مشرف کے معاملے میں کوئی دباؤقبول نہ کیا جائے منورحسن

آئین وقانون کی پاسداری کی جائے،جن معاشروں میں انصاف نہ ہووہ قائم نہیں رہ سکتے

عوام کوکنفیوزکردیاگیا،مشرف کوکوئی ایسی بیماری نہیں جس کا ملک میں علاج نہ ہو فوٹو: فائل

امیرجماعت اسلامی سید منورحسن نے کہاہے کہ ملک بھرمیں پرویزمشرف کامقدمہ اوربیماری موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ عوام کوکنفیوژن میں ڈال دیا گیاہے۔

پرویزمشرف کے معاملے میں آئین وقانون کی پاسداری کی جائے اور کسی قسم کااندرونی وبیرونی دباؤقبول نہ کیاجائے۔ اگرایسا کیاگیا توعوام یہ سمجھنے میںحق بجانب ہوں گے کہ یہاں کمزور کے لیے ایک قانون اورطاقتور کے لیے دوسراقانون ہے۔ یہ صورتحال ملک وقوم دونوں کیلیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ جن معاشروں میں انصاف نہ ہو، وہ قائم نہیں رہ سکتے۔ منصورہ میں کارکنوں سے گفتگوکرتے ہوئے سید منورحسن نے کہاکہ ڈاکٹروں کی رائے میں پرویزمشرف کوکوئی ایسی بیماری لاحق نہیں ہے جس کایہاں علاج ممکن نہ ہو۔




گوعدالت اس بارے میں فیصلہ کرے گی لیکن ان کے وکلاکے اس اصرارسے کہ ان کاعلاج بیرون ملک ہی ہوسکتاہے، اندازہ لگایاجا سکتاہے کہ یہ سارامنصوبہ انھیں ملک سے فرارکرانے کے لیے بنایا گیاہے۔ انھوں نے کہاکہ پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان کی جان کوخطرہ ہے اوراس کے لیے ان کی رہائش گاہ کے قریب بم اوراسلحہ برآمدہوتے رہے۔ اب عدالت جاتے ہوئے راستے میں اچانک بیماری کاواقعہ پیش آیا جس سے شبہات تو بہرحال پیداہوئے ہیں۔ اگرواقعی وہ بیمارہیں توان کاعلاج ہوناچاہیے۔ محض بیرون ملک علاج کابہانہ بناکر انھیں ملک سے فرارنہیں کراناچاہیے۔
Load Next Story