آرمی چیف کا صائب بیان
بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے غیر فوجی حل کے لیے خطے کے مظلوم عوام کے دکھوں میں ساتھ دے۔
بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے غیر فوجی حل کے لیے خطے کے مظلوم عوام کے دکھوں میں ساتھ دے۔ فوٹو : فائل
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہمیں احساس ہوگیا ہے کہ جب تک ہمارا اپنا گھر ٹھیک نہ ہو اس وقت تک دوسروں سے کسی اچھائی کی توقع نہیں کر سکتے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور خطے میں قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے، اس کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، وقت آگیا ہے کہ ماضی کو دفن کرکے مستقبل کی جانب بڑھیں۔
ملکی سیاست، سفارتکاری کی تاریخ اور قوموں کے تعلقات کا ارتقائی منظرنامہ اس انداز نظر کے سامنے ایک نئی سوچ کا پیامبر ہے، یہ سوچ نئے عہد کی فکر کو ہمسائیگی کے نئے درد، حقیقت کے نئے رمز اور سیاست سے آشنا کرنے کا ایک وجدانی موقع ہے، آرمی چیف نے وقت کے سیاسی جمود کو توڑا ہے، پاکستان اور بھارت سمیت کشمیر کے دیرینہ تنازع کو نئی معنویت دینے کی صائب کوشش کی ہے، سیاسی مبصرین کے لیے عسکری قیادت کی جانب سے ایک نیا خیال سامنے آیا ہے، عملیت پسندی کی سوچ کو مہمیز ملی ہے۔
سیاستدانوں، سفارتکاروں اور دانشوروں کے لیے آؤٹ آف باکس غور و فکر کا کوئی غیر روایتی پیغام آیا ہے، اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کا خیال آ گیا ہے لہٰذا اب سیاسی و عسکری قیادت مل کر قوم کے سامنے زمینی، تزویراتی ، سیاسی اور دوطرفہ تاریخی مکالمہ کی راہ ہموار کریں، گھر اندر سے ٹھیک ہوگا تو بات چیت امن، مفاہمت ، ثالثی اور افہام و تفہیم سے ہوسکے گی، گلے شکوؤں کی بزم بھی سجے گی، رنجشیں بڑھی ہوئی نظر آئیں گی، بھارت کو شاید اپنے بند دریچے کھولنے کی تیاری میں کچھ دیر لگے ، اب تک پاک بھارت مکالمہ کی جتنی کوششیں ہوئی ہیں۔
ان کی کہانیوں پر وقت کی بہت ساری گرد جمع ہے اس کی چھان پھٹک میں وقت تو لگے گا لیکن جہاں زیرک و نکتہ چیں سیاسی اذہان و دو ہمسایوں کے بیچ اعتماد، یقین، خلوص اور نیک نیتی سے مسائل ، تنازعات اور بدگمانیوں کے خاتمہ کے لیے تحمل اور خیر سگالی سے بات چیت کی دعوت کی بات ہے، سب کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔
سنجیدہ سیاست دانوں کو بریک تھرو کرنا ہوگا، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے دو ہمسائے نیک نیتی سے جمع ہوں اور کشمیر کے مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے دل و دماغ کی پلیٹ صاف کرکے ایک دوسرے کے رو برو بیٹھ جائیں۔
مذاکرات کریں اور کروڑوں انسانوں کے سیاسی اور معاشی حقیقتوں پر ایک تاریخ ساز اور گلیشیئر توڑ فیصلہ کریں، ایٹمی جنگ پرامن، انصاف، ترقی، خوشحالی اور پرامن بقائے باہمی کے کسی ایسے میثاق پر متفق ہوں جس میں مکالمہ Dialogue کی روح اور سیاسی و فکری اساس کی بنیاد جموں و کشمیر کے سات دہائیوں پر مشتمل انسانی دکھوں کے اجتماعی المیوں کی پائیدار پیش رفت ہو۔ اس مکالمہ پر اہل کشمیر کی نظر مرکوز ہے۔
یہ ایک ویک اپ کال دورانیہ ہے۔ پاک بھارت جمہوری، سیاسی اور روشن خیال حکمراں طاقتیں فسانہ و حقیقت کے سیاہ خانہ سے نکل کر دن کی روشنی میں تاریخ سے کھلا مکالمہ کریں، بے فیض سفارت کاری کی گرد جھاڑ کر پاک بھارت تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں، مسائل و تنازعات کا کوئی حل بامعنی مذاکرات کے ذریعے نکالیں، امن عمل شروع ہونے کے لیے سازگار حالات پیدا کریں، پاکستان کے بری فوج کے سربراہ کا انداز فکر صائب ہے کہ ہمارے ہمسائے کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔
