قرارداد پاکستان تجدیدِ عہدِ وفا

پوری قوم نے جس قومی وملی جذبے سے سرشارہوکر یہ دن منایا، وہ لائق تحسین ہے۔

پوری قوم نے جس قومی وملی جذبے سے سرشارہوکر یہ دن منایا، وہ لائق تحسین ہے۔ فوٹو:فائل

قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی جوسات برس کے مختصر عرصہ میں اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی، 23 مارچ کا دن ہر سال اہل پاکستان کو اس جذبے کی یاد دلاتا ہے جو قیام پاکستان کا باعث بنا۔

پاکستان ایک جمہوری جدوجہد کے ذریعے وجود میں آیا، وطن کی سلامتی، ترقی وخوشحالی کا رازجمہوریت میں پوشیدہ ہے، آئینی وقانونی بالادستی کے بغیرہم آبرومند نہیں ہوسکتے۔ پوری قوم نے جس قومی وملی جذبے سے سرشارہوکر یہ دن منایا، وہ لائق تحسین ہے، گو کہ یوم پاکستان کی خصوصی فوجی پریڈ موسم کی خرابی کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑی ،جو اب پچیس مارچ کو منعقد ہوگی ۔

بلاشبہ قرارداد پاکستان نے تحریک پاکستان میں نئی روح پھونک دی تھی جس سے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا۔ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں۔انگریز و ہندو سے تنگ مسلمانوںنے اپنے قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کے لیے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔

علامہ اقبال نے 1937کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انھیں مخاطب کرکے کہا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے،اس پیغام کو محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لیے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزارا ممکن نہیں اور ہندو کے ساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔

اس لیے قیام پاکستان کے لیے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں۔مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22اور 23 مارچ 1940کو طے تھا جسے رکوانے کے لیے برٹش انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان یہ جلسہ نہ کرسکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لیے ناممکن تھا، سو 19 مارچ کو خاکسار تحریک کے کارکنوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے پر عزم تھے۔

21مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، قائد اعظم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے اسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کے ساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔

قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظریے کو اجاگر کرنا تھا اس لیے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہٰذا یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لیے الگ ملک پاکستان بنائیں گے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں گے۔

قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق ،چوہدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا،اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نہ ہوا تھا ۔ بنگال کے وزیر اعظم اے کے فضل الحق نے قراردادِ لاہور پیش کی اور اس کی تائید میں تقریر کی۔ چوہدری خلیق الزمان نے اس قرارداد کی تائید کی اور مختصر سا خطاب کیا۔


اجلاس کے دوران اس قرارداد کو ''آئینی قرارداد'' کہا گیا اور بعد میں لیگ نے قراردادِ لاہور کا نام دیا، جس کو ہندو پریس نے طنزیہ طور پر ''قرارداد پاکستان'' کے نام سے پکارنا شروع کر دیا تھا۔یہی وہ تاریخی دن ہے جب مسلمانان ہند نے اپنی منزل کا تعین کیا،درحقیقت یہ دن پاکستان بننے کی بنیاد ہے۔بھارت کو یہ زعم تھا کہ قیام پاکستان کے وقت انگریزوں کے ساتھ مل کر علاقوں اور اثاثوں کی غیرمنصفانہ تقسیم کے پس محرک وہ پاکستان کی بقاء کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔

اس کو یہ خوش فہمی تھی کہ پاکستان ایک دن بھی اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکے گا اور پھر سے ہندوستان میں شامل ہوجائے گا لیکن قائد اعظم کی سیاسی بصیرت نے اس کی سازش کو ناکام بنا دیا۔یہی وجہ ہے کہ 23مارچ 1940کو قراردادِ پاکستان منظور کرنے کے چند دن بعد قائداعظم نے علامہ اقبال کی برسی کے حوالے سے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ ہم نے وہ کام کر دکھایا جو وہ چاہتے تھے۔ اِسی نظریاتی پسِ منظر میں قائداعظم نے 1944 میں علی گڑھ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اسی روز معرضِ وجود میں آگیا تھا جس روز ہندوستان کی سرزمین پر پہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ قائد اعظم نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی وضاحت کی کہ وہ پاکستان کیوں اور کیسا چاہتے ہیں۔

قوموں کی باوقار زندگی اور ان کی ترقی کا انحصار مقاصد سے وابستہ ہے اگر ان کی جدوجہد اورکوشش حصول مقاصد کی خاطر ہوتو عزم وہمت کو بلند کر دیتی ہے اور اگر منزل پر پہنچنے کے بعد مقاصد فراموش کردیے جائیں تو قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔کچھ خواب وقت کی دھول میں کھو سے گئے، جن کو پورا کرنا اب بھی باقی ہے۔

وہ خواب کیا تھے کہ ہر شخص کو مکمل آزادی حاصل ہو لیکن بدقسمتی سے آزادی کا لفظ کہیں گم ہوگیا ہے۔آج پاکستان ناقص پالیسیوں کی بدولت مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ملک میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، معاشی واقتصادی سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں ، ملک میں بیروزگاری خطرناک حدوں کو چھورہی ہے،عوام مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہوچکے ہیں ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو شدید سیاسی تناؤ پیدا ہوچکا ہے ، اس کے مضر اثرات ملک پر مرتب ہورہے ہیں ۔ہمیں دنیا کو دِکھانا ہو گا کہ ہم وہی قوم ہیں جِس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا۔ ہم وہی قوم ہیں جِس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کر کے دِکھا دیا تھا۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ، آج بھارت کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جس سے پاکستان کو نقصان نہ پہنچ رہا ہو۔ بھارتی میڈیا آئے دن پاکستان کے خلاف زہر اْگلتا رہتا ہے۔ یہ ایسا کرتا کیوں ہے اس وجہ سے کہ شروع ہی سے اس کو پاکستان کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

بھارت نے سازش کے ذریعے ہمارا مشرقی بازو 1971 میں ہم سے جدا کردیا اور آج بھی مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ، انسانی تاریخ کا سب سے طویل ترین لاک ڈاؤن کشمیرمیں نافذ کررکھا ہے ۔ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جو بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔

خطے کے موجودہ حالات خصوصاً کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں پر جاری مسلسل آزمائش اور ہندو مظالم ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ہم قیام پاکستان کے مقاصد کو ازسرنو اپنے قومی ایجنڈے کا حصہ بنائیں اور اپنی تمام انفرادی اور قومی ترجیحات ان مقاصد کی روشنی میں طے کریں۔

نہ صرف ایشیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو جو امن عالم کے قیام کے حوالے سے کردار ادا کرنا ہے اس کے راستے میں حائل علاقائی اور بین الاقوامی دشواریوں پر اسی صورت میں قابو پایا جا سکتا ہے کہ پاکستان سیاسی معاشی اور سماجی طور پر مستحکم ہو۔ ہمیں تجدیدِ عہدِ وفا کرتے ہوئے قرارداد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائداعظم اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پھر سے ایک قوم بننا ہو گا۔
Load Next Story