ترسیلات زربڑھا کرقرضوں سے جان چھڑائی جاسکتی ہےزبیرملک

قرضوں پرسالانہ 3 ارب ڈالرسود ناقابل برداشت ہے،اوورسیز پاکستانیوں کو مراعات دی جائیں،صدر ایف پی سی سی آئی

قانونی ترسیلات زربھجوانے کاعمل آسان بناکرمالی مشکلات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا ہے کہ دیار غیر میں مقیم پاکستانی ہمارے ہیرو ہیں، انھیں مراعات، ترغیبات اور ووٹ ڈالنے کا حق دے کر قومی دھارے میں شامل کیا جائے ۔

تاکہ ملکی ترقی میں ان کا کردار بڑھایا جا سکے، برآمدات کے بعد ترسیلات ہی ہماری آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اور سماجی ترقی کا اہم سبب ہیں جن کا حصہ جی ڈی پی میں ساڑھے 5 فیصد ہے، بیرونی امداد کے لیے انتھک کوششوں کے بجائے اس شعبے کو توجہ دی جائے کیونکہ سالانہ 14 ارب ڈالر بھیجنے والے نہ شرائط لگاتے ہیں اور نہ جواب میں کچھ مانگتے ہیں۔ زبیر احمد ملک نے فیڈریشن ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو سالانہ تقریباً 3 ارب ڈالر بطور سود ادا کیے جا رہے ہیں جو معیشت کے لیے ناقابل برداشت ہیں اس لیے قرض ادا کرنے کے لیے مزید قرض لیا جاتا ہے۔




جس کا حل ترسیلات میں موجود ہے جو دائمی، بین الاقوامی اتار چڑھاؤ یا پابندیوں، بدانتظامی اور کرپشن وغیرہ کے اثرات سے مستثنیٰ ہیں، پاکستانیوں نے مالی سال 2012 میں13.18ارب ڈالر اور مالی سال 2013 میں 13.9 ارب ڈالر بھجوائے جس میں رواں سال 10فیصد اضافہ متوقع ہے جس میں سب سے زیادہ حصہ گزشتہ برسوں کی طرح خیبر پختونخوا کے بھائیوں کا ہو گا جن کی وجہ سے پاکستان کا شمار ترسیلات زرکے حوالے سے سرفہرست 10ممالک میں ہوتا ہے۔ زبیر احمد ملک نے کہا کہ اگر قانونی ذرائع سے ترسیلات زربھجوانے کے عمل کو سہل بنایا جائے تو ملک کی مالی مشکلات میں زبردست کمی آ سکتی ہے۔
Load Next Story