ہمارے ہمسائے کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا کیونکہ مستحکم پاک و ہند تعلقات مشرقی اور مغربی ایشیا کو قریب لاسکتے ہیں۔ یہاں نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے، آج دنیا کو مختلف طرز کی دہشتگردی کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان خطے میں سیکیورٹی خطرات کے باوجود دفاع پر کم خرچ کر رہا ہے۔
سیکیورٹی پر اخراجات بڑھانے سے انسانی ترقی کی قربانی دینا پڑتی ہے جب کہ جارح پڑوسی کی موجودگی کے باوجود پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔ نیشنل سیکیورٹی کو یقینی بنانا صرف افواج کا کام نہیں، نیشنل سیکیورٹی کثیر الجہتی ہوتی ہے اس میں قوم کا اہم کردار ہوتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل جدوجہد کے بعد منزل کے قریب ہیں، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دی جا رہی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہمارے عزم کی عکاس ہے۔
دنیا نے عالمی جنگ اور سرد جنگ کی تباہ کاریاں دیکھی ہیں جس میں پولرائزیشن اور اخلاقی برتری کو نظرانداز کرنے کی غلطی نے مستقبل کو دھندلا دیا اور انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آئے، اس کے برعکس ہم نے دیکھا کہ کس طرح کثیرالجہتی اصول پر مبنی پلیٹ فارمز نے بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے کام کیا۔
گزشتہ برسوں کے ناکام تجربات کے حوالے سے بات کرنا غیر منطقی ہے۔ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، غیر حل شدہ تنازعات غربت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جنوبی ایشیا میں دنیا کی ایک تہائی آبادی ہے۔ چاہتے ہیں کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمے داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول بنانا ہو گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ مسائل کی وجہ سے پورا خطہ ترقی پذیر اور غربت کا شکار ہو گیا ہے، یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا تجارت، انفرا اسٹرکچر، پانی اور توانائی میں تعاون کے لحاظ سے دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔
یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاصر تصور کا مقصد صرف کسی ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے ہی محفوظ کرنا نہیں بلکہ ایسا موزوں ماحول بھی فراہم کرنا ہے جس میں انسانی سیکیورٹی، قومی پیشرفت اور خوشحالی کا احساس کیا جا سکے۔ آرمی چیف کے مطابق آج کوئی بھی قوم اکیلے سیکیورٹی مسائل کو حل نہیں کر سکتی کیونکہ آج دنیا کو بھی جن سیکیورٹی مسائل یا الجھنوں کا سامنا ہے۔
ان کا عالمی اور علاقائی حرکیات سے گہرا تعلق ہے، چاہے وہ انسانی سیکیورٹی ہو، انتہا پسندی، انسانی حقوق، ماحولیاتی نقصانات، معاشی تحفظ ہو یا وبا، اب اکیلے ان مسائل سے نمٹنا حل نہیں رہا۔ آج بھی ہمارے پاس انتخاب کے یکساں مواقع ہیں، اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم ماضی کی کشمکش اور زہریلے تنازعات کو فروغ دے کر جنگ، بیماری اور تباہی کی طرف مائل ہوتے ہیں یا آگے بڑھتے ہوئے اپنے لوگوں کو تکنیکی اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کر کے خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کی شروعات کرتے ہیں۔
