مشرف کی میڈیکل رپورٹ پر فیصلہ آج سنایا جائے گا

خصوصی عدالت ملزم کے وارنٹ جاری کرسکتی ہے، اکرم شیخ، ضابطہ فوجداری پر فیصلہ کل سنایا جائے گا، شریف الدین پیرزادہ

اس ایکٹ کے مختلف سیکشنوں کے تحت کسی ملزم کے رضاکارانہ بیان کو یقینی بنانے کیلیے ضابطہ فوجداری پر عمل کیا جائے گا،اکرم شیخ۔ فوٹو: فائل

خصوصی عدالت پرویزمشرف کیخلاف غداری کیس میں سابق صدر کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے فیصلہ آج (جمعرات کو) سنائے گی جبکہ خصوصی عدالت پر ضابطہ فوجداری کے اطلاق کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو کل (جمعے کو) سنایا جائے گا۔

بدھ کو سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب ، جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس یاور علی پر مشتمل3 رکنی خصوصی عدالت نے کی۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے خصوصی عدالت پر ضابطہ فوجداری کے اطلاق کے حوالے سے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میںخصوصی قوانین کے تحت ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے، خصوصی عدالت کے قانون میں کوئی سقم نہیں، اگر کہیں کوئی کمی ہے تو وہاں عمومی اور ریاستی قوانین کا اطلاق ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ہر مقدمے کی نوعیت مختلف ہوتی ہے جس کے تحت متعلقہ عدالت اس کی سماعت کرتی ہے، اس کیس کی کارروائی فوجداری نوعیت کی ہے لیکن وکلائے صفائی کی درخواستوں اوراعتراضات سے لگتا ہے کہ خصوصی عدالت کوکوئی اختیارات حاصل نہیں اوراس کادائرہ کار بھی بہت محدود ہے۔

اکرم شیخ نے آرمی ایکٹ کا بھی حوالہ دیا اورکہا کہ اس ایکٹ کے مختلف سیکشنوں کے تحت کسی ملزم کے رضاکارانہ بیان کو یقینی بنانے کیلیے ضابطہ فوجداری پر عمل کیا جائے گا، ضابطہ فوجداری کے قوانین کو اس طرح بروئے کارلایاجائے جو خصوصی عدالت کی گاڑی کو آگے لے کرچلتا بنے یعنی جس طرح وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کو کہیں اور نہیں بلکہ صرف وہیں چیلنج کیا جاسکتا ہے، یہی صورت خصوصی عدالت کیلیے ہے جس کے فیصلے صرف اسی کے پاس چیلنج کیے جاسکتے ہیں تاہم عدالت نے درستگی کرتے ہوئے واضح کیاکہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں چیلنج کیے جاسکتے ہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے ان سے کہا کہ وہ صرف ان مقدمات کا حوالہ دیں جو اس مقدمہ سے متعلق ہیں۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ عدالت کی معاونت کرتے ہوئے متعلقہ مقدمات کے حوالے دیں، میں نے اپنے دلائل میں عام قوانین اورخصوصی قوانین کے فرق کوواضح کردیاہے اور جہاں خصوصی قوانین میں خلا ہو اسے عام قوانین پوراکرتے ہیں۔ اکرم شیخ نے کہاکہ اس اہم مقدمے کی شفاف سماعت کے خواہاں ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام مل سکے کہ شفاف ٹرائل ہوا ہے اور پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں۔




جسٹس فیصل عرب نے ان سے استفسار کیاکہ خصوصی عدالت کے پاس ملزم کی ضمانت کا اختیار ہے؟ تو اکرم شیخ نے کہاکہ خصوصی عدالت کو ہائیکورٹ کو حاصل اختیارات کے سوا دیگر تمام اختیارات حاصل ہیں کیونکہ اسلام آباد میں بیک وقت2 ہائی کورٹ کام نہیں کرسکتیں۔ جسٹس فیصل عرب نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ قانون میں ضمانت کی کوئی گنجائش نہیں کیا اس پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق ہوتا ہے؟ تو اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت کو ملزم کے وارنٹ جاری کرنے اور عدالت میں پیش کرنے کا طریقہ کار دیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کا 1975 کا ایکٹ بھی موجودہ ایکٹ کی نوعیت کا ہی تھا جبکہ سپریم کورٹ بھی یہ قرار دے چکی ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت جرائم کو ضابطہ فوجداری کے تابع کیا گیا ہے۔ اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ خصوصی عدالت ایکٹ کی دفعہ 13 میں کہا گیا ہے کہ اس پر ضابطہ فوجداری کا اطلاق نہیں ہوگا، خصوصی عدالت وارنٹ جاری کرسکتی ہے اور نہ گرفتاری کا حکم دے سکتی ہے۔

وکلاء صفائی کے رکن ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ پرویز مشرف کا ٹرائل صرف ملٹری کورٹ میں کیا جاسکتاہے، دوسری کوئی عدالت اس کا ٹرائل کرنے کی مجاز نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت آج تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے بتایاکہ پرویز مشرف کی بیماری کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ کا فیصلہ آج سنایاجائیگا جبکہ ضابطہ فوجداری کے متعلق فیصلہ کل کیا جائیگا۔ آن لائن کے مطابق دوران سماعت پراسیکیوٹر اکرم شیخ اور سابق صدر کے وکلاء کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ جاری رہا، روسٹرم پر موجود اکرم شیخ نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ انہیں گرم پانی پینے کی اجازت دی جائے جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ اپ گرم پانی پیئں یا ٹھنڈا یہ اپ کی مرضی ہے۔ کچھ دیر بعد اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں دلائل مکمل کرنے کے لئے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا جبکہ دوسرے فریق کو 100گھنٹے دیدیئے گئے۔ اس پر پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فاضل دوست اکرم شیخ گرم پانی پی کر ماحول کو گرما دیتے ہیں۔

دوسری طرف سابق صدر پرویز مشرف کے وکلاء نے اے ایف آئی سی میں ان سے پہلی ملاقات کی۔ ملاقات میں قانونی امور پر مشاورت کی گئی۔ بدھ کو نجی ٹی وی کے مطابق پرویز مشرف کے وکلاء شریف الدین پیرزادہ، انور منصور اور ابراہیم ستی نے ان سے اے ایف آئی سی میں پہلی ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی اور اس میں وکلاء نے پرویز مشرف کو خصوصی عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران جو باتیں ہوچکی ہیں ان سے آگاہ کیا اور آئندہ کارروائی کیلئے قانونی امور پر مشاورت کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق مشرف نے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست کی بعض دستاویزات پر دستخط کیے اور خصوصی عدالت میں چلنے والے غداری کے مقدمہ کے حوالے سے ان کو ہدایات دیں۔
Load Next Story