الیکشن کمیشن سے ارکان کی جعلی ڈگریوں کی تفصیل طلب
عارف گل کے وکیل کوفیصلے سے متاثرہونے والوں کی فہرست تیارکرنے کی ہدایت
غلام سرورکیس سے چیف جسٹس تصدق الگ،مقدمہ دوسرے بینچ میں لگانے کاحکم فوٹو: فائل
MUZAFFARGARH:
عدالت عظمیٰ نے جعلی ڈگریوں کے بارے میں مقدمے کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
عدالت نے پنجاب اسمبلی کے رکن عارف محمودگل کے وکیل کوجعلی ڈگری کیس کے فیصلے سے متاثرہونے والے تمام افرادکی فہرست تیارکرنے اورایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاورکو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سابق وفاقی وزیرغلام سرورخان کے مقدمے سے خودکو الگ کرلیا اورکیس کسی دوسرے بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس بارے میں ایک کیس پروہ ہائیکورٹ میں فیصلہ دے چکے ہیں۔
اس لیے اس کیس کو دوبارہ سننا مناسب نہیں ہوگا۔ غلام سرورکے وکیل حفیظ پیرزادہ نے مخالفت کی اورکہا کہ ہائیکورٹ میں معاملہ 2003میں زیربحث آیاتھا اوروہ ایک مختلف کیس تھا۔حفیظ پیرزادہ نے الزام لگایاکہ ان کے موکل کامعاملہ مکمل سیاسی ہے۔ ٹیکنیکل بورڈکے چیئرمین کو وزیراعلیٰ ہاؤس بلاکر ان سے ڈپلومامنسوخ کرایاگیا ۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں کے حوالے سے 7روز میں الیکشن کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ واضح رہے کہ غلام سرورخان این اے54 ٹیکسلاسے تحریک انصاف کے ٹکٹ پرمنتخب ہوئے تھے۔ غلام سرورخان کی ڈگری کوحلقے کے ووٹرغلام قمرنے چیلنج کررکھاہے۔
عدالت عظمیٰ نے جعلی ڈگریوں کے بارے میں مقدمے کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
عدالت نے پنجاب اسمبلی کے رکن عارف محمودگل کے وکیل کوجعلی ڈگری کیس کے فیصلے سے متاثرہونے والے تمام افرادکی فہرست تیارکرنے اورایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاورکو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سابق وفاقی وزیرغلام سرورخان کے مقدمے سے خودکو الگ کرلیا اورکیس کسی دوسرے بینچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اس بارے میں ایک کیس پروہ ہائیکورٹ میں فیصلہ دے چکے ہیں۔
اس لیے اس کیس کو دوبارہ سننا مناسب نہیں ہوگا۔ غلام سرورکے وکیل حفیظ پیرزادہ نے مخالفت کی اورکہا کہ ہائیکورٹ میں معاملہ 2003میں زیربحث آیاتھا اوروہ ایک مختلف کیس تھا۔حفیظ پیرزادہ نے الزام لگایاکہ ان کے موکل کامعاملہ مکمل سیاسی ہے۔ ٹیکنیکل بورڈکے چیئرمین کو وزیراعلیٰ ہاؤس بلاکر ان سے ڈپلومامنسوخ کرایاگیا ۔آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں کے حوالے سے 7روز میں الیکشن کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ واضح رہے کہ غلام سرورخان این اے54 ٹیکسلاسے تحریک انصاف کے ٹکٹ پرمنتخب ہوئے تھے۔ غلام سرورخان کی ڈگری کوحلقے کے ووٹرغلام قمرنے چیلنج کررکھاہے۔