پاکستان خطے میں ایک ذمے دار ملک ہے، پاکستان کی جیوپولیٹیکل حیثیت معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔ آرمی چیف نے کہا پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغوں کی موجودگی میں اس تقریب کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے مجھے امید ہے کہ جو دانشور اور اسکالر یہاں موجود ہیں اور ورچوئل شرکت کر رہے ہیں وہ ناصرف پاکستان کی سیکیورٹی کے وژن پر بحث کریں گے بلکہ یہ آئیڈیا بھی مرتب کریں گے کہ ہم پاکستان کے مستقبل کے چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔
پاکستان میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کے انعقاد کی ضرورت کو محسوس کرنے پر نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو سراہنا چاہتا ہوں اور مجھے امید ہے دانشورانہ سوچ اور پالیسی سازی کے انضمام کے اس رجحان کو جاری رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاک افغان بارڈر پر مارکیٹوں کا قیام عمل میں لایا گیا جب کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ پاکستان کی کوششوں سے ہوا۔ ہم نے افغانستان کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنا سامان بھارت تک پہنچا سکے۔
افغانستان کو سی پیک کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی ہے۔ سارک کی بحالی کے لیے ہماری کوششوں کا مقصد بھی خطے میں امن و استحکام ہے تاہم عالمی طاقتوں کو اس ضمن میں اپنا بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جنگ زدہ اور غیر مستحکم خطے کے بجائے معاشی طور پر مربوط جنوبی ایشیا ان کے لیے یقیناً زیادہ مفید ہوگا۔ سی پیک اہم اقتصادی منصوبہ ہے لیکن پاکستان کو صرف سی پیک کی آنکھ سے دیکھنا گمراہ کن ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سی پیک سے خطے کے کروڑوں انسانوں کا اقتصادی اور معاشی مستقبل وابستہ ہے، یہ منصوبہ پاک چین دوستی کا علمبردار اور نوع انسانی کے مشترکہ مستقبل سے منسلک ہے، بھارت اس خطے کے مقاصد سے پیوستہ معاشی خوابوں کی تعبیر کو سمجھے اور اس سے منسلک ملکوں سے تعاون اور اشتراک عمل میں ترقی، خوشحالی اور امن و آشتی کے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ناگزیر سمجھتے ہوئے اس کی کامیابی میں بدگمانی کا شکار نہ ہو۔
پاکستان امن اور ترقی کے لیے چین سے پیمان وفا باندھے ہوئے ہے، سیاست عالمی مفادات کی اندھی دوڑ میں الجھی ہوئی ہے، اسلحہ کی دوڑ میں کروڑوں بیروزگاروں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں، متحارب ملک اربوں کے مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے، سیاسی مفکرین جانتے ہیں کہ انسانی انحطاط میں تہذیبی زوال ہی مضمر ہے، خطے کے کروڑوں بھکاریوں کی تعداد کسی شمار قطار میں نہیں لیکن جنگ زدہ ملکوں میں بھوک، بیماری، غربت اور مہنگائی نے ریاستی کشکول کو عالمگیر بنا دیا ہے، ایسی سچویشن میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی اس اپیل کا دائرہ خطے سے بالاتر ہے، یہ آفاقی اپیل ہے، جسے پاک بھارت سیاسی و عسکری قیادت مستقبل کے اشتراک اور امن و ثالثی کی قابل دید نظیر بنا سکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اوپن ڈائیلاگ کے بریک تھرو کی اور ثالثی کو بروئے کار لانے میں فیصلہ کن پیش قدمی کی کاوش کی۔ مگر اب ضرورت مشترکہ مقاصد کو فوقیت دینا ہے، پاکستان نے ایک بار پھر خطے کو جنگی جنون اور تصادم و تباہی سے بچانے کی کوشش کی ہے، بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے غیر فوجی حل کے لیے خطے کے مظلوم عوام کے دکھوں میں ساتھ دے، سوچے کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔
