رپورٹ سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔فنکاروں کو ٹرپل اینٹری ویزا جاری کیا جائے گا۔تاجروں ایک سال کے لیے دس شہروں کا ویزا جاری کیا جائے گا۔دس افراد کے لیے گروپ سیاحتی ویزا بھی جاری کیا جائے گا۔واہگہ اور اٹاری کے علاوہ بھی داخلی اور خارجی راستے ہوں گے۔ممبئی کراچی فیری سروس شروع کی جائے گی۔
اسلام آباد اور دہلی کے درمیان فضائی سروس شروع کی جائے گی۔ یہ انتہائی خوش کن تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں ایسے لاکھوں شہری ہیں جن کی دونوں ممالک میں عزیزداریاں ہیں۔ انھیں ایک دوسرے کے ملک میں جانے کے لیے اجازت ناموں کے حصول میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب ان مشکلات میں خاصی کمی ہو جائے گی۔ پاکستان اور بھارت کے عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطے بحال ہونے سے جہاں دونوں ملکوں کے عوام میں غلط فہمیاں دور ہوں گی وہاں تجارتی سرگرمیاں بھی بڑھیں گی۔
پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو اس معاملے میں مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ سندھ میں کھوکھراپار اور موناباؤ سرحد سے بھی آنے جانے کی سہولت دی جائے۔ اس سے کراچی، سکھر اور حیدرآباد سمیت سارے سندھ کے عوام کو فائدہ ہو گا۔ کراچی میں بھی بھارتی ویزا آفس قائم ہونا چاہئے۔ بہرحال پاکستان اور بھارت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں انھیں سراہا جانا چاہیے اور مستقبل میں مزید اقدامات کی امید رکھنی چاہئے۔