ملکی سیاست، سفارتکاری کی تاریخ اور قوموں کے تعلقات کا ارتقائی منظرنامہ اس انداز نظر کے سامنے ایک نئی سوچ کا پیامبر ہے، یہ سوچ نئے عہد کی فکر کو ہمسائیگی کے نئے درد، حقیقت کے نئے رمز اور سیاست سے آشنا کرنے کا ایک وجدانی موقع ہے، آرمی چیف نے وقت کے سیاسی جمود کو توڑا ہے، پاکستان اور بھارت سمیت کشمیر کے دیرینہ تنازع کو نئی معنویت دینے کی صائب کوشش کی ہے، سیاسی مبصرین کے لیے عسکری قیادت کی جانب سے ایک نیا خیال سامنے آیا ہے، عملیت پسندی کی سوچ کو مہمیز ملی ہے۔
سیاستدانوں، سفارتکاروں اور دانشوروں کے لیے آؤٹ آف باکس غور و فکر کا کوئی غیر روایتی پیغام آیا ہے، اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کا خیال آ گیا ہے لہٰذا اب سیاسی و عسکری قیادت مل کر قوم کے سامنے زمینی، تزویراتی ، سیاسی اور دوطرفہ تاریخی مکالمہ کی راہ ہموار کریں، گھر اندر سے ٹھیک ہوگا تو بات چیت امن، مفاہمت ، ثالثی اور افہام و تفہیم سے ہوسکے گی، گلے شکوؤں کی بزم بھی سجے گی، رنجشیں بڑھی ہوئی نظر آئیں گی، بھارت کو شاید اپنے بند دریچے کھولنے کی تیاری میں کچھ دیر لگے ، اب تک پاک بھارت مکالمہ کی جتنی کوششیں ہوئی ہیں۔
ان کی کہانیوں پر وقت کی بہت ساری گرد جمع ہے اس کی چھان پھٹک میں وقت تو لگے گا لیکن جہاں زیرک و نکتہ چیں سیاسی اذہان و دو ہمسایوں کے بیچ اعتماد، یقین، خلوص اور نیک نیتی سے مسائل ، تنازعات اور بدگمانیوں کے خاتمہ کے لیے تحمل اور خیر سگالی سے بات چیت کی دعوت کی بات ہے، سب کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔
سنجیدہ سیاست دانوں کو بریک تھرو کرنا ہوگا، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خطے کے دو ہمسائے نیک نیتی سے جمع ہوں اور کشمیر کے مسئلہ کے سیاسی حل کے لیے دل و دماغ کی پلیٹ صاف کرکے ایک دوسرے کے رو برو بیٹھ جائیں۔
مذاکرات کریں اور کروڑوں انسانوں کے سیاسی اور معاشی حقیقتوں پر ایک تاریخ ساز اور گلیشیئر توڑ فیصلہ کریں، ایٹمی جنگ پرامن، انصاف، ترقی، خوشحالی اور پرامن بقائے باہمی کے کسی ایسے میثاق پر متفق ہوں جس میں مکالمہ Dialogue کی روح اور سیاسی و فکری اساس کی بنیاد جموں و کشمیر کے سات دہائیوں پر مشتمل انسانی دکھوں کے اجتماعی المیوں کی پائیدار پیش رفت ہو۔ اس مکالمہ پر اہل کشمیر کی نظر مرکوز ہے۔
یہ ایک ویک اپ کال دورانیہ ہے۔ پاک بھارت جمہوری، سیاسی اور روشن خیال حکمراں طاقتیں فسانہ و حقیقت کے سیاہ خانہ سے نکل کر دن کی روشنی میں تاریخ سے کھلا مکالمہ کریں، بے فیض سفارت کاری کی گرد جھاڑ کر پاک بھارت تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں، مسائل و تنازعات کا کوئی حل بامعنی مذاکرات کے ذریعے نکالیں، امن عمل شروع ہونے کے لیے سازگار حالات پیدا کریں، پاکستان کے بری فوج کے سربراہ کا انداز فکر صائب ہے کہ ہمارے ہمسائے کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔
ہمارے ہمسائے کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہوگا کیونکہ مستحکم پاک و ہند تعلقات مشرقی اور مغربی ایشیا کو قریب لاسکتے ہیں۔ یہاں نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ وقت کی اہم ضرورت ہے، آج دنیا کو مختلف طرز کی دہشتگردی کا سامنا ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمہ جہت حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان خطے میں سیکیورٹی خطرات کے باوجود دفاع پر کم خرچ کر رہا ہے۔
سیکیورٹی پر اخراجات بڑھانے سے انسانی ترقی کی قربانی دینا پڑتی ہے جب کہ جارح پڑوسی کی موجودگی کے باوجود پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔ نیشنل سیکیورٹی کو یقینی بنانا صرف افواج کا کام نہیں، نیشنل سیکیورٹی کثیر الجہتی ہوتی ہے اس میں قوم کا اہم کردار ہوتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل جدوجہد کے بعد منزل کے قریب ہیں، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دی جا رہی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے اہم کردار ادا کیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہمارے عزم کی عکاس ہے۔
دنیا نے عالمی جنگ اور سرد جنگ کی تباہ کاریاں دیکھی ہیں جس میں پولرائزیشن اور اخلاقی برتری کو نظرانداز کرنے کی غلطی نے مستقبل کو دھندلا دیا اور انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آئے، اس کے برعکس ہم نے دیکھا کہ کس طرح کثیرالجہتی اصول پر مبنی پلیٹ فارمز نے بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے کام کیا۔
گزشتہ برسوں کے ناکام تجربات کے حوالے سے بات کرنا غیر منطقی ہے۔ ہم نے ماضی سے سیکھا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں، غیر حل شدہ تنازعات غربت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جنوبی ایشیا میں دنیا کی ایک تہائی آبادی ہے۔ چاہتے ہیں کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔
بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمے داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے، ہمارے پڑوسی ملک کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول بنانا ہو گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں غیر حل شدہ مسائل کی وجہ سے پورا خطہ ترقی پذیر اور غربت کا شکار ہو گیا ہے، یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا تجارت، انفرا اسٹرکچر، پانی اور توانائی میں تعاون کے لحاظ سے دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔
یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاصر تصور کا مقصد صرف کسی ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے ہی محفوظ کرنا نہیں بلکہ ایسا موزوں ماحول بھی فراہم کرنا ہے جس میں انسانی سیکیورٹی، قومی پیشرفت اور خوشحالی کا احساس کیا جا سکے۔ آرمی چیف کے مطابق آج کوئی بھی قوم اکیلے سیکیورٹی مسائل کو حل نہیں کر سکتی کیونکہ آج دنیا کو بھی جن سیکیورٹی مسائل یا الجھنوں کا سامنا ہے۔
ان کا عالمی اور علاقائی حرکیات سے گہرا تعلق ہے، چاہے وہ انسانی سیکیورٹی ہو، انتہا پسندی، انسانی حقوق، ماحولیاتی نقصانات، معاشی تحفظ ہو یا وبا، اب اکیلے ان مسائل سے نمٹنا حل نہیں رہا۔ آج بھی ہمارے پاس انتخاب کے یکساں مواقع ہیں، اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم ماضی کی کشمکش اور زہریلے تنازعات کو فروغ دے کر جنگ، بیماری اور تباہی کی طرف مائل ہوتے ہیں یا آگے بڑھتے ہوئے اپنے لوگوں کو تکنیکی اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کر کے خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کی شروعات کرتے ہیں۔
پاکستان خطے میں ایک ذمے دار ملک ہے، پاکستان کی جیوپولیٹیکل حیثیت معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے۔ آرمی چیف نے کہا پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغوں کی موجودگی میں اس تقریب کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے مجھے امید ہے کہ جو دانشور اور اسکالر یہاں موجود ہیں اور ورچوئل شرکت کر رہے ہیں وہ ناصرف پاکستان کی سیکیورٹی کے وژن پر بحث کریں گے بلکہ یہ آئیڈیا بھی مرتب کریں گے کہ ہم پاکستان کے مستقبل کے چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔
پاکستان میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کے انعقاد کی ضرورت کو محسوس کرنے پر نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو سراہنا چاہتا ہوں اور مجھے امید ہے دانشورانہ سوچ اور پالیسی سازی کے انضمام کے اس رجحان کو جاری رکھا جائے گا۔ انھوں نے کہا افغانستان میں امن خطے میں امن کی ضمانت ہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے، پاک افغان بارڈر پر مارکیٹوں کا قیام عمل میں لایا گیا جب کہ امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ پاکستان کی کوششوں سے ہوا۔ ہم نے افغانستان کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنا سامان بھارت تک پہنچا سکے۔
افغانستان کو سی پیک کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی ہے۔ سارک کی بحالی کے لیے ہماری کوششوں کا مقصد بھی خطے میں امن و استحکام ہے تاہم عالمی طاقتوں کو اس ضمن میں اپنا بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جنگ زدہ اور غیر مستحکم خطے کے بجائے معاشی طور پر مربوط جنوبی ایشیا ان کے لیے یقیناً زیادہ مفید ہوگا۔ سی پیک اہم اقتصادی منصوبہ ہے لیکن پاکستان کو صرف سی پیک کی آنکھ سے دیکھنا گمراہ کن ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ سی پیک سے خطے کے کروڑوں انسانوں کا اقتصادی اور معاشی مستقبل وابستہ ہے، یہ منصوبہ پاک چین دوستی کا علمبردار اور نوع انسانی کے مشترکہ مستقبل سے منسلک ہے، بھارت اس خطے کے مقاصد سے پیوستہ معاشی خوابوں کی تعبیر کو سمجھے اور اس سے منسلک ملکوں سے تعاون اور اشتراک عمل میں ترقی، خوشحالی اور امن و آشتی کے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ناگزیر سمجھتے ہوئے اس کی کامیابی میں بدگمانی کا شکار نہ ہو۔
پاکستان امن اور ترقی کے لیے چین سے پیمان وفا باندھے ہوئے ہے، سیاست عالمی مفادات کی اندھی دوڑ میں الجھی ہوئی ہے، اسلحہ کی دوڑ میں کروڑوں بیروزگاروں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں، متحارب ملک اربوں کے مہلک ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے، سیاسی مفکرین جانتے ہیں کہ انسانی انحطاط میں تہذیبی زوال ہی مضمر ہے، خطے کے کروڑوں بھکاریوں کی تعداد کسی شمار قطار میں نہیں لیکن جنگ زدہ ملکوں میں بھوک، بیماری، غربت اور مہنگائی نے ریاستی کشکول کو عالمگیر بنا دیا ہے، ایسی سچویشن میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی اس اپیل کا دائرہ خطے سے بالاتر ہے، یہ آفاقی اپیل ہے، جسے پاک بھارت سیاسی و عسکری قیادت مستقبل کے اشتراک اور امن و ثالثی کی قابل دید نظیر بنا سکتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اوپن ڈائیلاگ کے بریک تھرو کی اور ثالثی کو بروئے کار لانے میں فیصلہ کن پیش قدمی کی کاوش کی۔ مگر اب ضرورت مشترکہ مقاصد کو فوقیت دینا ہے، پاکستان نے ایک بار پھر خطے کو جنگی جنون اور تصادم و تباہی سے بچانے کی کوشش کی ہے، بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے غیر فوجی حل کے لیے خطے کے مظلوم عوام کے دکھوں میں ساتھ دے، سوچے کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں۔